یسعیاہ 1:28-29 - Compare All Versions

یسعیاہ 1:28-29 UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)

افسوس اُس تاج پر جِس پر اِفرائیمؔ کے متوالوں کو ناز ہے، افسوس اُس کے جلالی حُسن کے مُرجھائے ہُوئے پھُول پر، جو نہایت سرسبز و شاداب وادی کے سَر پر رکھا گیا ہے افسوس اُس شہر پر جِس پر مے کے متوالوں کو ناز ہے! دیکھو، یَاہوِہ کے پاس ایک زبردست اَور زورآور شخص ہے۔ جو اولوں کے طُوفان اَور زبردست آندھی، موسلادھار مینہ اَور سیلاب برپا کرنے والی بارش کی مانند، اُسے زور سے زمین پر پٹک دیں گے۔ اَور اِفرائیمؔ کے متوالوں کا غُرور کا تاج، پاؤں کے نیچے روندا جائے گا۔ اَور اُس کے جلالی حُسن کا مُرجھاتا ہُوا پھُول، جو نہایت سرسبز و شاداب وادی کے سَر پر رکھا ہُواہے، وہ اَپنے موسم سے پہلے ہی پکے ہُوئے اَنجیر کی مانند ہوگا جسے کویٔی دیکھتے ہی نوچ لے، اَور نگل جائے۔ اُس وقت قادرمُطلق یَاہوِہ خُود اَپنے لوگوں میں سے باقی بچے ہوؤں کے لیٔے، ایک جلالی تاج اَور خُوبصورت ہار ہوگا۔ عدالت کی کُرسی پر بیٹھنے والے کے لیٔے وہ اِنصاف کی رُوح ہوگا، اَور (شہر کے) پھاٹک سے حملہ پسپا کر دینے والوں کے لیٔے قُوّت کا سرچشمہ ہوگا۔ اَور یہ بھی مےخواری سے ڈگمگاتے اَور مَے سے لڑکھڑاتے ہیں: کاہِنؔ اَور نبی بھی نشہ میں چُور اَور مَے سے مخمور ہیں، وہ نشہ میں جھومتے ہیں، اَور رُویا دیکھتے وقت بھٹک جاتے ہیں اَور اِنصاف کرتے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں۔ تمام دسترخوان قَے سے بھرے ہُوئے ہیں کویٔی جگہ باقی نہیں جو گندگی سے خالی ہو۔ ”وہ کس کو سِکھانے کی کوشش کر رہاہے؟ اَور کسے اَپنا پیغام سمجھا رہاہے؟ کیا اُن بچّوں کو جِن کا دُودھ چھُڑایا گیا ہے یا جِن کو ابھی ابھی چھاتِیوں سے الگ کیا گیا ہے؟ کیونکہ یہاں تو: حُکم پر حُکم اَور حُکم پر حُکم، اَور قانُون پر قانُون اَور قانُون پر قانُون ہے؛ تھوڑا یہاں، تھوڑا وہاں۔“ تَب خُدا اُس اُمّت سے بیگانہ ہونٹوں سے اَور بیگانہ زبانوں میں باتیں کروں گا، جِن سے اُس نے کہا، آرام کی جگہ یہی ہے، ”تھکے ہُوئے لوگوں کو آرام کرنے دو“؛ اَور ”یہی سستانے کی جگہ ہے“؛ لیکن پھر بھی اُمّت کے لوگ میری نہ سُنیں گے۔ پس یَاہوِہ کا کلام اُن کے لیٔے: حُکم پر حُکم، حُکم پر حُکم، اَور قانُون پر قانُون، قانُون پر قانُون؛ تھوڑا یہاں، تھوڑا وہاں ہوگا تاکہ وہ چلے جایٔیں، پیچھے گریں، زخمی ہوں، پھندے میں پھنسیں اَور گِرفتار ہوں۔ چنانچہ اَے ٹھٹّھا کرنے والو جو یروشلیمؔ کے لوگوں پر حُکمرانی کرتے ہو، یَاہوِہ کا کلام سُنو۔ تُم کہتے ہو، ”ہم نے موت سے عہد باندھا ہے، اَور پاتال سے عہد کر لیا ہے۔ اِس لیٔے جَب سزا کا زبردست سیلاب آئے گا، تو وہ ہم تک نہ پہُنچے گا، کیونکہ ہم نے جھُوٹ کو اَپنی جائے پناہ بنا لیا ہے اَور ہم دروغ گوئی کی آڑ میں جا چھُپے ہیں۔“ چنانچہ یَاہوِہ قادر یُوں فرماتے ہیں: ”دیکھو، مَیں صِیّونؔ میں ایک پتّھر رکھوں گا، ایک آزمودہ پتّھر، ایک محکم بُنیاد کے لیٔے کونے کے سِرے کا قیمتی پتّھر، جو کویٔی ایمان لایٔے گا وہ کبھی شرمندہ نہ ہوگا۔ مَیں اِنصاف کو پیمائشی جریب اَور راستی کو ساہول کی ڈوری بناؤں گا؛ اولے تمہاری جھُوٹ کی پناہ گاہ کو بہا لے جایٔیں گے، اَور تمہارے چھُپنے کی جگہ زیرِ آب ہو جائے گی۔ جو عہد تُم نے موت سے باندھا تھا وہ منسُوخ کیا جائے گا؛ اَور تمہارا عہد جو پاتال سے تھا، قائِم نہ رہے گا۔ جَب سزا کا زبردست سیلاب آئے گا، تو تُم ٹِکے نہ رہ سکوگے۔ وہ جَب بھی آئے گا، تُمہیں بہا لے جائے گا؛ چاہے دِن ہو چاہے رات، وہ روز بروز آئے گا۔“ اُس کا مطلب سمجھوگے تو تُم پر خوف طاری ہو جائے گا کیونکہ بِستر اِس قدر چھوٹاہے کہ اُس پر دراز ہونا مُشکل ہے، اَور لحاف اِس قدر چھوٹاہے کہ اُسے ٹھیک سے اوڑھ بھی نہیں سکتے۔ یَاہوِہ اُٹھ کھڑے ہوں گے جَیسا وہ پراصیمؔ کے پہاڑ پر ہُوئے تھے، اَور وہ غضبناک ہوں گے جَیسا گِبعونؔ کی وادی میں ہُوئے تھے تاکہ وہ اَپنا کام کریں جو نہایت حیرت اَنگیز کام ہیں، اَور وہ انوکھا کام اَنجام دیں جو بہت انوکھا ہے۔ اِس لیٔے اَب تُم ٹھٹّھا مت کرو، ورنہ تمہاری زنجیریں اَور کَس دی جایٔیں گی؛ کیونکہ خُداوؔند، قادرمُطلق یَاہوِہ نے مُجھ سے کہا ہے کہ تمام مُلک کی تباہی کا مصمّم اِرادہ کیا جا چُکاہے۔ کان لگا کر میری بات سُنو؛ دھیان دو اَور سُنو کہ میں کیا کہتا ہُوں۔ جَب کِسان بیج بونے کے لیٔے ہل چلاتاہے تو کیا وہ لگاتار ہل ہی چلاتا رہتاہے؟ کیا وہ سدا اَپنی زمین کو کھودتا اَور اُس کے ڈھیلے پھوڑتا رہتاہے؟ زمین کی سطح ہموار کر چُکنے کے بعد، کیا وہ اجوائن نہیں بوتا اَور زیرہ نہیں بکھیرتا؟ اَور گندُم کو اَپنی جگہ پر، اَور جَو کو اُس کے اَپنے مقام پر، اَور اُن کی جگہ باجرے کو نہیں بوتا؟ اُس کے خُدا اُسے ہدایت دیتے ہیں اَور اُسے صحیح طریقہ سِکھاتے ہیں۔ اجوائن کو برف گاڑی سے نہیں باندھا گیا ہے، نہ ہی گاڑی کا پہیّا زیرہ کے اُوپر پھرایا جاتا ہے؛ بَلکہ اجوائن کو برف گاڑی سے، اَور زیرہ کو لاٹھی سے جھاڑا جاتا ہے۔ روٹی بنانے کے لیٔے اناج کو پیسنا لازمی ہے؛ لیکن کویٔی اُسے برف گاڑی سے ہمیشہ کوٹتا نہیں رہتا۔ حالانکہ وہ اَپنی گاہنے کی گاڑی کے پہیّے اُس پر چلاتاہے، لیکن اُس کے گھوڑے اناج پیستے نہیں۔ یہ سَب بھی اُس قادرمُطلق یَاہوِہ کی جانِب سے مُقرّر ہُواہے، جِن کا منصُوبہ شاندار ہے، اَورجو عظیم حِکمت کا مالک ہے۔

