رومیوں 1:9-18 - Compare All Versions

رومیوں 1:9-18 UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)

میں المسیح میں سچ کہتا ہُوں، جھُوٹ نہیں بولتا بَلکہ میرا ضمیر بھی پاک رُوح کے تابع ہوکر گواہی دیتاہے کہ مُجھے بڑا غم ہے اَور میرا دِل ہر وقت دُکھتا رہتاہے۔ کاش اَیسا ہو سَکتا کہ اَپنے یہُودی بھائیوں کی خاطِر جو جِسم کے لِحاظ سے میری قوم کے لوگ ہیں، میں خُود ملعُون ہوکر المسیح سے محروم ہو جاتا! یعنی بنی اِسرائیل، خُدا کے مُتَنَبّیٰ ہونے کا حق کے سبب جلال، عہد، شَریعت اَور خدمت، بیت المُقدّس میں عبادت کا شرف اَور خُدا کے وعدے بھی اُن ہی کے لیٔے ہیں۔ قوم کے بُزرگ اُن ہی کے ہیں اَور المسیح بھی جِسمانی طور پر اُن ہی کی نَسل سے تھے جو سَب سے اعلیٰ ہیں اَور اَبد تک خُدائے مُبارک ہیں۔ آمین۔ اِس کا یہ مطلب نہیں کہ خُدا کا وعدہ باطِل ہو گیا کیونکہ جتنے اِسرائیل کی نَسل سے ہیں وہ سَب کے سَب اِسرائیلی نہیں۔ اَور نہ ہی صِرف اُن کی نَسل ہونے کے باعث وہ حضرت اَبراہامؔ کے فرزند ٹھہرے بَلکہ خُدا کا وعدہ یہ تھا، ”تمہاری نَسل کا نام اِصحاقؔ ہی سے آگے بڑھےگا۔“ اِس سے مُراد یہ ہے: جِسمانی طور پر پیدا ہونے والے فرزند خُدا کے فرزند نہیں بَن سکتے بَلکہ صِرف وہ جو خُدا کے وعدہ کے مُطابق پیدا ہویٔے ہیں، حضرت اَبراہامؔ کی نَسل شُمار کیٔے جاتے ہیں۔ کیونکہ وعدہ کا قول یُوں ہے: ”مَیں مُقرّرہ وقت پر پھر واپس آؤں گا، اَور سارہؔ کے ہاں بیٹا ہوگا۔“ صِرف یہی نہیں بَلکہ رِبقہؔ کے بچّے بھی ہمارے آباؤاَجداد اِصحاقؔ ہی کے تُخم سے تھے۔ اَور ابھی نہ تو اُن کے جُڑواں لڑکے پیدا ہویٔے تھے اَور نہ ہی اُنہُوں نے کچھ نیکی یا بدی کی تھی کہ خُدا نے اَپنے مقصد کو پُورا کرنے کے لیٔے اُن میں سے ایک کو چُن لیا۔ خُدا کا یہ فیصلہ اُن کے اعمال کی بِنا پر نہ تھا بَلکہ بُلانے والے کی اَپنی مرضی پر تھا۔ اِسی لئے رِبقہؔ سے کہا گیا، ”بڑا چُھوٹے کی خدمت کرےگا۔“ جَیسا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ”مَیں نے یعقوب سے مَحَبّت رکھی مگر عیسَوؔ سے عداوت۔“ تو پھر ہم کیا کہیں؟ کیا یہ کہ خُدا کے ہاں نااِنصافی ہے؟ ہرگز نہیں! کیونکہ خُدا حضرت مَوشہ سے فرماتے ہیں، ”جِس پر مُجھے رحم کرنا منظُور ہوگا اُس پر رحم کروں گا، اَور جِس پر ترس کھانا منظُور ہوگا اُس پر ترس کھاؤں گا۔“ لہٰذا یہ نہ تو آدمی کی خواہش یا اُس کی جدّوجہد پر بَلکہ خُدا کے رحم پر مُنحصر ہے۔ اِسی لیٔے کِتاب مُقدّس میں فَرعوہؔ سے کہا گیا ہے: ”مَیں نے تُجھے اِس لیٔے برپا کیا ہے کہ تیرے خِلاف اَپنی قُدرت ظاہر کروں اَور ساری زمین میں میرا نام مشہُور ہو جائے۔“ پس خُدا جِس پر رحم کرنا چاہتاہے، رحم کرتا ہے اَور جِس پر سختی کرنا چاہتاہے اُس کا دِل سخت کر دیتاہے۔

