امثال 29:14-33 - Compare All Versions
امثال 29:14-33 UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
صَابر آدمی بڑے فہم کا مالک ہوتاہے، لیکن زُود رنج سے حماقت ہی سرزد ہوتی ہے۔ مطمئن دِل جِسم میں جان ڈال دیتاہے، لیکن حَسد ہڈّیوں کو سڑا دیتاہے۔ مفلسوں پر ظُلم ڈھانے والا اُن کے خالق کی توہین کرتا ہے، لیکن جو کویٔی مُحتاجوں پر رحم کھاتا ہے وہ خُدا کی تعظیم کرتا ہے۔ جَب آفت آتی ہے تَب بدکار پست کر دئیے جاتے ہیں، لیکن راستباز موت کے وقت بھی خُدا کی پناہ مانگتے ہیں۔ حِکمت، عقلمند کے دِل میں قائِم رہتی ہے اَور احمقوں کے دِل علم کو جانتے بھی نہیں۔
امثال 29:14-33 URDGVU (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
تحمل کرنے والا بڑی سمجھ داری کا مالک ہے، لیکن غصیلا آدمی اپنی حماقت کا اظہار کرتا ہے۔ پُرسکون دل جسم کو زندگی دلاتا جبکہ حسد ہڈیوں کو گلنے دیتا ہے۔ جو پست حال پر ظلم کرے وہ اُس کے خالق کی تحقیر کرتا ہے جبکہ جو ضرورت مند پر ترس کھائے وہ اللہ کا احترام کرتا ہے۔ بےدین کی بُرائی اُسے خاک میں ملا دیتی ہے، لیکن راست باز مرتے وقت بھی اللہ میں پناہ لیتا ہے۔ حکمت سمجھ دار کے دل میں آرام کرتی ہے، اور وہ احمقوں کے درمیان بھی ظاہر ہو جاتی ہے۔
امثال 29:14-33 URD (کِتابِ مُقادّس)
جو قہر کرنے میں دِھیما ہے بڑا عقل مند ہے پر وہ جو جھکّی ہے حماقت کو بڑھاتا ہے۔ مُطمئِن دِل جِسم کی جان ہے لیکن حسد ہڈِّیوں کی بوسِیدگی ہے۔ مِسکِین پر ظُلم کرنے والا اُس کے خالِق کی اِہانت کرتا ہے لیکن اُس کی تعظِیم کرنے والا مُحتاجوں پر رحم کرتا ہے۔ شرِیر اپنی شرارت میں پست کِیا جاتا ہے لیکن صادِق مَرنے پر بھی اُمیدوار ہے۔ حِکمت عقل مند کے دِل میں قائِم رہتی ہے پر احمقوں کا دِلی راز فاش ہو جاتا ہے۔