دوسروں تک پہنچائیں
یسعیاہ 28 UCV

یسعیاہ 1:28-29 URDGVU (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)

سامریہ پر افسوس جو اسرائیلی شرابیوں کا شاندار تاج ہے۔ اُس شہر پر افسوس جو اسرائیل کی شان و شوکت تھا لیکن اب مُرجھانے والا پھول ہے۔ اُس آبادی پر افسوس جو نشے میں دُھت لوگوں کی زرخیز وادی کے اوپر تخت نشین ہے۔ دیکھو، رب ایک زبردست سورما بھیجے گا جو اولوں کے طوفان، تباہ کن آندھی اور سیلاب پیدا کرنے والی موسلادھار بارش کی طرح سامریہ پر ٹوٹ پڑے گا اور زور سے اُسے زمین پر پٹخ دے گا۔ تب اسرائیلی شرابیوں کا شاندار تاج سامریہ پاؤں تلے روندا جائے گا۔ تب یہ مُرجھانے والا پھول جو زرخیز وادی کے اوپر تخت نشین ہے اور اُس کی شان و شوکت ختم ہو جائے گی۔ اُس کا حال فصل سے پہلے پکنے والے انجیر جیسا ہو گا۔ کیونکہ جوں ہی کوئی اُسے دیکھے وہ اُسے توڑ کر ہڑپ کر لے گا۔ اُس دن رب الافواج خود اسرائیل کا شاندار تاج ہو گا، وہ اپنی قوم کے بچے ہوؤں کا جلالی سہرا ہو گا۔ وہ عدالت کرنے والے کو انصاف کی روح دلائے گا اور شہر کے دروازے پر دشمن کو پیچھے دھکیلنے والوں کے لئے طاقت کا باعث ہو گا۔ لیکن یہ لوگ بھی مَے کے اثر سے ڈگمگا رہے اور شراب پی پی کر لڑکھڑا رہے ہیں۔ امام اور نبی نشے میں جھوم رہے ہیں۔ مَے پینے سے اُن کے دماغوں میں خلل آ گیا ہے، شراب پی پی کر وہ چکر کھا رہے ہیں۔ رویا دیکھتے وقت وہ جھومتے، فیصلے کرتے وقت جھولتے ہیں۔ تمام میزیں اُن کی قَے سے گندی ہیں، اُن کی غلاظت ہر طرف نظر آتی ہے۔ وہ آپس میں کہتے ہیں، ”یہ شخص ہمارے ساتھ اِس قسم کی باتیں کیوں کرتا ہے؟ ہمیں تعلیم دیتے اور الٰہی پیغام کا مطلب سناتے وقت وہ ہمیں یوں سمجھاتا ہے گویا ہم چھوٹے بچے ہوں جن کا دودھ ابھی ابھی چھڑایا گیا ہو۔ کیونکہ یہ کہتا ہے، ’صَو لاصَو صَو لاصَو، قَو لاقَو قَو لاقَو، تھوڑا سا اِس طرف تھوڑا سا اُس طرف‘۔“ چنانچہ اب اللہ ہکلاتے ہوئے ہونٹوں اور غیرزبانوں کی معرفت اِس قوم سے بات کرے گا۔ گو اُس نے اُن سے فرمایا تھا، ”یہ آرام کی جگہ ہے۔ تھکے ماندوں کو آرام دو، کیونکہ یہیں وہ سکون پائیں گے۔“ لیکن وہ سننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اِس لئے آئندہ رب اُن سے اِن ہی الفاظ سے ہم کلام ہو گا، ”صَو لاصَو صَو لاصَو، قَو لاقَو قَو لاقَو، تھوڑا سا اِس طرف، تھوڑا سا اُس طرف۔“ کیونکہ لازم ہے کہ وہ چل کر ٹھوکر کھائیں، اور دھڑام سے اپنی پشت پر گر جائیں، کہ وہ زخمی ہو جائیں اور پھندے میں پھنس کر گرفتار ہو جائیں۔ چنانچہ اب رب کا کلام سن لو، اے مذاق اُڑانے والو، جو یروشلم میں بسنے والی اِس قوم پر حکومت کرتے ہو۔ تم شیخی مار کر کہتے ہو، ”ہم نے موت سے عہد باندھا اور پاتال سے معاہدہ کیا ہے۔ اِس لئے جب سزا کا سیلاب ہم پر سے گزرے تو ہمیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔ کیونکہ ہم نے جھوٹ میں پناہ لی اور دھوکے میں چھپ گئے ہیں۔“ اِس کے جواب میں رب قادرِ مطلق فرماتا ہے، ”دیکھو، مَیں صیون میں ایک پتھر رکھ دیتا ہوں، کونے کا ایک آزمودہ اور قیمتی پتھر جو مضبوط بنیاد پر لگا ہے۔ جو ایمان لائے گا وہ کبھی نہیں ہلے گا۔ انصاف میرا فیتہ اور راستی میری ساہول کی ڈوری ہو گی۔ اِن سے مَیں سب کچھ پرکھوں گا۔ اولے اُس جھوٹ کا صفایا کریں گے جس میں تم نے پناہ لی ہے، اور سیلاب تمہاری چھپنے کی جگہ اُڑا کر اپنے ساتھ بہا لے جائے گا۔ تب تمہارا موت کے ساتھ عہد منسوخ ہو جائے گا، اور تمہارا پاتال کے ساتھ معاہدہ قائم نہیں رہے گا۔ سزا کا سیلاب تم پر سے گزر کر تمہیں پامال کرے گا۔ وہ صبح بہ صبح اور دن رات گزرے گا، اور جب بھی گزرے گا تو تمہیں اپنے ساتھ بہا لے جائے گا۔ اُس وقت لوگ دہشت زدہ ہو کر کلام کا مطلب سمجھیں گے۔“ چارپائی اِتنی چھوٹی ہو گی کہ تم پاؤں پھیلا کر سو نہیں سکو گے۔ بستر کی چوڑائی اِتنی کم ہو گی کہ تم اُسے لپیٹ کر آرام نہیں کر سکو گے۔ کیونکہ رب اُٹھ کر یوں تم پر جھپٹ پڑے گا جس طرح پراضیم پہاڑ کے پاس فلستیوں پر جھپٹ پڑا۔ جس طرح وادیٔ جِبعون میں اموریوں پر ٹوٹ پڑا اُسی طرح وہ تم پر ٹوٹ پڑے گا۔ اور جو کام وہ کرے گا وہ عجیب ہو گا، جو قدم وہ اُٹھائے گا وہ معمول سے ہٹ کر ہو گا۔ چنانچہ اپنی طعنہ زنی سے باز آؤ، ورنہ تمہاری زنجیریں مزید زور سے کس دی جائیں گی۔ کیونکہ مجھے قادرِ مطلق رب الافواج سے پیغام ملا ہے کہ تمام دنیا کی تباہی متعین ہے۔ غور سے میری بات سنو! دھیان سے اُس پر کان دھرو جو مَیں کہہ رہا ہوں! جب کسان کھیت کو بیج بونے کے لئے تیار کرتا ہے تو کیا وہ پورا دن ہل چلاتا رہتا ہے؟ کیا وہ اپنا پورا وقت زمین کھودنے اور ڈھیلے توڑنے میں صَرف کرتا ہے؟ ہرگز نہیں! جب پورے کھیت کی سطح ہموار اور تیار ہے تو وہ اپنی اپنی جگہ پر سیاہ زیرہ اور سفید زیرہ، گندم، باجرا اور جَو کا بیج بوتا ہے۔ آخر میں وہ کنارے پر چارے کا بیج بوتا ہے۔ کسان کو خوب معلوم ہے کہ کیا کیا کرنا ہوتا ہے، کیونکہ اُس کے خدا نے اُسے تعلیم دے کر صحیح طریقہ سکھایا۔ چنانچہ سیاہ زیرہ اور سفید زیرہ کو اناج کی طرح گاہا نہیں جاتا۔ دانے نکالنے کے لئے اُن پر وزنی چیز نہیں چلائی جاتی بلکہ اُنہیں ڈنڈے سے مارا جاتا ہے۔ اور کیا اناج کو گاہ گاہ کر پیسا جاتا ہے؟ ہر گز نہیں! کسان اُسے حد سے زیادہ نہیں گاہتا۔ گو اُس کے گھوڑے کوئی وزنی چیز کھینچتے ہوئے بالیوں پر سے گزرتے ہیں تاکہ دانے نکلیں تاہم کسان دھیان دیتا ہے کہ دانے پِس نہ جائیں۔ اُسے یہ علم بھی رب الافواج سے ملا ہے جو زبردست مشوروں اور کامل حکمت کا منبع ہے۔

