مرقس 13:2-28 - Compare All Versions

مرقس 13:2-28 UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)

یِسوعؔ پھر سے جھیل کے کنارے گیٔے۔ اَور بڑا ہُجوم آپ کے گِرد جمع ہو گیا، اَور وہ اُنہیں تعلیم دینے لگے۔ چلتے چلتے یِسوعؔ نے، حلفئؔی کے بیٹے لیوی کو محصُول کی چوکی پر بیٹھے دیکھا اَور لیوی سے کہا، ”میرے پیروکار ہو جاؤ،“ اَور وہ اُٹھ کر یِسوعؔ کے پیچھے ہو لیٔے۔ یِسوعؔ لیوی کے گھر، میں کھانا کھانے بیٹھے، تو کیٔی محصُول لینے والے اَور گُنہگار لوگ یِسوعؔ اَور اُن کے شاگردوں کے ساتھ کھانے میں شریک ہو گئے، اَیسے بہت سے لوگ یِسوعؔ کے پیچھے ہو لیٔے تھے۔ شَریعت کے عالِم جو فرِیسی فرقہ سے تعلّق رکھتے تھے یِسوعؔ کو گُنہگاروں اَور محصُول لینے والوں کے ساتھ کھاتے دیکھا، تو فریسیوں نے شاگردوں سے پُوچھا: ”یہ محصُول لینے والوں اَور گُنہگاروں کے ساتھ کیوں کھاتا ہے؟“ یِسوعؔ نے یہ سُن کر اُن کو جَواب دیا، ”بیماریوں کو طبیب کی ضروُرت ہوتی ہے، صحت مندوں کو نہیں۔ میں راستبازوں کو نہیں، بَلکہ گُنہگاروں کو بُلانے آیا ہُوں۔“ ایک دفعہ حضرت یُوحنّا، کے شاگرد اَور فرِیسی روزہ سے تھے۔ کُچھ لوگوں نے آکر یِسوعؔ سے پُوچھا، ”کیا وجہ ہے کہ حضرت یُوحنّا کے شاگرد اَور فریسیوں کے شاگرد تو روزہ رکھتے ہیں، مگر آپ کے شاگرد نہیں رکھتے؟“ یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”کیا براتی دُلہا کی مَوجُودگی میں روزہ رکھ سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں، کیونکہ جَب تک دُلہا اُن کے ساتھ ہے وہ روزے نہیں رکھ سکتے۔ لیکن وہ دِن آئے گا کہ دُلہا اُن سے جُدا کیا جائے گا، تَب وہ روزہ رکھیں گے۔ ”پُرانی پوشاک پر نئے کپڑے کا پیوند کویٔی نہیں لگاتا اَور اگر اَیسا کرتا ہے، تو نیا کپڑا اُس پُرانی پوشاک میں سے کُچھ کھینچ لے گا، اَور پوشاک زِیادہ پھٹ جائے گی۔ نئے انگوری شِیرے کو بھی پُرانی مَشکوں میں کویٔی نہیں بھرتا ورنہ، مَشکیں اُس انگوری شِیرے سے پھٹ جایٔیں گی اَور انگوری شِیرے کے ساتھ مَشکیں بھی برباد ہو جایٔیں گی۔ لہٰذا نئے انگوری شِیرے کو، نئی مَشکوں ہی میں بھرنا چاہئے۔“ ایک دفعہ وہ سَبت کے دِن اناج کے کھیتوں، میں سے ہوکر گزر رہے تھے، اَور یِسوعؔ کے شاگرد راستے میں چلتے چلتے، بالیں توڑنے لگے۔ اِس پر فریسیوں نے یِسوعؔ سے کہا، ”دیکھو، یہ لوگ اَیسا کام کیوں کر رہے ہیں جو سَبت کے دِن جائز نہیں ہے؟“ یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”کیا تُم نے کبھی نہیں پڑھا کہ جَب حضرت داویؔد اَور اُن کے ساتھیوں کو بھُوک کے باعث کھانے کی ضروُرت تھی تو اُنہُوں نے کیا کیا؟ اعلیٰ کاہِن ابیاترؔ کے زمانہ میں، حضرت داویؔد خُدا کے گھر میں داخل ہویٔے اَور نذر کی ہویٔی روٹیاں کھایٔیں اَیسی روٹیوں کا کھانا کاہِنوں کے سِوائے کسی اَور کے لیٔے روا نہیں تھا۔ اَور اُنہُوں نے خُود بھی کھایٔیں اَور اَپنے ساتھیوں کو بھی یہ روٹیاں کھانے کو دیں۔“ یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”سَبت اِنسان کے لیٔے بنایا گیا تھا، نہ کہ اِنسان سَبت کے لیٔے۔ پس اِبن آدمؔ سَبت کا بھی مالک ہے۔“

