امثال 18:30-33 - Compare All Versions
امثال 18:30-33 UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
”تین چیزیں میرے نزدیک نہایت عجِیب ہیں، بَلکہ چار جنہیں میں نہیں جانتا: آسمان میں عُقاب کی راہ، چٹّان پر سانپ کی راہ، سمُندر کے درمیان جہاز کی راہ، اَور مَرد کی راہ کنواری کے ساتھ۔ ”زانیہ کی روِش اَیسی ہے: وہ کھا کر اَپنا مُنہ پونچھتی ہے اَور کہتی ہے، ’مَیں نے کویٔی بدی نہیں کی۔‘ ”تین صورتوں میں زمین لرزتی ہے، بَلکہ چار ہیں جِن کی وہ برداشت نہیں کرتی: غُلام جَب وہ بادشاہی کرنے لگے، احمق جَب وہ کھا کر سیر ہو جائے، نامقبُول عورت جو بیاہی گئی ہو، اَور لونڈی جو اَپنی مالکن کی وارِث ہو جائے۔ ”زمین پر کی یہ چار چیزیں بہت چُھوٹی ہوتی ہیں، لیکن وہ بہت دانا ہیں: چیونٹیاں نہایت کمزور مخلُوق ہیں، تو بھی گرمی کے موسم میں اَپنے لیٔے خُوراک جمع کرکے رکھتی ہیں؛ سافان اگرچہ ناتواں مخلُوق ہیں، تو بھی چٹّانوں میں اَپنا گھر بناتے ہیں؛ ٹِڈّیاں، جِن کا کویٔی بادشاہ نہیں ہوتا، تو بھی وہ پرے باندھ کر نکلتی ہیں؛ چھپکلی جِس کو ہاتھ سے پکڑا جا سَکتا ہے، وہ بھی بادشاہوں کے محلوں میں پائی جاتی ہے۔ ”تین خُوش رفتار جاندار ہیں، بَلکہ چار ہیں جِن کی چال خُوشنما ہے: شیرببر جو سَب حَیوانات میں بہادر ہے، اَور کسی کے سامنے سے پیچھے نہیں ہٹتا؛ اکڑ کر چلتا مُرغ، بکرا، اَور بادشاہ جِس کے چاروں طرف لشکر ہو۔ ”اگر تُم نے حماقت اَور غُرور سے کام لیا ہے، یا کویٔی بُرا منصُوبہ باندھا ہے، تو اَپنا ہاتھ اَپنے مُنہ پر رکھ لو! کیونکہ جَیسے دُودھ بلونے سے مکھّن نکلتا ہے، اَور ناک مروڑنے سے خُون، اُسی طرح سے قہر بھڑکانے سے فساد برپا ہوتاہے۔“
امثال 18:30-33 URDGVU (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
تین باتیں مجھے حیرت زدہ کرتی ہیں بلکہ چار ہیں جن کی مجھے سمجھ نہیں آتی، آسمان کی بلندیوں پر عقاب کی راہ، چٹان پر سانپ کی راہ، سمندر کے بیچ میں جہاز کی راہ اور وہ راہ جو مرد کنواری کے ساتھ چلتا ہے۔ زناکار عورت کی یہ راہ ہے، وہ کھا لیتی اور پھر اپنا منہ پونچھ کر کہتی ہے، ”مجھ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی۔“ زمین تین چیزوں سے لرز اُٹھتی ہے بلکہ چار چیزیں برداشت نہیں کر سکتی، وہ غلام جو بادشاہ بن جائے، وہ احمق جو جی بھر کر کھانا کھا سکے، وہ نفرت انگیز عورت جس کی شادی ہو جائے اور وہ نوکرانی جو اپنی مالکن کی ملکیت پر قبضہ کرے۔ زمین کی چار مخلوقات نہایت ہی دانش مند ہیں حالانکہ چھوٹی ہیں۔ چیونٹیاں کمزور نسل ہیں لیکن گرمیوں کے موسم میں سردیوں کے لئے خوراک جمع کرتی ہیں، بِجُو کمزور نسل ہیں لیکن چٹانوں میں ہی اپنے گھر بنا لیتے ہیں، ٹڈیوں کا بادشاہ نہیں ہوتا تاہم سب پرے باندھ کر نکلتی ہیں، چھپکلیاں گو ہاتھ سے پکڑی جاتی ہیں، تاہم شاہی محلوں میں پائی جاتی ہیں۔ تین بلکہ چار جاندار پُروقار انداز میں چلتے ہیں۔ پہلے، شیرببر جو جانوروں میں زورآور ہے اور کسی سے بھی پیچھے نہیں ہٹتا، دوسرے، مرغا جو اکڑ کر چلتا ہے، تیسرے، بکرا اور چوتھے اپنی فوج کے ساتھ چلنے والا بادشاہ۔ اگر تُو نے مغرور ہو کر حماقت کی یا بُرے منصوبے باندھے تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر خاموش ہو جا، کیونکہ دودھ بلونے سے مکھن، ناک کو مروڑنے سے خون اور کسی کو غصہ دلانے سے لڑائی جھگڑا پیدا ہوتا ہے۔
امثال 18:30-33 URD (کِتابِ مُقادّس)
تِین چِیزیں میرے نزدِیک بُہت ہی عجِیب ہیں بلکہ چار ہیں جِن کو مَیں نہیں جانتا۔ عُقاب کی راہ ہوا میں اور سانپ کی راہ چٹان پر اور جہاز کی راہ سمُندر میں اور مَرد کی روِش جوان عَورت کے ساتھ۔ زانِیہ کی راہ اَیسی ہی ہے۔ وہ کھاتی ہے اور اپنا مُنہ پونچھتی ہے اور کہتی ہے مَیں نے کُچھ بُرائی نہیں کی۔ تِین چِیزوں سے زمِین لرزان ہے بلکہ چار ہیں جِن کی وہ برداشت نہیں کر سکتی۔ غُلام سے جو بادشاہی کرنے لگے اور احمق سے جب اُس کا پیٹ بھرے اور نامقبُول عَورت سے جب وہ بیاہی جائے اور لَونڈی سے جو اپنی بی بی کی وارِث ہو۔ چار ہیں جو زمِین پر ناچِیز ہیں لیکن بُہت دانا ہیں۔ چیونٹیاں کمزور مخلُوق ہیں تَو بھی گرمی میں اپنے لِئے خُوراک جمع کر رکھتی ہیں اور سافان اگرچہ ناتوان مخلُوق ہیں تَو بھی چٹانوں کے درمیان اپنے گھر بناتے ہیں اور ٹِڈّیاں جِن کا کوئی بادشاہ نہیں تَو بھی وہ پرے باندھ کر نِکلتی ہیں اور چِھپکلی جو اپنے ہاتھوں سے پکڑتی ہے اور تَو بھی شاہی محلّوں میں ہے۔ تِین خُوش رفتار ہیں بلکہ چار جِن کا چلنا خُوش نُما ہے۔ ایک تو شیرِ بَبر جو سب حَیوانات میں بہادُر ہے اور کِسی کو پِیٹھ نہیں دِکھاتا۔ جنگی گھوڑا اور بکرا اور بادشاہ جِس کا سامنا کوئی نہ کرے۔ اگر تُو نے حماقت سے اپنے آپ کو بڑا ٹھہرایا ہے یا تُو نے کوئی بُرا منصُوبہ باندھا ہے تو ہاتھ اپنے مُنہ پر رکھ کیونکہ یقِیناً دُودھ بِلونے سے مکّھن نِکلتا ہے اور ناک مروڑنے سے لُہو۔ اِسی طرح قہر بھڑکانے سے فساد برپا ہوتا ہے۔