رومیوں 2:4-12 - تمام ورژن کا موازنہ کریں
رومیوں 2:4-12 URDGVU (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر وہ شریعت پر عمل کرنے سے راست باز ٹھہرتا تو وہ اپنے آپ پر فخر کر سکتا تھا۔ لیکن اللہ کے نزدیک اُس کے پاس اپنے آپ پر فخر کرنے کا کوئی سبب نہ تھا۔ کیونکہ کلامِ مُقدّس میں لکھا ہے، ”ابراہیم نے اللہ پر بھروسا رکھا۔ اِس بنا پر اللہ نے اُسے راست باز قرار دیا۔“ جب لوگ کام کرتے ہیں تو اُن کی مزدوری کوئی خاص مہربانی قرار نہیں دی جاتی، بلکہ یہ تو اُن کا حق بنتا ہے۔ لیکن جب لوگ کام نہیں کرتے بلکہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں جو بےدینوں کو راست باز قرار دیتا ہے تو اُن کا کوئی حق نہیں بنتا۔ وہ اُن کے ایمان ہی کی بنا پر راست باز قرار دیئے جاتے ہیں۔ داؤد یہی بات بیان کرتا ہے جب وہ اُس شخص کو مبارک کہتا ہے جسے اللہ بغیر اعمال کے راست باز ٹھہراتا ہے، ”مبارک ہیں وہ جن کے جرائم معاف کئے گئے، جن کے گناہ ڈھانپے گئے ہیں۔ مبارک ہے وہ جس کا گناہ رب حساب میں نہیں لائے گا۔“ کیا یہ مبارک بادی صرف مختونوں کے لئے ہے یا نامختونوں کے لئے بھی؟ ہم تو بیان کر چکے ہیں کہ ابراہیم ایمان کی بنا پر راست باز ٹھہرا۔ اُسے کس حالت میں راست باز ٹھہرایا گیا؟ ختنہ کرانے کے بعد یا پہلے؟ ختنے کے بعد نہیں بلکہ پہلے۔ اور ختنہ کا جو نشان اُسے ملا وہ اُس کی راست بازی کی مُہر تھی، وہ راست بازی جو اُسے ختنہ کرانے سے پیشتر ملی، اُس وقت جب وہ ایمان لایا۔ یوں وہ اُن سب کا باپ ہے جو بغیر ختنہ کرائے ایمان لائے ہیں اور اِس بنا پر راست باز ٹھہرتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ ختنہ کرانے والوں کا باپ بھی ہے، لیکن اُن کا جن کا نہ صرف ختنہ ہوا ہے بلکہ جو ہمارے باپ ابراہیم کے اُس ایمان کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں جو وہ ختنہ کرانے سے پیشتر رکھتا تھا۔
رومیوں 2:4-12 URD (کِتابِ مُقادّس)
کیونکہ اگر ابرہامؔ اَعمال سے راست باز ٹھہرایا جاتا تو اُس کو فخر کی جگہ ہوتی لیکن خُدا کے نزدِیک نہیں۔ کِتابِ مُقدّس کیا کہتی ہے؟ یہ کہ ابرہامؔ خُدا پر اِیمان لایا اور یہ اُس کے لِئے راست بازی گِنا گیا۔ کام کرنے والے کی مزدُوری بخشِش نہیں بلکہ حق سمجھی جاتی ہے۔ مگر جو شخص کام نہیں کرتا بلکہ بے دِین کے راست باز ٹھہرانے والے پر اِیمان لاتا ہے اُس کا اِیمان اُس کے لِئے راست بازی گِنا جاتا ہے۔ چُنانچہ جِس شخص کے لِئے خُدا بغَیر اَعمال کے راست بازی محسُوب کرتا ہے داؤُد بھی اُس کی مُبارک حالی اِس طرح بیان کرتا ہے۔ کہ مُبارک وہ ہیں جِن کی بدکارِیاں مُعاف ہُوئیں اور جِن کے گُناہ ڈھانکے گئے۔ مُبارک وہ شخص ہے جِس کے گُناہ خُداوند محسُوب نہ کرے گا۔ پس کیا یہ مُبارک بادی مختُونوں ہی کے لِئے ہے یا نامختُونوں کے لِئے بھی؟ کیونکہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ابرہامؔ کے لِئے اُس کا اِیمان راست بازی گِنا گیا۔ پس کِس حالت میں گِنا گیا؟ مختُونی میں یا نامختُونی میں؟ مختُونی میں نہیں بلکہ نامختُونی میں۔ اور اُس نے خَتنہ کا نِشان پایا کہ اُس اِیمان کی راست بازی پر مُہر ہو جائے جو اُسے نامختُونی کی حالت میں حاصِل تھا تاکہ وہ اُن سب کا باپ ٹھہرے جو باوُجُود نامختُون ہونے کے اِیمان لاتے ہیں اور اُن کے لِئے بھی راست بازی محسُوب کی جائے۔ اور اُن مختُونوں کا باپ ہو جو نہ صِرف مختُون ہیں بلکہ ہمارے باپ ابرہامؔ کے اُس اِیمان کی بھی پیرَوی کرتے ہیں جو اُسے نامختُونی کی حالت میں حاصِل تھا۔
رومیوں 2:4-12 UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
اگر حضرت اَبراہامؔ اَپنے اعمال کی بِنا پر راستباز ٹھہرائے جاتے تو اُنہیں فخر کرنے کا حق ہوتا لیکن خُدا کے حُضُور میں نہیں۔ کیونکہ کِتاب مُقدّس کیا کہتی ہے؟ ”حضرت اَبراہامؔ خُدا پر ایمان لایٔے اَور یہ اُن کے واسطے راستبازی شُمار کیا گیا۔“ جَب کویٔی شخص کام کرکے اَپنی اُجرت حاصل کرتا ہے تو اُس کی اُجرت بخشش نہیں بَلکہ اُس کا حق سَمجھی جاتی ہے۔ مگر جو شخص اَپنے کام پر نہیں بَلکہ بےدینوں کو راستباز ٹھہرانے والے خُدا پر ایمان رکھتا ہے، اُس کا ایمان اُس کے لیٔے راستبازی شُمار کیا جاتا ہے۔ پس جِس شخص کو خُدا اُس کے کاموں کا لِحاظ کیٔے بغیر راستباز ٹھہراتا ہے، داویؔد بھی اُس کی مُبارک حالی کا ذِکر اِس طرح کرتے ہیں، ”مُبارک ہیں وہ لوگ جِن کی خطائیں بخشی گئیں، اَور جِن کے گُناہوں کو ڈھانکا گیا۔ مُبارک ہے وہ آدمی جِن کے گُناہ خُداوؔند کبھی حِساب میں نہیں لائے گا۔“ کیا یہ مُبارکبادی صِرف اُن کے لیٔے ہے جِن کا ختنہ ہو چُکاہے یا اُن کے لیٔے بھی ہے جِن کا ختنہ نہیں ہُوا؟ کیونکہ ہم کہتے آئے ہیں کہ حضرت اَبراہامؔ کا ایمان اُن کے واسطے راستبازی شُمار کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کِس حالت میں راستباز گِنا گیا۔ ختنہ کرانے سے پہلے یا ختنہ کرانے کے بعد؟ یہ اُس کے ختنہ کرانے سے پہلے کی بات تھی نہ کہ بعد کی۔ جَب حضرت اَبراہامؔ کا ختنہ نہیں ہُوا تھا، خُدا نے اُس کے ایمان کے سبب سے اُسے راستباز ٹھہرایا تھا۔ بعد میں اُس نے ختنہ کا نِشان پایا جو اُس کی راستبازی پر گویا خُدا کی مُہر تھی۔ یُوں حضرت اَبراہامؔ سَب کا باپ ٹھہرے جِن کا ختنہ تو نہیں ہُوا مگر وہ ایمان لانے کے باعث راستباز گنے جاتے ہیں۔ اَور وہ اُن کا بھی باپ ٹھہرتا ہے جِن کا ختنہ ہو چُکاہے اَور یہی نہیں بَلکہ وہ ہمارے باپ حضرت اَبراہامؔ کے اُس ایمان کی پیروی کرتے ہیں جو اُسے اُس کے ختنہ سے پہلے ہی حاصل تھا۔