ایسترؔ 19:2-23

ایسترؔ 19:2-23 UCV

جَب کنواریاں دُوسری بار جمع کی گئی تھیں مردکیؔ شاہی محل کے دروازہ پر بیٹھا ہُوا تھا۔ ایسترؔ نے ابھی تک مردکیؔ کی تاکید کے مُطابق اَپنے خاندانی حالات اَور اَپنی قومیت کو پوشیدہ رکھا ہُوا تھا کیونکہ جَب سے مردکیؔ نے اُس کی پرورِش شروع کی تھی تَب سے وہ ہمیشہ مردکیؔ کے کہے پر عَمل کرتی آ رہی تھی۔ جَب مردکیؔ شاہی محل کے دروازہ پر بیٹھا ہُوا تھا تو بادشاہ کے دو خواجہ سراؤں بِگتھانؔ اَور ترشؔ نے جو محل کے دروازہ پر پہرا دیتے تھے بادشاہ کی کسی بات پر ناراض ہوکر بادشاہ احسویروسؔ کو قتل کرنے کا قصد کیا۔ لیکن مردکیؔ کو اِس سازش کا علم ہو گیا اَور اُس نے ملِکہ ایسترؔ کے ذریعہ بادشاہ کو خبر کر دی۔ جَب اِس بات کی تفتیش کی گئی اَور وہ سچ ثابت ہُوئی تو وہ دونوں خواجہ سرا پھانسی پر لٹکایٔے گیٔے۔ یہ واقعہ بادشاہ کے سامنے ہی شاہی تاریخ کی کِتاب میں درج کر لیا گیا۔