یَشعیاہ 8:6-13
یَشعیاہ 8:6-13 UCV
تَب مَیں نے خُداوؔند کو یہ کہتے ہُوئے سُنا، ”مَیں کسے بھیجوں اَور ہماری طرف سے کون جائے گا؟“ تَب مَیں نے عرض کیا، ”مَیں حاضِر ہُوں، مُجھے بھیج دو!“ اُنہُوں نے فرمایا، ”جاؤ اَور اِس قوم سے کہو: ” ’تُم سُنتے تو رہوگے لیکن سمجھوگے نہیں؛ دیکھتے رہوگے لیکن کبھی پہچان نہ پاؤگے۔‘ اِس قوم کے دِل پر چربی چھاگئی ہے؛ اَور وہ اُونچا سُننے لگے ہیں اَور اُنہُوں نے اَپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ اَیسا نہ ہو کہ اُن کی آنکھیں دیکھ لیں، اَور اُن کے کان سُن لیں، اَور اُن کے دِل سمجھ لیں، اَور وہ میری طرف پھریں اَور مَیں اُنہیں شفا بخشوں۔“ پھر مَیں نے پُوچھا، ”اَے یَاہوِہ کب تک؟“ اَور اُنہُوں نے جَواب دیا: ”جَب تک شہر ویران نہ ہوں اَور اُن میں کویٔی اِنسان بسنے والا نہ رہے، جَب تک گھر خالی نہ ہو جایٔیں اَور کھیت تباہ و برباد ہوکر نہ رہ جایٔیں، جَب تک یَاہوِہ ہر شخص کو وہاں سے بہت دُور نہ کر دیں اَور زمین پُوری طرح ویران نہ ہو جائے۔ چاہے مُلک میں ایک دہائی حِصّہ لوگ باقی بچیں، اُسے بھی ویران چھوڑ دیا جائے گا۔ لیکن جِس طرح بطم اَور بلُوط کے درخت کٹنے کے بعد صِرف اُن کا ٹھُنٹھ باقی رہ جاتا ہے، اُسی طرح اِسرائیل مُلک میں بچا ہُوا ٹھُنٹھ مُقدّس بیج کا کام دے گا۔“


