واعظ 1:2-26 - Compare All Versions
واعظ 1:2-26 UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
مَیں نے اَپنے دِل سے کہا، ”چلو میں تُمہیں عیش و عشرت سے آزماؤں گا۔“ اَور مَعلُوم کروں گا کہ اِس میں اَچھّا کیا ہے۔ لیکن یہ تجربہ بھی باطِل ہی نِکلا۔ مَیں نے ہنسی کی بابت کہا، ”ہنسی بھی احمقی ہے اگر اِس سے ہمیں کویٔی دائمی فائدہ نہیں ہوتا“ اَور عیش و عشرت کی بابت، ”اِس سے کیا حاصل ہُوا؟“ مَیں نے ہر وقت حِکمت کے اُصُولوں کو مدِّ نظر رکھتے ہُوئے، احمقی کی حد تک اَپنے آپ کو مَے نوشی سے خُوش کرنے کی کوشش کی تاکہ میں مَعلُوم کر سکوں کہ کیا یہ کام آسمان کے تلے بنی آدمؔ کے لیٔے مفید ہے جسے وہ ساری زندگی اَنجام دیتے رہیں۔ مَیں نے بڑے بڑے کام شروع کئے: مَیں نے اَپنے لیٔے مکانات تعمیر کئے اَور تاکستان لگائے۔ مَیں نے باغیچے اَور سَیر گاہیں تیّار کیں اَور اُن میں ہر قِسم کے پھلدار درخت لگائے۔ مَیں نے جنگلی درختوں کے ذخیرہ کی آبپاشی کے لیٔے تالاب بنائے۔ مَیں نے غُلام اَور لونڈیاں مول لیں اَور میرے پاس دیگر خانہ زاد مُلازمین بھی تھے اَور جتنے بھی مُجھ سے پیشتر یروشلیمؔ میں تھے میرے پاس اُن سَب سے زِیادہ گائے بَیلوں اَور بھیڑ بکریوں کے ریوڑ تھے۔ مَیں نے اَپنے لیٔے سونا اَور چاندی اَور بادشاہوں اَور صوبوں کے خزانے جمع کئے۔ مَیں نے گانے والے مَرد خواتین اَور خُوبصورت لونڈیاں فراہم کیں جو اِنسان کے لیٔے اسبابِ عیش ہیں۔ اَور مَیں اُن سَب کی بہ نِسبت جو مُجھ سے پہلے یروشلیمؔ کے شہر میں تھے، زِیادہ افضل اَور عظمت والا بَن گیا اَور اِن سَب باتوں میں میری حِکمت نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا۔ اَور مَیں نے اَپنے آپ کو کسی بھی چیز سے جِس کی میری آنکھوں نے تمنّا کی، باز نہ رکھا؛ اَور مَیں نے اَپنے دِل کو کسی بھی عیش و عشرت سے باز نہ رکھا۔ میرا دِل میری ساری محنت سے خُوش ہُوا، اَور میری ساری محنت و مشقّت کا یہ اِنعام تھا۔ تاہم جَب مَیں نے اَپنے ہاتھوں کے تمام کاموں کا جائزہ لیا، اُس محنت و مشقّت کا جنہیں مَیں نے کیا تھا تو نتیجہ یہی نِکلا کہ سَب باطِل ہے اَور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے؛ اَور دُنیا میں اِس کا کویٔی دائمی فائدہ نہیں۔ پھر مَیں نے اَپنے خیالات کو حِکمت، بےہودگی اَور حماقت پر غور کرنے میں لگایا۔ بادشاہ کے جانشین آدمی کو کیا کرنا چاہئے؟ اُسے پچھلے بادشاہ کی مثال پر عَمل کرنا چاہئے۔ مَیں نے مَعلُوم کیا کہ جَیسے رَوشنی تاریکی سے بہتر ہے، وَیسے ہی حِکمت حماقت سے بہتر ہے۔ دانِشور کی آنکھیں اُس کے سَر میں ہوتی ہیں، جَب کہ احمق اَندھیرے میں چلتا ہے۔ لیکن مَیں نے مَعلُوم کیا کہ دونوں کو موت کا شِکار ہونا پڑتا ہے۔ تَب مَیں نے اَپنے دِل سے کہا، جو حَشر احمق کا ہوتاہے وُہی میرا بھی ہوگا۔ پھر مُجھے دانِشور ہونے سے کیا فائدہ مِلا؟ چنانچہ مَیں نے اَپنے دِل سے کہا، ”یہ بھی باطِل ہے۔“ کیونکہ احمق کی طرح دانِشور آدمی کی یاد بھی طویل عرصہ تک باقی نہ رہے گی؛ اَور آنے والے دِنوں میں دونوں ہی بھُلا دئیے جایٔیں گے۔ احمق کی طرح دانِشور کو بھی مَرنا ہی ہے! چنانچہ میں زندگی سے نفرت کرنے لگا کیونکہ جو بھی کام دُنیا میں کیا جاتا ہے وہ میرے لیٔے تکلیف دہ تھا۔ کیونکہ سَب کچھ باطِل اَور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔ اِس لیٔے مَیں نے جو بھی محنت و مشقّت اِس دُنیا میں کی تھی اُس سے مُجھے سخت نفرت ہو گئی کیونکہ مُجھے لازماً اُنہیں اَپنے بعد آنے والے شخص کے لیٔے چھوڑنا پڑےگا۔ اَور کون جانتا ہے کہ وہ دانشمند ہوگا یا احمق؟ بہرحال وہ میرے اُن تمام چیزوں کا مالک ہوگا جسے حاصل کرنے کے لیٔے مَیں نے دُنیا میں اَپنی پُوری طاقت و حِکمت خرچ کی ہے۔ یہ بھی باطِل ہی ہے۔ لہٰذا میرا دِل اُن سارے محنت کے کاموں سے جسے مَیں نے دُنیا میں کیا مایوس ہو گیا۔ کیونکہ خواہ کویٔی آدمی اَپنا کام حِکمت، علم اَور ہُنر سے کیوں نہ کرتا ہو، آخِرکار اُسے سَب کچھ لازماً کسی دُوسرے کے لیٔے چھوڑکر جانا پڑتا ہے جِس نے اُس کے لیٔے کچھ محنت ہی نہیں کی۔ یہ بھی باطِل اَور ایک بڑی بدقسمتی ہے۔ کسی آدمی کو اُن تمام مشقّت اَور جانفشانی کے بدلہ میں جو وہ دُنیا میں کرتا ہے، کیا حاصل ہوتاہے؟ حقیقت میں عمر بھر اُن کی پُوری محنت باعثِ رنج و غم ہے، یہاں تک کہ رات کو بھی اُس کے دِل و ذہن کو سکون نہیں ملتا۔ یہ بھی باطِل ہے۔ آدمی کے لیٔے اِس سے بہتر کچھ نہیں کہ وہ کھائے پیئے اَور اَپنی محنت و مشقّت کے پھل کے پھل کا لُطف اُٹھائے اَور خُود کو یقین دِلائے کہ اُس کی محنت فائدہ مند ہے، مَیں نے یہ بھی مَعلُوم کیا ہے کہ اَیسا استحقاق خُدا کی طرف سے ہی نصیب ہوتاہے۔ کیونکہ خُدا کے رحم و کرم کے بغیر کون کھا پی یا عیش و آرام سے رہ سَکتا ہے؟ جو اِنسان خُدا کو پسند آتا ہے اُسے وہ دانائی، علم اَور خُوشی عطا کرتا ہے لیکن گُنہگار کو وہ دولت جمع کرنے اَور اُس کے انبار لگانے کی ذمّہ داری دیتاہے تاکہ بعد میں یہ دولت خُدا کو پسند آنے والے شخص کے حوالہ کی جائے۔ یہ بھی باطِل اَور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔
واعظ 1:2-26 URDGVU (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
مَیں نے اپنے آپ سے کہا، ”آ، خوشی کو آزما کر اچھی چیزوں کا تجربہ کر!“ لیکن یہ بھی باطل ہی نکلا۔ مَیں بولا، ”ہنسنا بےہودہ ہے، اور خوشی سے کیا حاصل ہوتا ہے؟“ مَیں نے دل میں اپنا جسم مَے سے تر و تازہ کرنے اور حماقت اپنانے کے طریقے ڈھونڈ نکالے۔ اِس کے پیچھے بھی میری حکمت معلوم کرنے کی کوشش تھی، کیونکہ مَیں دیکھنا چاہتا تھا کہ جب تک انسان آسمان تلے جیتا رہے اُس کے لئے کیا کچھ کرنا مفید ہے۔ مَیں نے بڑے بڑے کام انجام دیئے، اپنے لئے مکان تعمیر کئے، تاکستان لگائے، متعدد باغ اور پارک لگا کر اُن میں مختلف قسم کے پھل دار درخت لگائے۔ پھلنے پھولنے والے جنگل کی آب پاشی کے لئے مَیں نے تالاب بنوائے۔ مَیں نے غلام اور لونڈیاں خرید لیں۔ ایسے غلام بھی بہت تھے جو گھر میں پیدا ہوئے تھے۔ مجھے اُتنے گائےبَیل اور بھیڑبکریاں ملیں جتنی مجھ سے پہلے یروشلم میں کسی کو حاصل نہ تھیں۔ مَیں نے اپنے لئے سونا چاندی اور بادشاہوں اور صوبوں کے خزانے جمع کئے۔ مَیں نے گلوکار مرد و خواتین حاصل کئے، ساتھ ساتھ کثرت کی ایسی چیزیں جن سے انسان اپنا دل بہلاتا ہے۔ یوں مَیں نے بہت ترقی کر کے اُن سب پر سبقت حاصل کی جو مجھ سے پہلے یروشلم میں تھے۔ اور ہر کام میں میری حکمت میرے دل میں قائم رہی۔ جو کچھ بھی میری آنکھیں چاہتی تھیں وہ مَیں نے اُن کے لئے مہیا کیا، مَیں نے اپنے دل سے کسی بھی خوشی کا انکار نہ کیا۔ میرے دل نے میرے ہر کام سے لطف اُٹھایا، اور یہ میری تمام محنت مشقت کا اجر رہا۔ لیکن جب مَیں نے اپنے ہاتھوں کے تمام کاموں کا جائزہ لیا، اُس محنت مشقت کا جو مَیں نے کی تھی تو نتیجہ یہی نکلا کہ سب کچھ باطل اور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔ سورج تلے کسی بھی کام کا فائدہ نہیں ہوتا۔ پھر مَیں حکمت، بےہودگی اور حماقت پر غور کرنے لگا۔ مَیں نے سوچا، جو آدمی بادشاہ کی وفات پر تخت نشین ہو گا وہ کیا کرے گا؟ وہی کچھ جو پہلے بھی کیا جا چکا ہے! مَیں نے دیکھا کہ جس طرح روشنی اندھیرے سے بہتر ہے اُسی طرح حکمت حماقت سے بہتر ہے۔ دانش مند کے سر میں آنکھیں ہیں جبکہ احمق اندھیرے ہی میں چلتا ہے۔ لیکن مَیں نے یہ بھی جان لیا کہ دونوں کا ایک ہی انجام ہے۔ مَیں نے دل میں کہا، ”احمق کا سا انجام میرا بھی ہو گا۔ تو پھر اِتنی زیادہ حکمت حاصل کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ یہ بھی باطل ہے۔“ کیونکہ احمق کی طرح دانش مند کی یاد بھی ہمیشہ تک نہیں رہے گی۔ آنے والے دنوں میں سب کی یاد مٹ جائے گی۔ احمق کی طرح دانش مند کو بھی مرنا ہی ہے! یوں سوچتے سوچتے مَیں زندگی سے نفرت کرنے لگا۔ جو بھی کام سورج تلے کیا جاتا ہے وہ مجھے بُرا لگا، کیونکہ سب کچھ باطل اور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔ سورج تلے مَیں نے جو کچھ بھی محنت مشقت سے حاصل کیا تھا اُس سے مجھے نفرت ہو گئی، کیونکہ مجھے یہ سب کچھ اُس کے لئے چھوڑنا ہے جو میرے بعد میری جگہ آئے گا۔ اور کیا معلوم کہ وہ دانش مند یا احمق ہو گا؟ لیکن جو بھی ہو، وہ اُن تمام چیزوں کا مالک ہو گا جو حاصل کرنے کے لئے مَیں نے سورج تلے اپنی پوری طاقت اور حکمت صَرف کی ہے۔ یہ بھی باطل ہے۔ تب میرا دل مایوس ہو کر ہمت ہارنے لگا، کیونکہ جو بھی محنت مشقت مَیں نے سورج تلے کی تھی وہ بےکار سی لگی۔ کیونکہ خواہ انسان اپنا کام حکمت، علم اور مہارت سے کیوں نہ کرے، آخرکار اُسے سب کچھ کسی کے لئے چھوڑنا ہے جس نے اُس کے لئے ایک اُنگلی بھی نہیں ہلائی۔ یہ بھی باطل اور بڑی مصیبت ہے۔ کیونکہ آخر میں انسان کے لئے کیا کچھ قائم رہتا ہے، جبکہ اُس نے سورج تلے اِتنی محنت مشقت اور کوششوں کے ساتھ سب کچھ حاصل کر لیا ہے؟ اُس کے تمام دن دُکھ اور رنجیدگی سے بھرے رہتے ہیں، رات کو بھی اُس کا دل آرام نہیں پاتا۔ یہ بھی باطل ہی ہے۔ انسان کے لئے سب سے اچھی بات یہ ہے کہ کھائے پیئے اور اپنی محنت مشقت کے پھل سے لطف اندوز ہو۔ لیکن مَیں نے یہ بھی جان لیا کہ اللہ ہی یہ سب کچھ مہیا کرتا ہے۔ کیونکہ اُس کے بغیر کون کھا کر خوش ہو سکتا ہے؟ کوئی نہیں! جو انسان اللہ کو منظور ہو اُسے وہ حکمت، علم و عرفان اور خوشی عطا کرتا ہے، لیکن گناہ گار کو وہ جمع کرنے اور ذخیرہ کرنے کی ذمہ داری دیتا ہے تاکہ بعد میں یہ دولت اللہ کو منظور شخص کے حوالے کی جائے۔ یہ بھی باطل اور ہَوا کو پکڑنے کے برابر ہے۔
