احبار 1:25-22 - Compare All Versions

احبار 1:25-22 UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)

اَور یَاہوِہ نے کوہِ سِینؔائی پر مَوشہ سے فرمایا، ”بنی اِسرائیل کو یہ حُکم دو: ’جَب تُم اُس مُلک میں داخل ہو، جو میں تُمہیں دینے والا ہُوں، تو وہاں کی زمین بھی یَاہوِہ کے لیٔے سَبت منائے۔ تُم چھ سال تک اَپنے کھیتوں میں بیج بونا اَور چھ سال تک اَپنے انگوری باغ کو چھانٹنا اَور اُن کے پھل جمع کرنا۔ لیکن ساتویں سال زمین کے لیٔے آرام کا سَبت ہو؛ یعنی یَاہوِہ کے لیٔے سَبت۔ لہٰذا ساتویں سال تُم نہ تو اَپنے کھیتوں میں بیج بونا اَور نہ اَپنے انگوری باغ کو چھانٹنا۔ اَور نہ اَپنی خُودرَو فصل کو کاٹنا اَور نہ بے چھٹی تاکوں کے انگوروں کو توڑنا؛ چنانچہ یہ زمین کے لیٔے ایک خاص آرام کا سال ہوگا۔ اَور سَبت سال کے دَوران جو کچھ زمین سے پیدا ہوگا، وہ تُم سَب کے لیٔے خُوراک ہوگی، یعنی تمہارے لیٔے، تمہارے خادِموں اَور خادِماؤں کے لیٔے، اَور مزدُوروں اَور تمہارے درمیان رہنے والے پردیسی باشِندوں کے لیٔے، تمہارے مویشیوں اَور تمہارے مُلک کے جنگلی جانوروں کے لیٔے بھی ہوگا۔ اَورجو کچھ زمین میں پیدا ہو اُسے سَب کھا سکتے ہیں۔ ” ’تُم سات سَبت سالوں کی بھی گِنتی کرنا؛ یعنی سات گُنا سات سال گِن لینا، یُوں تمہارے حِساب سے برسوں کے سات سَبتوں کی کُل مُدّت اُنچاس سال ہوں گے۔ تَب تُم ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو ہر جگہ نرسنگا پھنکوانا۔ تُم کفّارہ کے دِن اَپنے سارے مُلک میں نرسنگا پھنکوانا۔ تُم پچاسویں بَرس کو مُقدّس جاننا اَور مُلک بھر میں سَب باشِندوں کے لیٔے آزادی کا اعلان کرنا۔ یہ سال تمہارے لیٔے یوویلؔ سال کہلائے گا اَور اِس سال میں تُم میں سے ہر ایک اَپنی اَپنی خاندانی مِلکیّت کا پھر سے مالک ہو جایٔےگا اَور ہر شخص اَپنی اَپنی برادری والوں میں پھر سے شامل ہو جایٔے۔ پچاسواں بَرس تمہارے لیٔے یوویلؔ کا سال ہو؛ اِس سال تُم نہ تو کچھ بیج بونا، اَور نہ اَپنے آپ پیدا ہوئی فصل کاٹنا اَور نہ بِنا چھٹی تاکوں کے انگور جمع کرنا۔ کیونکہ یہ یوویلؔ کا سال ہے۔ یہ تمہارے لیٔے مُقدّس ٹھہرایا گیا ہے۔ تُم صِرف کھیتوں کی خُودرَو پیداوار پر گُزارا کرنا۔ ” ’اِس یوویلؔ کے سال میں ہر ایک اَپنی اَپنی خاندانی مِلکیّت کو پھر سے لَوٹ جایٔے۔ ” ’اگر تُم اَپنے پڑوسی کو زمین بیچو یا اُس سے خریدو تو، تُم ایک دُوسرے سے دھوکے سے کام نہ لینا۔ اَور جَب تُم اَپنے پڑوسی سے زمین خریدو، تو اُس کی قیمت پچھلے یوویلؔ کے بعد کے سالوں کے شُمار کے مُطابق ہونا ضروُری ہے، اَور بیچنے والا بھی اِس کی قیمت اگلے یوویلؔ کے بچے ہویٔے فصلوں کے برسوں کے شُمار کے مُطابق بیچے۔ اَور جَب سالوں کی تعداد زِیادہ ہو تو دام بڑھا دینا اَور جَب کم ہو تو قیمت کو گھٹا دینا کیونکہ جو وہ تُم کو بیچ رہاہے وہ اُن سالوں کی فصلوں کی تعداد ہے۔ لہٰذا تُم ایک دُوسرے کو دھوکا مت دینا بَلکہ اَپنے خُدا سے ڈرنا۔ مَیں یَاہوِہ تمہارا خُدا ہُوں۔ ” ’پس تُم میرے قوانین پر عَمل کرنا اَور میرے فرمان کو پُوری طرح ماَننا تو تُم اُس مُلک میں سلامتی کے ساتھ بسے رہوگے۔ تَب زمین اَپنی پیداوار دے گی اَور تُم پیٹ بھر کر کھاؤگے اَور وہاں سلامتی کے ساتھ بسے رہوگے۔ اَور اگر تمہارے ذہن میں یہ سوال اُٹھے، ”جَب ہم نہ تو بوئیں گے اَور نہ ہی اَپنی فصلیں کاٹیں گے تو پھر ہم ساتویں بَرس کیا کھایٔیں گے؟“ تَب میں چھٹے بَرس میں تُمہیں اِس قدر برکت دُوں گا کہ آنے والے اگلے تین سال تک تمہارے کھانے واسطے زمین کافی پیداوار دے گی۔ اَور آٹھویں سال کے دَوران بیج بوتے وقت تُم وُہی اناج اِستعمال کروگے بَلکہ نویں سال کی فصل جمع کرکے گھر لانے تک بھی اُسی میں سے کھاتے رہوگے۔

