رُومِیوں 1:4-12

رُومِیوں 1:4-12 URD

پس ہم کیا کہیں کہ ہمارے جِسمانی باپ ابرہامؔ کو کیا حاصِل ہُؤا؟ کیونکہ اگر ابرہامؔ اَعمال سے راست باز ٹھہرایا جاتا تو اُس کو فخر کی جگہ ہوتی لیکن خُدا کے نزدِیک نہیں۔ کِتابِ مُقدّس کیا کہتی ہے؟ یہ کہ ابرہامؔ خُدا پر اِیمان لایا اور یہ اُس کے لِئے راست بازی گِنا گیا۔ کام کرنے والے کی مزدُوری بخشِش نہیں بلکہ حق سمجھی جاتی ہے۔ مگر جو شخص کام نہیں کرتا بلکہ بے دِین کے راست باز ٹھہرانے والے پر اِیمان لاتا ہے اُس کا اِیمان اُس کے لِئے راست بازی گِنا جاتا ہے۔ چُنانچہ جِس شخص کے لِئے خُدا بغَیر اَعمال کے راست بازی محسُوب کرتا ہے داؤُد بھی اُس کی مُبارک حالی اِس طرح بیان کرتا ہے۔ کہ مُبارک وہ ہیں جِن کی بدکارِیاں مُعاف ہُوئیں اور جِن کے گُناہ ڈھانکے گئے۔ مُبارک وہ شخص ہے جِس کے گُناہ خُداوند محسُوب نہ کرے گا۔ پس کیا یہ مُبارک بادی مختُونوں ہی کے لِئے ہے یا نامختُونوں کے لِئے بھی؟ کیونکہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ابرہامؔ کے لِئے اُس کا اِیمان راست بازی گِنا گیا۔ پس کِس حالت میں گِنا گیا؟ مختُونی میں یا نامختُونی میں؟ مختُونی میں نہیں بلکہ نامختُونی میں۔ اور اُس نے خَتنہ کا نِشان پایا کہ اُس اِیمان کی راست بازی پر مُہر ہو جائے جو اُسے نامختُونی کی حالت میں حاصِل تھا تاکہ وہ اُن سب کا باپ ٹھہرے جو باوُجُود نامختُون ہونے کے اِیمان لاتے ہیں اور اُن کے لِئے بھی راست بازی محسُوب کی جائے۔ اور اُن مختُونوں کا باپ ہو جو نہ صِرف مختُون ہیں بلکہ ہمارے باپ ابرہامؔ کے اُس اِیمان کی بھی پیرَوی کرتے ہیں جو اُسے نامختُونی کی حالت میں حاصِل تھا۔