دوسروں تک پہنچائیں
رومیوں 9 UCV

رومیوں 1:9-18 URDGVU (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)

مَیں مسیح میں سچ کہتا ہوں، جھوٹ نہیں بولتا، اور میرا ضمیر بھی روح القدس میں اِس کی گواہی دیتا ہے کہ مَیں دل میں اپنے یہودی ہم وطنوں کے لئے شدید غم اور مسلسل درد محسوس کرتا ہوں۔ کاش میرے بھائی اور خونی رشتے دار نجات پائیں! اِس کے لئے مَیں خود ملعون اور مسیح سے جدا ہونے کے لئے بھی تیار ہوں۔ اللہ نے اُن ہی کو جو اسرائیلی ہیں اپنے فرزند بننے کے لئے مقرر کیا تھا۔ اُن ہی پر اُس نے اپنا جلال ظاہر کیا، اُن ہی کے ساتھ اپنے عہد باندھے اور اُن ہی کو شریعت عطا کی۔ وہی حقیقی عبادت اور اللہ کے وعدوں کے حق دار ہیں، وہی ابراہیم اور یعقوب کی اولاد ہیں اور اُن ہی میں سے جسمانی لحاظ سے مسیح آیا۔ اللہ کی تمجید و تعریف ابد تک ہو جو سب پر حکومت کرتا ہے! آمین۔ کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ اپنا وعدہ پورا نہ کر سکا۔ بات یہ نہیں ہے بلکہ یہ کہ وہ سب حقیقی اسرائیلی نہیں ہیں جو اسرائیلی قوم سے ہیں۔ اور سب ابراہیم کی حقیقی اولاد نہیں ہیں جو اُس کی نسل سے ہیں۔ کیونکہ اللہ نے کلامِ مُقدّس میں ابراہیم سے فرمایا، ”تیری نسل اسحاق ہی سے قائم رہے گی۔“ چنانچہ لازم نہیں کہ ابراہیم کی تمام فطرتی اولاد اللہ کے فرزند ہوں بلکہ صرف وہی ابراہیم کی حقیقی اولاد سمجھے جاتے ہیں جو اللہ کے وعدے کے مطابق اُس کے فرزند بن گئے ہیں۔ اور وعدہ یہ تھا، ”مقررہ وقت پر مَیں واپس آؤں گا تو سارہ کے بیٹا ہو گا۔“ لیکن نہ صرف سارہ کے ساتھ ایسا ہوا بلکہ اسحاق کی بیوی رِبقہ کے ساتھ بھی۔ ایک ہی مرد یعنی ہمارے باپ اسحاق سے اُس کے جُڑواں بچے پیدا ہوئے۔ لیکن بچے ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے نہ اُنہوں نے کوئی نیک یا بُرا کام کیا تھا کہ ماں کو اللہ سے ایک پیغام ملا۔ اِس پیغام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ لوگوں کو اپنے ارادے کے مطابق چن لیتا ہے۔ اور اُس کا یہ چناؤ اُن کے نیک اعمال پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ اُس کے بُلاوے پر۔ پیغام یہ تھا، ”بڑا چھوٹے کی خدمت کرے گا۔“ یہ بھی کلامِ مُقدّس میں لکھا ہے، ”یعقوب مجھے پیارا تھا، جبکہ عیسَو سے مَیں متنفر رہا۔“ کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ بےانصاف ہے؟ ہرگز نہیں! کیونکہ اُس نے موسیٰ سے کہا، ”مَیں جس پر مہربان ہونا چاہوں اُس پر مہربان ہوتا ہوں اور جس پر رحم کرنا چاہوں اُس پر رحم کرتا ہوں۔“ چنانچہ سب کچھ اللہ کے رحم پر ہی مبنی ہے۔ اِس میں انسان کی مرضی یا کوشش کا کوئی دخل نہیں۔ یوں اللہ اپنے کلام میں مصر کے بادشاہ فرعون سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے، ”مَیں نے تجھے اِس لئے برپا کیا ہے کہ تجھ میں اپنی قدرت کا اظہار کروں اور یوں تمام دنیا میں میرے نام کا پرچار کیا جائے۔“ غرض، یہ اللہ ہی کی مرضی ہے کہ وہ کس پر رحم کرے اور کس کو سخت کر دے۔

