اعمال 23:7-30

اعمال 23:7-30 UCV

”جَب حضرت مَوشہ چالیس بَرس کے ہویٔے، تو اُن کے دِل میں آیا کہ وہ اَپنے بھائیوں یعنی بنی اِسرائیل کا حال مَعلُوم کریں۔ اُنہُوں نے اُن میں سے ایک کو ظُلم سہتے ہویٔے دیکھا تو اُس کی مدد کو پہُنچے اَور اُس ظالِم مِصری کو قتل کرکے اُس کے ظُلم کا بدلہ لے لیا۔ حضرت مَوشہ کا خیال تھا کہ میرے بھائیو کو اِس بات کا احساس ہو جائے گا کہ خُدا اُن کے ذریعہ اِسرائیلیوں کو غُلامی سے نَجات بخشےگا، لیکن اُن کو اِس کا احساس تک نہ ہُوا۔ اگلے دِن حضرت مَوشہ نے دو اِسرائیلیوں کو آپَس میں لڑتے دیکھا۔ آپ نے اُن میں صُلح کرانے کی کوشش کرتے ہویٔے اُن سے یہ فرمایا، ’اَے آدمیو، تُم تو آپَس میں بھایٔی بھایٔی ہو؛ کیوں ایک دُوسرے پر ظُلم کر رہے ہو؟‘ ”لیکن جو آدمی اَپنے پڑوسی پر ظُلم کر رہاتھا اِس نے حضرت مَوشہ کو دھُتکار دیا اَور کہا، ’آپ کو کِس نے ہم پر حاکم اَور قاضی مُقرّر کیا ہے؟ جِس طرح آپ نے کل اُس مِصری کو قتل کر ڈالا تھا کیا مُجھے بھی اُسی طرح مار ڈالنا چاہتے ہیں؟‘ یہ بات سُنتے ہی، حضرت مَوشہ وہاں سے مُلک مِدیان میں تشریف لے گیٔے، جہاں وہ ایک پردیسی کی طرح رہنے لگے اَور وہاں اُن کے دو بیٹے پیدا ہویٔے۔ ”چالیس بَرس بعد، کوہِ سِینؔائی کے بیابان میں اُنہیں ایک جلتی ہویٔی جھاڑی کے بیچ آگ کے شُعلوں میں فرشتہ دِکھائی دیا۔