متّی 16:19-30

متّی 16:19-30 UCV

اَور ایک آدمی یِسوعؔ کے پاس آیا اَور پُوچھنے لگا، ”اَے اُستاد محترم! میں کون سِی نیکی کروں کہ اَبدی کی زندگی حاصل کرلُوں؟“ یِسوعؔ نے اُسے جَواب دیا، ”تُم مُجھ سے نیکی کے بارے میں کیوں پُوچھتے ہو؟ نیک تو صِرف ایک ہی ہے۔ لیکن اگر تُو زندگی میں داخل ہونا چاہتاہے تو حُکموں پر عَمل کر۔“ اُس نے پُوچھا، ”کون سے حُکموں پر؟“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ” ’یہ کہ خُون نہ کرنا، زنا نہ کرنا، چوری نہ کرنا، جھُوٹی گواہی نہ دینا، اَپنے باپ یا ماں کی عزّت کرنا،‘ اَور ’اَپنے پڑوسی سے اَپنی مانِند مَحَبّت رکھنا۔‘“ اُس نوجوان نے آپ کو جَواب دیا، ”اِن سَب حُکموں پر تو میں عَمل کرتا آیا ہُوں، اَب مُجھ میں کِس چیز کی کمی ہے؟“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”اگر تُو کامل ہونا چاہتاہے تو جا، اَپنا سَب کُچھ بیچ کر غریبوں کی مدد کر تو تُجھے آسمان میں خزانہ ملے گا اَور آکر میرے پیچھے ہولے۔“ مگر جَب اُس نوجوان نے یہ بات سُنی، تو وہ غمگین ہوکر چلا گیا کیونکہ وہ بہت دولتمند تھا۔ تَب یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں سے فرمایا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ دولتمند کا آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونا مُشکل ہے۔ مَیں پھر کہتا ہُوں کہ اُونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزر جانا کسی دولتمند کے خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونے سے زِیادہ آسان ہے۔“ جَب شاگردوں نے یہ بات سُنی تو نہایت حیران ہُوئے اَور یِسوعؔ سے پُوچھا، ”پھر کون نَجات پا سَکتا ہے؟“ یِسوعؔ نے اُن کی طرف دیکھ کر فرمایا، ”یہ اِنسانوں کے لیٔے تو ناممکن ہے، لیکن خُدا کے لیٔے سَب کُچھ ممکن ہے۔“ تَب پطرس نے حُضُور سے کہا، ”دیکھئے ہم تو سَب کُچھ چھوڑکر آپ کے پیچھے چلے آئے ہیں! تو ہمیں کیا ملے گا؟“ یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ نئی تخلیق میں جَب اِبن آدمؔ اَپنے جلالی تخت پر بیٹھے گا تو تُم بھی جو میرے پیچھے چلے آئے ہو بَارہ تختوں پر بیٹھ کر، اِسرائیل کے بَارہ قبیلوں کا اِنصاف کروگے۔ اَور جِس کسی نے میری خاطِر گھروں یا بھائیوں یا بہنوں یا ماں یا باپ یا بیوی یا بچّوں یا کھیتوں کو چھوڑ دیا ہے وہ اِن سے سَو گُنا پایٔےگا اَور اَبدی زندگی کا وارِث ہوگا۔ لیکن بہت سے جو اوّل ہیں آخِر ہو جایٔیں گے اَورجو آخِر ہیں، وہ اوّل۔“