دوسروں تک پہنچائیں
احبار 25 UCV

احبار 1:25-22 URDGVU (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)

رب نے سینا پہاڑ پر موسیٰ سے کہا، ”اسرائیلیوں کو بتانا کہ جب تم اُس ملک میں داخل ہو گے جو مَیں تمہیں دوں گا تو لازم ہے کہ رب کی تعظیم میں زمین ایک سال آرام کرے۔ چھ سال کے دوران اپنے کھیتوں میں بیج بونا، اپنے انگور کے باغوں کی کانٹ چھانٹ کرنا اور اُن کی فصلیں جمع کرنا۔ لیکن ساتواں سال زمین کے لئے آرام کا سال ہے، رب کی تعظیم میں سبت کا سال۔ اُس سال نہ اپنے کھیتوں میں بیج بونا، نہ اپنے انگور کے باغوں کی کانٹ چھانٹ کرنا۔ جو اناج خود بخود اُگتا ہے اُس کی کٹائی نہ کرنا اور جو انگور اُس سال لگتے ہیں اُن کو توڑ کر جمع نہ کرنا، کیونکہ زمین کو ایک سال کے لئے آرام کرنا ہے۔ البتہ جو بھی یہ زمین آرام کے سال میں پیدا کرے گی اُس سے تم اپنی روزانہ کی ضروریات پوری کر سکتے ہو یعنی تُو، تیرے غلام اور لونڈیاں، تیرے مزدور، تیرے غیرشہری، تیرے ساتھ رہنے والے پردیسی، تیرے مویشی اور تیری زمین پر رہنے والے جنگلی جانور۔ جو کچھ بھی یہ زمین پیدا کرتی ہے وہ کھایا جا سکتا ہے۔ سات سبت کے سال یعنی 49 سال کے بعد ایک اَور کام کرنا ہے۔ پچاسویں سال کے ساتویں مہینے کے دسویں دن یعنی کفارہ کے دن اپنے ملک کی ہر جگہ نرسنگا بجانا۔ پچاسواں سال مخصوص و مُقدّس کرو اور پورے ملک میں اعلان کرو کہ تمام باشندوں کو آزاد کر دیا جائے۔ یہ بحالی کا سال ہو جس میں ہر شخص کو اُس کی ملکیت واپس کی جائے اور ہر غلام کو آزاد کیا جائے تاکہ وہ اپنے رشتے داروں کے پاس واپس جا سکے۔ یہ پچاسواں سال بحالی کا سال ہو، اِس لئے نہ اپنے کھیتوں میں بیج بونا، نہ خود بخود اُگنے والے اناج کی کٹائی کرنا، اور نہ انگور توڑ کر جمع کرنا۔ کیونکہ یہ بحالی کا سال ہے جو تمہارے لئے مخصوص و مُقدّس ہے۔ روزانہ اُتنی ہی پیداوار لینا کہ ایک دن کی ضروریات پوری ہو جائیں۔ بحالی کے سال میں ہر شخص کو اُس کی ملکیت واپس کی جائے۔ چنانچہ جب کبھی تم اپنے کسی ہم وطن بھائی کو زمین بیچتے یا اُس سے خریدتے ہو تو اُس سے ناجائز فائدہ نہ اُٹھانا۔ زمین کی قیمت اِس حساب سے مقرر کی جائے کہ وہ اگلے بحالی کے سال تک کتنے سال فصلیں پیدا کرے گی۔ اگر بہت سال رہ گئے ہوں تو اُس کی قیمت زیادہ ہو گی، اور اگر کم سال رہ گئے ہوں تو اُس کی قیمت کم ہو گی۔ کیونکہ اُن فصلوں کی تعداد بِک رہی ہے جو زمین اگلے بحالی کے سال تک پیدا کر سکتی ہے۔ اپنے ہم وطن سے ناجائز فائدہ نہ اُٹھانا بلکہ رب اپنے خدا کا خوف ماننا، کیونکہ مَیں رب تمہارا خدا ہوں۔ میری ہدایات پر عمل کرنا اور میرے احکام کو مان کر اُن کے مطابق چلنا۔ تب تم اپنے ملک میں محفوظ رہو گے۔ زمین اپنی پوری پیداوار دے گی، تم سیر ہو جاؤ گے اور محفوظ رہو گے۔ ہو سکتا ہے کوئی پوچھے، ’ہم ساتویں سال میں کیا کھائیں گے جبکہ ہم بیج نہیں بوئیں گے اور فصل نہیں کاٹیں گے؟‘ جواب یہ ہے کہ مَیں چھٹے سال میں زمین کو اِتنی برکت دوں گا کہ اُس سال کی پیداوار تین سال کے لئے کافی ہو گی۔ جب تم آٹھویں سال بیج بوؤ گے تو تمہارے پاس چھٹے سال کی اِتنی پیداوار باقی ہو گی کہ تم فصل کی کٹائی تک گزارہ کر سکو گے۔

دوسروں تک پہنچائیں
احبار 25 URDGVU

احبار 1:25-22 URD (کِتابِ مُقادّس)

