Psalm 42:1-5

جَیسے ہرنی پانی کے نالوں کو ترستی ہے وَیسے ہی اَے خُدا! میری رُوح تیرے لِئے ترستی ہے۔ میری رُوح خُدا کی۔ زِندہ خُدا کی پِیاسی ہے۔ مَیں کب جا کر خُدا کے حضُور حاضر ہُوں گا؟ میرے آنسُو دِن رات میری خُوراک ہیں۔ جِس حال کہ وہ مُجھ سے برابر کہتے ہیں تیرا خُدا کہاں ہے؟ اِن باتوں کو یاد کر کے میرا دِل بھر آتا ہے کہ مَیں کِس طرح بِھیڑ یعنی عِید منانے والی جماعت کے ہمراہ خُوشی اور حمد کرتا ہُؤا اُن کو خُدا کے گھر میں لے جاتا تھا۔ اَے میری جان! تُو کیوں گِری جاتی ہے؟ تُو اندر ہی اندر کیوں بے چَین ہے؟ خُدا سے اُمّید رکھ کیونکہ اُس کے نجات بخش دِیدار کی خاطِر مَیں پِھر اُس کی سِتایش کرُوں گا۔
زبُور 42:1-5