یوحنا 52:6-71 - Compare All Versions
یوحنا 52:6-71 UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
یہُودی رہنماؤں میں جھگڑا شروع ہو گیا اَور وہ کہنے لگے، ”یہ آدمی ہمیں کیسے اَپنا گوشت کھانے کے لیٔے دے سَکتا ہے؟“ یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں کہ جَب تک تُم اِبن آدمؔ کا گوشت نہ کھاؤ اَور اُس کا خُون نہ پیو، تُم میں زندگی نہیں۔ جو کویٔی میرا گوشت کھاتا اَور میرا خُون پیتا ہے اُس میں اَبدی زندگی ہے اَور مَیں اُسے آخِری دِن پھر سے زندہ کروں گا۔ اِس لیٔے کہ میرا گوشت واقعی کھانے کی چیز ہے اَور میرا خُون واقعی پینے کی چیز ہے۔ جو کویٔی میرا گوشت کھاتا اَور میرا خُون پیتا ہے، مُجھ میں قائِم رہتاہے اَور مَیں اُس میں۔ میرا باپ جِس نے مُجھے بھیجا ہے زندہ ہے اَور مَیں بھی باپ کی وجہ سے زندہ ہُوں۔ اِسی طرح جو مُجھے کھائے گا وہ میری وجہ سے زندہ رہے گا۔ یہی وہ روٹی ہے جو آسمان سے اُتری۔ تمہارے آباؤاَجداد نے مَنّ کھایا پھر بھی مَر گیٔے لیکن جو اِس روٹی کو کھاتا ہے، ہمیشہ تک زندہ رہے گا۔“ یِسوعؔ نے یہ باتیں اُس وقت کہیں جَب وہ کَفرنحُومؔ شہر کے یہُودی عبادت گاہ میں تعلیم دے رہے تھے۔ یہ باتیں سُن کر یِسوعؔ کے بہت سے شاگرد کہنے لگے، ”یہ تعلیم بڑی سخت ہے۔ اِسے کون قبُول کر سَکتا ہے؟“ یِسوعؔ نے جان لیا کہ اُن کے شاگرد اِس بات پر آپَس میں بُڑبُڑا رہے ہیں لہٰذا خُداوؔند نے اُن سے کہا، ”کیا تُمہیں میری باتوں سے ٹھیس پہُنچی ہے؟ اگر تُم اِبن آدمؔ کو اُوپر جاتے دیکھوگے جہاں وہ پہلے تھا! تو کیا ہوگا؟ رُوح زندگی بخشتی ہے؛ جِسم سے کویٔی فائدہ نہیں جو باتیں مَیں نے تُم سے کہی ہیں وہ رُوح اَور زندگی دونوں سے پُر ہیں۔ پھر بھی تُم میں بعض اَیسے ہیں جو ایمان نہیں لایٔے۔“ یِسوعؔ کو شروع سے علم تھا کہ اُن میں کون ایمان نہیں لایٔے گا اَور کون اُنہیں پکڑوائے گا۔ پھر یِسوعؔ نے فرمایا، ”اِسی لیٔے مَیں نے تُم سے کہاتھا کہ میرے پاس کویٔی نہیں آتا جَب تک کہ باپ اُسے کھینچ نہ لایٔے۔“ اِس پر اُن کے کیٔی شاگرد یِسوعؔ کو چھوڑکر چلے گیٔے اَور پھر اُن کے ساتھ نہ رہے۔ ”تَب یِسوعؔ نے اُن بَارہ شاگردوں سے پُوچھا، کیا تُم بھی مُجھے چھوڑ جانا چاہتے ہو؟“ شمعُونؔ پطرس نے آپ کو جَواب دیا، ”اَے خُداوؔند، ہم کِس کے پاس جایٔیں؟ اَبدی زندگی کی باتیں تو آپ ہی کے پاس ہیں۔ ہم ایمان لایٔے اَور جانتے ہیں کہ آپ ہی خُدا کے قُدُّوس ہیں۔“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”مَیں نے تُم بَارہ کو چُن تو لیا ہے لیکن تُم میں سے ایک شخص شیطان ہے!“ (اُس کا مطلب شمعُونؔ اِسکریوتی کے بیٹے یہُوداہؔ سے تھا، جو، اگرچہ اُن بَارہ شاگردوں میں سے ایک، بعد میں یِسوعؔ کو پکڑوانے کو تھا۔)