دوسروں تک پہنچائیں
رومیوں 9 URDGVU

رومیوں 1:9-18 URD (کِتابِ مُقادّس)

مَیں مسِیح میں سچ کہتا ہُوں۔ جُھوٹ نہیں بولتا اور میرا دِل بھی رُوحُ القُدس میں گواہی دیتا ہے۔ کہ مُجھے بڑا غم ہے اور میرا دِل برابر دُکھتا رہتا ہے۔ کیونکہ مُجھے یہاں تک منظُور ہوتا کہ اپنے بھائِیوں کی خاطِر جو جِسم کے رُو سے میرے قرابتی ہیں مَیں خُود مسِیح سے محرُوم ہو جاتا۔ وہ اِسرائیلی ہیں اور لے پالک ہونے کا حق اور جلال اور عہُود اور شرِیعت اور عِبادت اور وعدے اُن ہی کے ہیں۔ اور قَوم کے بزُرگ اُن ہی کے ہیں اور جِسم کے رُو سے مسِیح بھی اُن ہی میں سے ہُؤا جو سب کے اُوپر اور اَبد تک خُدایِ محمُود ہے۔ آمِین۔ لیکن یہ بات نہیں کہ خُدا کا کلام باطِل ہو گیا۔ اِس لِئے کہ جو اِسرائیلؔ کی اَولاد ہیں وہ سب اِسرائیلی نہیں۔ اور نہ ابرہامؔ کی نسل ہونے کے سبب سے سب فرزند ٹھہرے بلکہ یہ لِکھا ہے کہ اِضحاقؔ ہی سے تیری نسل کہلائے گی۔ یعنی جِسمانی فرزند خُدا کے فرزند نہیں بلکہ وعدہ کے فرزند نسل گِنے جاتے ہیں۔ کیونکہ وعدہ کا قَول یہ ہے کہ مَیں اِس وقت کے مُطابِق آؤُں گا اور سارؔہ کے بیٹا ہو گا۔ اور صِرف یہی نہیں بلکہ رِبقہ بھی ایک شخص یعنی ہمارے باپ اِضحاق سے حامِلہ تھی۔ اور ابھی تک نہ تو لڑکے پَیدا ہُوئے تھے اور نہ اُنہوں نے نیکی یا بدی کی تھی کہ اُس سے کہا گیا کہ بڑا چھوٹے کی خِدمت کرے گا۔ تاکہ خُدا کا اِرادہ جو برگُزِیدگی پر مَوقُوف ہے اَعمال پر مَبنی نہ ٹھہرے بلکہ بُلانے والے پر۔ چُنانچہ لِکھا ہے کہ مَیں نے یعقُوبؔ سے تو مُحبّت کی مگر عیسَو سے نفرت۔ پس ہم کیا کہیں؟ کیا خُدا کے ہاں بے اِنصافی ہے؟ ہرگِز نہیں! کیونکہ وہ مُوسیٰ سے کہتا ہے کہ جِس پر رحم کرنا منظُور ہے اُس پر رحم کرُوں گا اور جِس پر ترس کھانا منظُور ہے اُس پر ترس کھاؤں گا۔ پس یہ نہ اِرادہ کرنے والے پر مُنحصِر ہے نہ دَوڑ دُھوپ کرنے والے پر بلکہ رحم کرنے والے خُدا پر۔ کیونکہ کِتابِ مُقدّس میں فرِعونؔ سے کہا گیا ہے کہ مَیں نے اِسی لِئے تُجھے کھڑا کِیا ہے کہ تیری وجہ سے اپنی قُدرت ظاہِر کرُوں اور میرا نام تمام رُویِ زمِین پر مشہُور ہو۔ پس وہ جِس پر چاہتا ہے رحم کرتا ہے اور جسِے چاہتا ہے اُسے سخت کر دیتا ہے۔

دوسروں تک پہنچائیں
رومیوں 9 URD