رُومیوں 31:8-38

رُومیوں 31:8-38 UCV

پس ہم اِن باتوں کے بارے میں اَور کیا کہیں؟ اگر خُدا ہماری طرف ہے تو کون ہمارا مُخالف ہو سَکتا ہے؟ جِس نے اَپنے بیٹے کو بچائے رکھنے کی بجائے اُسے ہم سَب کے لیٔے قُربان کر دیا تو کیا وہ اُس کے ساتھ ہمیں اَور سَب چیزیں بھی فضل سے عطا نہ کرےگا؟ کون خُدا کے چُنے ہویٔے لوگوں پر اِلزام لگا سَکتا ہے؟ کویٔی نہیں۔ اِس لیٔے کہ خُدا خُود اُنہیں راستباز ٹھہراتا ہے۔ کون اُنہیں مُجرم قرار دے سَکتا ہے؟ کویٔی نہیں۔ اِس لیٔے کہ المسیح یِسوعؔ ہی وہ ہیں جو مَر گیٔے اَور مُردوں میں سے جی اُٹھے اَورجو خُدا کی داہنی طرف مَوجُود ہیں۔ وُہی ہماری شفاعت بھی کرتے ہیں۔ کون ہمیں المسیح کی مَحَبّت سے جُدا کرےگا؟ کیا مُصیبت یاتنگی؟ ظُلم یا قحط، عُریانی یا خطرہ یا تلوار؟ چنانچہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”ہم تو تیری خاطِر سارا دِن موت کا سامنا کرتے رہتے ہیں؛ ہم تو ذبح ہونے والی بھیڑوں کی مانند سمجھے جاتے ہیں۔“ پھر بھی اِن سَب حالتوں میں ہمیں اَپنے مَحَبّت کرنے والے کے وسیلہ سے بڑی شاندار فتح حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ مُجھے یقین ہے کہ نہ موت نہ زندگی، نہ فرِشتے نہ شیطان کے لشکر، نہ حال کی چیزیں نہ مُستقبِل کی اَور نہ کویٔی قُدرتیں،