یوحنا 52:6-71 URDGVU (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
یہودی بڑی سرگرمی سے ایک دوسرے سے بحث کرنے لگے، ”یہ آدمی ہمیں کس طرح اپنا گوشت کھلا سکتا ہے؟“ عیسیٰ نے اُن سے کہا، ”مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں کہ صرف ابنِ آدم کا گوشت کھانے اور اُس کا خون پینے ہی سے تم میں زندگی ہو گی۔ جو میرا گوشت کھائے اور میرا خون پیئے ابدی زندگی اُس کی ہے اور مَیں اُسے قیامت کے دن مُردوں میں سے پھر زندہ کروں گا۔ کیونکہ میرا گوشت حقیقی خوراک اور میرا خون حقیقی پینے کی چیز ہے۔ جو میرا گوشت کھاتا اور میرا خون پیتا ہے وہ مجھ میں قائم رہتا ہے اور مَیں اُس میں۔ مَیں اُس زندہ باپ کی وجہ سے زندہ ہوں جس نے مجھے بھیجا۔ اِسی طرح جو مجھے کھاتا ہے وہ میری ہی وجہ سے زندہ رہے گا۔ یہی وہ روٹی ہے جو آسمان سے اُتری ہے۔ تمہارے باپ دادا مَن کھانے کے باوجود مر گئے، لیکن جو یہ روٹی کھائے گا وہ ابد تک زندہ رہے گا۔“ عیسیٰ نے یہ باتیں اُس وقت کیں جب وہ کفرنحوم میں یہودی عبادت خانے میں تعلیم دے رہا تھا۔ یہ سن کر اُس کے بہت سے شاگردوں نے کہا، ”یہ باتیں ناگوار ہیں۔ کون اِنہیں سن سکتا ہے!“ عیسیٰ کو معلوم تھا کہ میرے شاگرد میرے بارے میں بڑبڑا رہے ہیں، اِس لئے اُس نے کہا، ”کیا تم کو اِن باتوں سے ٹھیس لگی ہے؟ تو پھر تم کیا سوچو گے جب ابنِ آدم کو اوپر جاتے دیکھو گے جہاں وہ پہلے تھا؟ اللہ کا روح ہی زندہ کرتا ہے جبکہ جسمانی طاقت کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ جو باتیں مَیں نے تم کو بتائی ہیں وہ روح اور زندگی ہیں۔ لیکن تم میں سے کچھ ہیں جو ایمان نہیں رکھتے۔“ (عیسیٰ تو شروع سے ہی جانتا تھا کہ کون کون ایمان نہیں رکھتے اور کون مجھے دشمن کے حوالے کرے گا۔) پھر اُس نے کہا، ”اِس لئے مَیں نے تم کو بتایا کہ صرف وہ شخص میرے پاس آ سکتا ہے جسے باپ کی طرف سے یہ توفیق ملے۔“ اُس وقت سے اُس کے بہت سے شاگرد اُلٹے پاؤں پھر گئے اور آئندہ کو اُس کے ساتھ نہ چلے۔ تب عیسیٰ نے بارہ شاگردوں سے پوچھا، ”کیا تم بھی چلے جانا چاہتے ہو؟“ شمعون پطرس نے جواب دیا، ”خداوند، ہم کس کے پاس جائیں؟ ابدی زندگی کی باتیں تو آپ ہی کے پاس ہیں۔ اور ہم نے ایمان لا کر جان لیا ہے کہ آپ اللہ کے قدوس ہیں۔“ جواب میں عیسیٰ نے کہا، ”کیا مَیں نے تم بارہ کو نہیں چنا؟ توبھی تم میں سے ایک شخص شیطان ہے۔“ (وہ شمعون اسکریوتی کے بیٹے یہوداہ کی طرف اشارہ کر رہا تھا جو بارہ شاگردوں میں سے ایک تھا اور جس نے بعد میں اُسے دشمن کے حوالے کر دیا۔)
