YouVersion Logo
Search Icon

یرمِیاہ 27

27
یَرمِیاہ جُؤا پہنتا ہے
1شاہِ یہُوداؔہ صِدقیاؔہ بِن یوسیاؔہ کی سلطنت کے شرُوع میں خُداوند کی طرف سے یہ کلام یَرمِیاؔہ پر نازِل ہُؤا۔ 2کہ خُداوند نے مُجھے یُوں فرمایا کہ بندھن اور جُوئے بنا کر اپنی گردن پر ڈال۔ 3اور اُن کو شاہِ ادُوؔم۔ شاہِ موآب۔ شاہِ بنی عمُّون شاہِ صُور اور شاہِ صیدا کے پاس اُن قاصِدوں کے ہاتھ بھیج جو یروشلیِم میں شاہِ یہُوداؔہ صِدقیاہ کے پاس آئے ہیں۔ 4اور تُو اُن کو اُن کے آقاؤں کے واسطے تاکِید کر کہ ربُّ الافواج اِسرائیل کا خُدا یُوں فرماتا ہے کہ تُم اپنے آقاؤں سے یُوں کہنا۔ 5کہ مَیں نے زمِین کو اور اِنسان و حَیوان کو جو رُویِ زمِین پر ہیں اپنی بڑی قُدرت اور بُلند بازُو سے پَیدا کِیا اور اُن کو جِسے مَیں نے مُناسِب جانا بخشا۔ 6اور اب مَیں نے یہ سب مُملکتیں اپنے خِدمت گُذار شاہِ بابل نبُوکدؔنضر کے قبضہ میں کر دی ہیں اور مَیدان کے جانور بھی اُسے دِئے کہ اُس کے کام آئیں۔ 7اور سب قَومیں اُس کی اور اُس کے بیٹے اور اُس کے پوتے کی خِدمت کریں گی جب تک کہ اُس کی مُملکت کا وقت نہ آئے۔ تب بُہت سی قَومیں اور بڑے بڑے بادشاہ اُس سے خِدمت کروائیں گے۔
8اور خُداوند فرماتا ہے جو قَوم اور جو سلطنت اُس کی یعنی شاہِ بابل نبُوکدؔنضر کی خِدمت نہ کرے گی اور اپنی گردن شاہِ بابل کے جُوئے تلے نہ جُھکائے گی اُس قَوم کو مَیں تلوار اور کال اور وبا سے سزا دُوں گا یہاں تک کہ مَیں اُس کے ہاتھ سے اُن کو نابُود کر ڈالُوں گا۔ 9پس تُم اپنے نبِیوں اور غَیب دانوں اور خواب بِینوں اور شگُونِیوں اور جادُوگروں کی نہ سُنو جو تُم سے کہتے ہیں کہ تُم شاہِ بابل کی خِدمت گُذاری نہ کرو گے۔ 10کیونکہ وہ تُم سے جُھوٹی نبُوّت کرتے ہیں تاکہ تُم کو تُمہارے مُلک سے آوارہ کریں اور مَیں تُم کو خارِج کر دُوں اور تُم ہلاک ہو جاؤ۔ 11پر جو قَوم اپنی گردن شاہِ بابل کے جُوئے تلے رکھ دے گی اور اُس کی خِدمت کرے گی اُس کو مَیں اُس کی مُملکت میں رہنے دُوں گا خُداوند فرماتا ہے اور وہ اُس میں کھیتی کرے گی اور اُس میں بسے گی۔
12اور اِن سب باتوں کے مُطابِق مَیں نے شاہِ یہُوداؔہ صِدقیاہ سے کلام کِیا اور کہا کہ اپنی گردن شاہِ بابل کے جُوئے تلے رکھ کر اُس کی اور اُس کی قَوم کی خِدمت کرو اور زِندہ رہو۔ 13تُو اور تیرے لوگ تلوار اور کال اور وبا سے کیوں مَرو گے جَیسا کہ خُداوند نے اُس قَوم کی بابت فرمایا ہے جو شاہِ بابل کی خِدمت نہ کرے گی؟ 14اور اُن نبِیوں کی باتیں نہ سُنو جو تُم سے کہتے ہیں کہ تُم شاہِ بابل کی خِدمت نہ کرو گے کیونکہ وہ تُم سے جُھوٹی نبُوّت کرتے ہیں۔ 15کیونکہ خُداوند فرماتا ہے مَیں نے اُن کو نہیں بھیجا پر وہ میرا نام لے کر جُھوٹی نبُوّت کرتے ہیں تاکہ مَیں تُم کو خارِج کر دُوں اور تُم اُن نبِیوں کے ساتھ جو تُم سے نبُوّت کرتے ہیں ہلاک ہو جاؤ۔
16مَیں نے کاہِنوں سے اور اُن سب لوگوں سے بھی مُخاطِب ہو کر کہا خُداوند یُوں فرماتا ہے کہ اپنے نبِیوں کی باتیں نہ سُنو جو تُم سے نبُوّت کرتے اور کہتے ہیں کہ دیکھو خُداوند کے گھر کے ظرُوف اب تھوڑی ہی دیر میں بابل سے واپس آ جائیں گے۔ کیونکہ وہ تُم سے جُھوٹی نبُوّت کرتے ہیں۔ 17اُن کی نہ سُنو۔ شاہِ بابل کی خِدمت گُذاری کرو اور زِندہ رہو۔ یہ شہر کیوں وِیران ہو؟ 18پر اگر وہ نبی ہیں اور خُداوند کا کلام اُن کی امانت میں ہے تو وہ ربُّ الافواج سے شفاعت کریں تاکہ وہ ظرُوف جو خُداوند کے گھر میں اور شاہِ یہُوداؔہ کے گھر میں اور یروشلیِم میں باقی ہیں بابل کو نہ جائیں۔
19کیونکہ سُتُونوں کی بابت اور بڑے حَوض اور کُرسِیوں اور باقی ظرُوف کی بابت جو اِس شہر میں باقی ہیں ربُّ الافواج یُوں فرماتا ہے۔ 20یعنی جِن کو شاہِ بابل نبُوکدؔنضر نہیں لے گیا جب وہ یہُوداؔہ کے بادشاہ یکونیاؔہ بِن یہویقِیم کو یروشلیِم سے اور یہُوداؔہ اور یروشلیِم کے سب شُرفا کو اسِیر کر کے بابل کو لے گیا۔
21ہاں ربُّ الافواج اِسرائیل کا خُدا اُن ظرُوف کی بابت جو خُداوند کے گھر میں اور شاہِ یہُوداؔہ کے محلّ میں اور یروشلیِم میں باقی ہیں یُوں فرماتا ہے۔ 22کہ وہ بابل میں پُہنچائے جائیں گے اور اُس دِن تک کہ مَیں اُن کو یاد فرماؤں وہاں رہیں گے۔ خُداوند فرماتا ہے اُس وقت مَیں اُن کو اُٹھا لاؤُں گا اور پِھر اِس مکان میں رکھ دُوں گا۔

Currently Selected:

یرمِیاہ 27: URD

Highlight

Share

Copy

None

Want to have your highlights saved across all your devices? Sign up or sign in

YouVersion uses cookies to personalize your experience. By using our website, you accept our use of cookies as described in our Privacy Policy