دوسروں تک پہنچائیں
مرقس 2 UCV

مرقس 13:2-28 URDGVU (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)

پھر عیسیٰ نکل کر دوبارہ جھیل کے کنارے گیا۔ ایک بڑی بھیڑ اُس کے پاس آئی تو وہ اُنہیں سکھانے لگا۔ چلتے چلتے اُس نے حلفئی کے بیٹے لاوی کو دیکھا جو ٹیکس لینے کے لئے اپنی چوکی پر بیٹھا تھا۔ عیسیٰ نے اُس سے کہا، ”میرے پیچھے ہو لے۔“ اور لاوی اُٹھ کر اُس کے پیچھے ہو لیا۔ بعد میں عیسیٰ لاوی کے گھر میں کھانا کھا رہا تھا۔ اُس کے ساتھ نہ صرف اُس کے شاگرد بلکہ بہت سے ٹیکس لینے والے اور گناہ گار بھی تھے، کیونکہ اُن میں سے بہتیرے اُس کے پیروکار بن چکے تھے۔ شریعت کے کچھ فریسی عالِموں نے اُسے یوں ٹیکس لینے والوں اور گناہ گاروں کے ساتھ کھاتے دیکھا تو اُس کے شاگردوں سے پوچھا، ”یہ ٹیکس لینے والوں اور گناہ گاروں کے ساتھ کیوں کھاتا ہے؟“ یہ سن کر عیسیٰ نے جواب دیا، ”صحت مندوں کو ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مریضوں کو۔ مَیں راست بازوں کو نہیں بلکہ گناہ گاروں کو بُلانے آیا ہوں۔“ یحییٰ کے شاگرد اور فریسی روزہ رکھا کرتے تھے۔ ایک موقع پر کچھ لوگ عیسیٰ کے پاس آئے اور پوچھا، ”آپ کے شاگرد روزہ کیوں نہیں رکھتے جبکہ یحییٰ اور فریسیوں کے شاگرد روزہ رکھتے ہیں؟“ عیسیٰ نے جواب دیا، ”شادی کے مہمان کس طرح روزہ رکھ سکتے ہیں جب دُولھا اُن کے درمیان ہے؟ جب تک دُولھا اُن کے ساتھ ہے وہ روزہ نہیں رکھ سکتے۔ لیکن ایک دن آئے گا جب دُولھا اُن سے لے لیا جائے گا۔ اُس وقت وہ ضرور روزہ رکھیں گے۔ کوئی بھی نئے کپڑے کا ٹکڑا کسی پرانے لباس میں نہیں لگاتا۔ اگر وہ ایسا کرے تو نیا ٹکڑا بعد میں سکڑ کر پرانے لباس سے الگ ہو جائے گا۔ یوں پرانے لباس کی پھٹی ہوئی جگہ پہلے کی نسبت زیادہ خراب ہو جائے گی۔ اِسی طرح کوئی بھی انگور کا تازہ رس پرانی اور بےلچک مشکوں میں نہیں ڈالتا۔ اگر وہ ایسا کرے تو پرانی مشکیں پیدا ہونے والی گیس کے باعث پھٹ جائیں گی۔ نتیجے میں مَے اور مشکیں دونوں ضائع ہو جائیں گی۔ اِس لئے انگور کا تازہ رس نئی مشکوں میں ڈالا جاتا ہے جو لچک دار ہوتی ہیں۔“ ایک دن عیسیٰ اناج کے کھیتوں میں سے گزر رہا تھا۔ چلتے چلتے اُس کے شاگرد کھانے کے لئے اناج کی بالیں توڑنے لگے۔ سبت کا دن تھا۔ یہ دیکھ کر فریسیوں نے عیسیٰ سے پوچھا، ”دیکھو، یہ کیوں ایسا کر رہے ہیں؟ سبت کے دن ایسا کرنا منع ہے۔“ عیسیٰ نے جواب دیا، ”کیا تم نے کبھی نہیں پڑھا کہ داؤد نے کیا کِیا جب اُسے اور اُس کے ساتھیوں کو بھوک لگی اور اُن کے پاس خوراک نہیں تھی؟ اُس وقت ابیاتر امامِ اعظم تھا۔ داؤد اللہ کے گھر میں داخل ہوا اور رب کے لئے مخصوص شدہ روٹیاں لے کر کھائیں، اگرچہ صرف اماموں کو اِنہیں کھانے کی اجازت ہے۔ اور اُس نے اپنے ساتھیوں کو بھی یہ روٹیاں کھلائیں۔“ پھر اُس نے کہا، ”انسان کو سبت کے دن کے لئے نہیں بنایا گیا بلکہ سبت کا دن انسان کے لئے۔ چنانچہ ابنِ آدم سبت کا بھی مالک ہے۔“

