ایسترؔ 1:7-6
ایسترؔ 1:7-6 UCV
تو بادشاہ اَور ہامانؔ دونوں ملِکہ ایسترؔ کے یہاں ضیافت میں پہُنچے کہ وہاں کھایٔیں اَور پیئیں۔ یہ ضیافت کا دُوسرا دِن تھا۔ جَب مے کا دَور چل رہاتھا تو بادشاہ نے ملِکہ ایسترؔ سے ایک بار پھر پُوچھا، ”اَے ملِکہ ایسترؔ، تیری اِلتماس کیا ہے؟ تُو جو کچھ چاہے گی وہ تُجھے عطا کیا جائے گا۔ بتا تُجھے کیا چاہئے؟ اگر تُو میری آدھی سلطنت بھی مانگے گی تو وہ بھی تُجھے بخش دی جائے گی۔“ تَب ملِکہ ایسترؔ نے جَواب دیا کہ، ”اگر مَیں بادشاہ سلامت کی نظر میں مقبُول ٹھہری ہُوں تو مُجھ پر بادشاہ کا کرم ہو اَور نہ صِرف میری جان بخشی ہو بَلکہ میری ایک اَور اِلتماس بھی ہے کہ میری قوم کے لوگوں کی جان بھی بخشی جائے۔ کیونکہ مُجھے اَور میری قوم کے لوگوں کو بیچ دیا گیا ہے تاکہ ہم سَب ہلاک کئے جایٔیں اَور ہمارا نام و نِشان مِٹ جائے۔ اگر ہم لوگ غُلام اَور باندیوں کی طرح بیچے جاتے تو مَیں خاموش رہتی کیونکہ یہ کویٔی اَیسا بڑا سانِحہ نہ ہوتا جسے بادشاہ کو بتا کر پریشان کیا جاتا۔“ بادشاہ احسویروسؔ نے ملِکہ ایسترؔ سے پُوچھا کہ، ”وہ کون ہے اَور کہاں ہے جِس نے اَیسا سوچنے کی جُرأت کی؟“ ایسترؔ نے کہا: ”ہمارا وہ مُخالف اَور دُشمن یہی خبیث ہامانؔ ہے!“ یہ سُن کر ہامانؔ پر بادشاہ اَور ملِکہ کے سامنے ہی لرزہ طاری ہو گیا۔