اور خُداوند نے کوہِ سِیناؔ پر مُوسیٰؔ سے کہا کہ بنی اِسرائیل سے کہہ کہ جب تُم اُس مُلک میں جو مَیں تُم کو دیتا ہُوں داخِل ہو جاؤ تو اُس کی زمِین بھی خُداوند کے لِئے سبت کو مانے۔ تُو اپنے کھیت کو چھ برس بونا اور اپنے انگُورِستان کو چھ برس چھانٹنا اور اُس کا پَھل جمع کرنا۔ لیکن ساتویں سال زمِین کے لِئے خاص آرام کا سبت ہو۔ یہ سبت خُداوند کے لِئے ہو۔ اِس میں تُو نہ اپنے کھیت کو بونا اور نہ اپنے انگُورِستان کو چھانٹنا۔ اور نہ اپنی خودرَو فصل کو کاٹنا اور نہ اپنی بے چھٹی تاکوں کے انگُوروں کو توڑنا۔ یہ زمِین کے لِئے خاص آرام کا سال ہو۔ اور زمِین کا یہ سبت تیرے اور تیرے غُلاموں اور تیری لَونڈِیوں اور مزدُوروں اور اُن پردیسِیوں کے لِئے جو تیرے ساتھ رہتے ہیں تُمہاری خُوراک کا باعِث ہو گا۔ اور اُس کی ساری پَیداوار تیرے چَوپایوں اور تیرے مُلک کے اَور جانوروں کے لِئے خُورِش ٹھہرے گی۔ اور تُو برسوں کے سات سبتوں کو یعنی سات گُنا سات سال گِن لینا اور تیرے حِساب سے برسوں کے سات سبتوں کی مُدّت کُل اُنچاس سال ہوں گے۔ تب تُو ساتویں مہِینے کی دسوِیں تارِیخ کو بڑا نرسِنگا زور سے پُھنکوانا۔ تُم کفّارہ کے روز اپنے سارے مُلک میں یہ نرسِنگا پُھنکوانا۔ اور تُم پچاسویں برس کو مُقدّس جاننا اور تمام مُلک میں سب باشندوں کے لِئے آزادی کی مُنادی کرانا۔ یہ تُمہارے لِئے یوبلی ہو۔ اِس میں تُم میں سے ہر ایک اپنی مِلکِیّت کا مالِک ہو اور ہر شخص اپنے خاندان میں پِھر شامِل ہو جائے۔ وہ پچاسواں برس تُمہارے لِئے یوبلی ہو۔ تُم اُس میں کُچھ نہ بونا اور نہ اُسے جو اپنے آپ پَیدا ہو جائے کاٹنا اور نہ بے چھٹی تاکوں کا انگُور جمع کرنا۔ کیونکہ وہ سالِ یوبلی ہو گا۔ سو وہ تُمہارے لِئے مُقدّس ٹھہرے۔ تُم اُس کی پَیداوار کو کھیت سے لے لے کر کھانا۔ اُس سالِ یوبلی میں تُم میں سے ہر ایک اپنی مِلکِیّت کا پِھر مالِک ہو جائے۔ اور اگر تُو اپنے ہمسایہ کے ہاتھ کُچھ بیچے یا اپنے ہمسایہ سے کُچھ خریدے تو تُم ایک دُوسرے پر اندھیر نہ کرنا۔ یوبلی کے بعد جِتنے برس گُذرے ہوں اُن کے شُمار کے مُوافِق تُو اپنے ہمسایہ سے اُسے خریدنا اور وہ اُسے فصل کے برسوں کے شُمار کے مُطابِق تیرے ہاتھ بیچے۔ جِتنے زِیادہ برس ہوں اُتنا ہی دام زِیادہ کرنا اور جِتنے کم برس ہوں اُتنی ہی اُس کی قیمت گھٹانا کیونکہ برسوں کے شُمار کے مُوافِق وہ اُن کی فصل تیرے ہاتھ بیچتا ہے۔ اور تُم ایک دُوسرے پر اندھیر نہ کرنا بلکہ تُو اپنے خُدا سے ڈرتے رہنا کیونکہ مَیں خُداوند تُمہارا خُدا ہُوں۔ سو تُم میری شرِیعت پر عمل کرنا اور میرے حُکموں کو ماننا اور اُن پر چلنا تو تُم اُس مُلک میں امن کے ساتھ بسے رہو گے۔ اور زمِین پھلے گی اور تُم پیٹ بھر کر کھاؤ گے اور وہاں امن کے ساتھ رہا کرو گے۔ اور اگر تُم کو خیال ہو کہ ہم ساتویں برس کیا کھائیں گے؟ کیونکہ دیکھو ہم کو نہ تو بونا ہے اور نہ اپنی پَیداوار کو جمع کرنا ہے۔ تو مَیں چھٹے ہی برس اَیسی برکت تُم پر نازِل کروں گا کہ تِینوں سال کے لِئے کافی غلّہ پَیدا ہو جائے گا۔ اور آٹھویں برس پِھر جوتنا بونا اور پِچھلا غلّہ کھاتے رہنا بلکہ جب تک نویں سال کے بوئے ہُوئے کی فصل نہ کاٹ لو اُس وقت تک وہی پِچھلا غلّہ کھاتے رہو گے۔

دوسروں تک پہنچائیں
احبار 25 URD