یوحنا 52:6-71 URD (کِتابِ مُقادّس)
پس یہُودی یہ کہہ کر آپس میں جھگڑنے لگے کہ یہ شخص اپنا گوشت ہمیں کیوں کر کھانے کو دے سکتا ہے؟ یِسُوعؔ نے اُن سے کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک تُم اِبنِ آدمؔ کا گوشت نہ کھاؤ اور اُس کا خُون نہ پِیو تُم میں زِندگی نہیں۔ جو میرا گوشت کھاتا اور میرا خُون پِیتا ہے ہمیشہ کی زِندگی اُس کی ہے اور مَیں اُسے آخِری دِن پِھر زِندہ کرُوں گا۔ کیونکہ میرا گوشت فی الحقِیقت کھانے کی چِیز اور میرا خُون فی الحقِیقت پِینے کی چِیز ہے۔ جو میرا گوشت کھاتا اور میرا خُون پِیتا ہے وہ مُجھ میں قائِم رہتا ہے اور مَیں اُس میں۔ جِس طرح زِندہ باپ نے مُجھے بھیجا اور مَیں باپ کے سبب سے زِندہ ہُوں اُسی طرح وہ بھی جو مُجھے کھائے گا میرے سبب سے زِندہ رہے گا۔ جو روٹی آسمان سے اُتری یِہی ہے۔ باپ دادا کی طرح نہیں کہ کھایا اور مَر گئے۔ جو یہ روٹی کھائے گا وہ ابد تک زِندہ رہے گا۔ یہ باتیں اُس نے کَفرؔنحُوم کے ایک عِبادت خانہ میں تعلِیم دیتے وقت کہِیں۔ اِس لِئے اُس کے شاگِردوں میں سے بُہتوں نے سُن کر کہا کہ یہ کلام ناگوار ہے۔ اِسے کَون سُن سکتا ہے؟ یِسُوع نے اپنے جی میں جان کر کہ میرے شاگِرد آپس میں اِس بات پر بُڑبُڑاتے ہیں اُن سے کہا کیا تُم اِس بات سے ٹھوکر کھاتے ہو؟ اگر تُم اِبنِ آدمؔ کو اُوپر جاتے دیکھو گے جہاں وہ پہلے تھا تو کیا ہو گا؟ زِندہ کرنے والی تو رُوح ہے۔ جِسم سے کُچھ فائِدہ نہیں۔ جو باتیں مَیں نے تُم سے کہی ہیں وہ رُوح ہیں اور زِندگی بھی ہیں۔ مگر تُم میں سے بعض اَیسے ہیں جو اِیمان نہیں لائے کیونکہ یِسُوعؔ شرُوع سے جانتا تھا کہ جو اِیمان نہیں لاتے وہ کَون ہیں اور کَون مُجھے پکڑوائے گا۔ پِھر اُس نے کہا اِسی لِئے مَیں نے تُم سے کہا تھا کہ میرے پاس کوئی نہیں آ سکتا جب تک باپ کی طرف سے اُسے یہ تَوفِیق نہ دی جائے۔ اِس پر اُس کے شاگِردوں میں سے بُہتیرے اُلٹے پِھر گئے اور اِس کے بعد اُس کے ساتھ نہ رہے۔ پس یِسُوعؔ نے اُن بارہ سے کہا کیا تُم بھی چلا جانا چاہتے ہو؟ شمعُون پطرس نے اُسے جواب دِیا اَے خُداوند! ہم کِس کے پاس جائیں؟ ہمیشہ کی زِندگی کی باتیں تو تیرے ہی پاس ہیں۔ اور ہم اِیمان لائے اور جان گئے ہیں کہ خُدا کا قُدُّوس تُو ہی ہے۔ یِسُوعؔ نے اُنہیں جواب دِیا کیا مَیں نے تُم بارہ کو نہیں چُن لِیا؟ اور تُم میں سے ایک شخص شَیطان ہے۔ اُس نے یہ شمعُوؔن اِسکریُوتی کے بیٹے یہُوداؔہ کی نِسبت کہا کیونکہ یِہی جو اُن بارہ میں سے تھا اُسے پکڑوانے کو تھا۔