دوسروں تک پہنچائیں
مرقس 2 URDGVU

مرقس 13:2-28 URD (کِتابِ مُقادّس)

وہ پِھر باہر جِھیل کے کنارے گیا اور ساری بِھیڑ اُس کے پاس آئی اور وہ اُن کو تعلِیم دینے لگا۔ جب وہ جا رہا تھا تو اُس نے حلفئی کے بیٹے لاوؔی کو محصُول کی چَوکی پر بَیٹھے دیکھا اور اُس سے کہا میرے پِیچھے ہو لے۔ پس وہ اُٹھ کر اُس کے پِیچھے ہو لیا۔ اور یُوں ہُؤا کہ وہ اُس کے گھر میں کھانا کھانے بَیٹھا اور بُہت سے محصُول لینے والے اور گُنہگار لوگ یِسُوعؔ اور اُس کے شاگِردوں کے ساتھ کھانے بَیٹھے کیونکہ وہ بُہت تھے اور اُس کے پِیچھے ہو لِئے تھے۔ اور فرِیسِیوں کے فقِیہوں نے اُسے گُنہگاروں اور محصُول لینے والوں کے ساتھ کھاتے دیکھ کر اُس کے شاگِردوں سے کہا یہ تو محصُول لینے والوں اور گُنہگاروں کے ساتھ کھاتا پِیتا ہے۔ یِسُوعؔ نے یہ سُن کر اُن سے کہا تندرُستوں کو طبِیب کی ضرُورت نہیں بلکہ بِیماروں کو۔ مَیں راست بازوں کو نہیں بلکہ گُنہگاروں کو بُلانے آیا ہُوں۔ اور یُوحنّا کے شاگِرد اور فرِیسی روزہ سے تھے۔ اُنہوں نے آ کر اُس سے کہا یُوحنّا کے شاگِرد اور فرِیسِیوں کے شاگِرد تو روزہ رکھتے ہیں لیکن تیرے شاگِرد کیوں روزہ نہیں رکھتے؟ یِسُوعؔ نے اُن سے کہا کیا بَراتی جب تک دُلہا اُن کے ساتھ ہے روزہ رکھ سکتے ہیں؟ جِس وقت تک دُلہا اُن کے ساتھ ہے وہ روزہ نہیں رکھ سکتے۔ مگر وہ دِن آئیں گے کہ دُلہا اُن سے جُدا کِیا جائے گا۔ اُس وقت وہ روزہ رکھّیں گے۔ کورے کپڑے کا پَیوند پُرانی پوشاک پر کوئی نہیں لگاتا۔ نہیں تو وہ پَیوند اُس پوشاک میں سے کُچھ کھینچ لے گا یعنی نیا پُرانی سے اور وہ زِیادہ پھٹ جائے گی۔ اور نئی مَے کو پُرانی مَشکوں میں کوئی نہیں بھرتا۔ نہیں تو مَشکیں مَے سے پھٹ جائیں گی اور مَے اور مَشکیں دونوں برباد ہو جائیں گی بلکہ نئی مَے کو نئی مَشکوں میں بھرتے ہیں۔ اور یُوں ہُؤا کہ وہ سبت کے دِن کھیتوں میں ہو کر جا رہا تھا اور اُس کے شاگِرد راہ میں چلتے ہُوئے بالیں توڑنے لگے۔ اور فرِیسیوں نے اُس سے کہا دیکھ یہ سبت کے دِن وہ کام کیوں کرتے ہیں جو روا نہیں؟ اُس نے اُن سے کہا کیا تُم نے کبھی نہیں پڑھا کہ داؤُد نے کیا کِیا جب اُس کو اور اُس کے ساتِھیوں کو ضرُورت ہُوئی اور وہ بُھوکے ہُوئے؟ وہ کیوں کر ابیاؔتر سردار کاہِن کے دِنوں میں خُدا کے گھر میں گیا اور اُس نے نذر کی روٹِیاں کھائِیں جِن کو کھانا کاہِنوں کے سِوا اَور کِسی کو روا نہیں اور اپنے ساتِھیوں کو بھی دیں؟ اور اُس نے اُن سے کہا سبت آدمی کے لِئے بنا ہے نہ آدمی سبت کے لِئے۔ پس اِبنِ آدمؔ سبت کا بھی مالِک ہے۔

دوسروں تک پہنچائیں
مرقس 2 URD