دوسروں تک پہنچائیں
یسعیاہ 28 URDGVU

یسعیاہ 1:28-29 URD (کِتابِ مُقادّس)

افسوس اِفرائِیم کے متوالوں کے گھمنڈ کے تاج پر اور اُس کی شان دار شَوکت کے مُرجھائے ہُوئے پُھول پر جو اُن لوگوں کی شاداب وادی کے سِرے پر ہے جو مَے کے مغلُوب ہیں! دیکھو خُداوند کے پاس ایک زبردست اور زورآور شخص ہے جو اُس آندھی کی مانِند جِس کے ساتھ اولے ہوں اور بادِ سمُوم کی مانِند اور سَیلابِ شدِید کی مانِند زمِین پر ہاتھ سے پٹک دے گا۔ اِفرائِیم کے متوالوں کے گھمنڈ کا تاج پامال کِیا جائے گا۔ اور اُس شان دار شَوکت کا مُرجھایا ہُؤا پُھول جو اُس شاداب وادی کے سِرے پر ہے پہلے پکّے انجِیر کی مانِند ہو گا جو گرمی کے ایّام سے پیشتر لگے جِس پر کِسی کی نِگاہ پڑے اور وہ اُسے دیکھتے ہی اور ہاتھ میں لیتے ہی نِگل جائے۔ اُس وقت ربُّ الافواج اپنے لوگوں کے بقِیّہ کے لِئے شَوکت کا افسر اور حُسن کا تاج ہو گا۔ اور عدالت کی کُرسی پر بَیٹھنے والے کے لِئے اِنصاف کی رُوح اور پھاٹکوں سے لڑائی کو دفع کرنے والوں کے لِئے توانائی ہو گا۔ لیکن یہ بھی مَے خواری سے ڈگمگاتے اور نشہ میں لڑکھڑاتے ہیں۔ کاہِن اور نبی بھی نشہ میں چُور اور مَے میں غرق ہیں۔ وہ نشہ میں جُھومتے ہیں۔ وہ رویا میں خطا کرتے اور عدالت میں لغزِش کھاتے ہیں۔ کیونکہ سب دسترخوان قَے اور گندگی سے بھرے ہیں۔ کوئی جگہ باقی نہیں۔ وہ کِس کو دانِش سِکھائے گا؟ کِس کو وعظ کر کے سمجھائے گا؟ کیا اُن کو جِن کا دُودھ چُھڑایا گیا جو چھاتِیوں سے جُدا کِئے گئے؟ کیونکہ حُکم پر حُکم۔ حُکم پر حُکم۔ قانُون پر قانُون۔ قانُون پر قانُون ہے۔ تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں۔ لیکن وہ بے گانہ لبوں اور اجنبی زُبان سے اِن لوگوں سے کلام کرے گا۔ جِن کو اُس نے فرمایا یہ آرام ہے۔ تُم تھکے ماندوں کو آرام دو اور یہ تازگی ہے پر وہ شِنوا نہ ہُوئے۔ پس خُداوند کا کلام اُن کے لِئے حُکم پر حُکم۔ حُکم پر حُکم۔ قانُون پر قانُون۔ قانُون پر قانُون۔ تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں ہو گا تاکہ وہ چلے جائیں اور پِیچھے گِریں اور شِکست کھائیں اور دام میں پھنسیں اور گرِفتار ہوں۔ پس اَے ٹھٹّھا کرنے والو! جو یروشلیِم کے اِن باشِندوں پر حُکمرانی کرتے ہو! خُداوند کا کلام سُنو۔ چُونکہ تُم کہا کرتے ہو کہ ہم نے مَوت سے عہد باندھا اور پاتال سے پَیمان کر لِیا ہے۔ جب سزا کا سَیلاب آئے گا تو ہم تک نہیں پُہنچے گا کیونکہ ہم نے جُھوٹ کو اپنی پناہ گاہ بنایا ہے اور دروغ گوئی کی آڑ میں چِھپ گئے ہیں۔ اِس لِئے خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے۔ دیکھو مَیں صِیُّون میں بُنیاد کے لِئے ایک پتّھر رکُھّوں گا۔ آزمُودہ پتّھر۔ مُحکم بُنیاد کے لِئے کونے کے سِرے کا قِیمتی پتّھر جو کوئی اِیمان لاتا ہے قائِم رہے گا۔ اور مَیں عدالت کو سُوت اور صداقت کو ساہُول بناؤُں گا اور اولے جُھوٹ کی پناہ گاہ کو صاف کر دیں گے اور پانی چِھپنے کے مکان پر پَھیل جائے گا۔ اور تُمہارا عہد جو مَوت سے ہُؤا منسُوخ ہو جائے گا اور تُمہارا پَیمان جو پاتال سے ہُؤا قائِم نہ رہے گا۔ جب سزا کا سَیلاب آئے گا تو تُم کو پامال کرے گا۔ اور گُذرتے وقت تُم کو بہا لے جائے گا۔ ہر صُبح اور شب و روز آئے گا بلکہ اُس کا چرچا سُننا بھی خوفناک ہو گا۔ کیونکہ پلنگ اَیسا چھوٹا ہے کہ آدمی اُس پر دراز نہیں ہو سکتا اور لِحاف اَیسا تنگ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اُس میں لِپیٹ نہیں سکتا۔ کیونکہ خُداوند اُٹھے گا جَیسا کوہِ پراضِیم میں اور وہ غضب ناک ہو گا جَیسا جِبعُوؔن کی وادی میں تاکہ اپنا کام بلکہ اپنا عجِیب کام کرے اور اپنا کام ہاں اپنا انوکھا کام پُورا کرے۔ سو اب تُم ٹھٹّھا نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تُمہارے بند سخت ہو جائیں کیونکہ مَیں نے خُداوند ربُّ الافواج سے سُنا ہے کہ اُس نے کامِل اور مصمّم اِرادہ کِیا ہے کہ ساری سرزمِین کو تباہ کرے۔ کان لگا کر میری آواز سُنو۔ شِنوا ہو کر میری بات پر دِل لگاؤ۔ کیا کِسان بونے کے لِئے ہر روز ہل چلایا کرتا ہے؟ کیا وہ ہر وقت اپنی زمِین کو کھودتا اور اُس کے ڈھیلے پھوڑا کرتا ہے؟ جب اُس کو ہموار کر چُکا تو کیا وہ اجوائِن کو نہیں چِھینٹتا اور زِیرہ کو ڈال نہیں دیتا اور گیہُوں کو قِطاروں میں نہیں بوتا اور جَو کو اُس کے مُعیّن مکان میں اور کٹھیا گیہُوں کو اُس کی خاص کِیاری میں نہیں بوتا؟ کیونکہ اُس کا خُدا اُس کو تربِیّت کر کے اُسے سِکھاتا ہے۔ کہ اجوائِن کو داؤنے کے ہینگے سے نہیں داؤتے اور زِیرے کے اُوپر گاڑی کے پہئے نہیں گُھماتے بلکہ اجوائِن کو لاٹھی سے جھاڑتا ہے اور زِیرے کو چھڑی سے۔ روٹی کے غلّہ پر دائیں چلاتا ہے لیکن وہ ہمیشہ اُسے کُوٹتا نہیں رہتا اور اپنی گاڑی کے پہیوں اور گھوڑوں کو اُس پر ہمیشہ پِھراتا نہیں رہتا۔ وہ اُسے سراسر نہیں کُچلے گا۔ یہ بھی ربُّ الافواج سے مُقرّر ہُؤا ہے جِس کی مصلحت عجِیب اور دانائی عظِیم ہے۔

دوسروں تک پہنچائیں
یسعیاہ 28 URD