واعظ 1:2-26 URD (کِتابِ مُقادّس)
مَیں نے اپنے دِل سے کہا آ مَیں تُجھ کو خُوشی میں آزماؤُں گا۔ سو عِشرت کر لے۔ لو یہ بھی بُطلان ہے۔ مَیں نے ہنسی کو دِیوانہ کہا اور شادمانی کے بارے میں کہا اِس سے کیا حاصِل؟ مَیں نے دِل میں سوچا کہ جِسم کو مَے نوشی سے کیوں کر تازہ کرُوں اور اپنے دِل کو حِکمت کی طرف مائِل رکھُّوں اور کیوں کر حماقت کو پکڑے رہُوں جب تک معلُوم کرُوں کہ بنی آدمؔ کی بِہبُودی کِس بات میں ہے کہ وہ آسمان کے نِیچے عُمر بھر یہی کِیا کریں۔ مَیں نے بڑے بڑے کام کِئے۔ مَیں نے اپنے لِئے عِمارتیں بنائِیں اور مَیں نے اپنے لِئے تاکِستان لگائے۔ مَیں نے اپنے لِئے باغچے اور باغ تیّار کِئے اور اُن میں ہر قِسم کے میوہ دار درخت لگائے۔ مَیں نے اپنے لِئے تالاب بنائے کہ اُن میں سے باغ کے درختوں کا ذخِیرہ سِینچُوں۔ مَیں نے غُلاموں اور لَونڈیوں کو خرِیدا اور نَوکر چاکر میرے گھر میں پَیدا ہُوئے اور جِتنے مُجھ سے پہلے یروشلِیم میں تھے مَیں اُن سے کہِیں زِیادہ گائے بَیل اور بھیڑ بکریوں کا مالِک تھا۔ مَیں نے سونا اور چاندی اور بادشاہوں اور صُوبوں کا خاص خزانہ اپنے لِئے جمع کِیا۔ مَیں نے گانے والوں اور گانے والِیوں کو رکھّا اور بنی آدمؔ کے اَسبابِ عَیش یعنی لَونڈیوں کو اپنے لِئے کثرت سے فراہم کِیا۔ سو مَیں بزُرگ ہُؤا اور اُن سبھوں سے جو مُجھ سے پہلے یروشلِیم میں تھے زِیادہ بڑھ گیا۔ میری حِکمت بھی مُجھ میں قائِم رہی۔ اور سب کُچھ جو میری آنکھیں چاہتی تِھیں مَیں نے اُن سے باز نہ رکھّا۔ مَیں نے اپنے دِل کو کِسی طرح کی خُوشی سے نہ روکا کیونکہ میرا دِل میری ساری مِحنت سے شادمان ہُؤا اور میری ساری مِحنت سے میرا بخرہ یہی تھا۔ پِھر مَیں نے اُن سب کاموں پر جو میرے ہاتھوں نے کِئے تھے اور اُس مشقّت پر جو مَیں نے کام کرنے میں کھینچی تھی نظر کی اور دیکھا کہ سب بُطلان اور ہوا کی چران ہے اور دُنیا میں کُچھ فائِدہ نہیں۔ اور مَیں حِکمت اور دِیوانگی اور حماقت کے دیکھنے پر مُتوجِّہ ہُؤا کیونکہ وہ شخص جو بادشاہ کے بعد آئے گا کیا کرے گا؟ وُہی جو ہوتا چلا آیا ہے۔ اور مَیں نے دیکھا کہ جَیسی روشنی کو تارِیکی پر فضِیلت ہے وَیسی ہی حِکمت حماقت سے افضل ہے۔ دانِشور اپنی آنکھیں اپنے سر میں رکھتا ہے پر احمق اندھیرے میں چلتا ہے۔ تَو بھی مَیں جان گیا کہ ایک ہی حادِثہ اُن سب پر گُذرتا ہے۔ تب مَیں نے دِل میں کہا جَیسا احمق پر حادِثہ ہوتا ہے وَیسا ہی مُجھ پر بھی ہو گا۔ پِھر مَیں کیوں زِیادہ دانِشور ہُؤا؟ سو مَیں نے دِل میں کہا کہ یہ بھی بُطلان ہے۔ کیونکہ نہ دانِشور اور نہ احمق کی یادگار ابد تک رہے گی۔ اِس لِئے کہ آنے والے دِنوں میں سب کُچھ فراموش ہو چُکے گا اور دانِشور کیوں کر احمق کی طرح مَرتا ہے! پس مَیں زِندگی سے بیزار ہُؤا کیونکہ جو کام دُنیا میں کِیا جاتا ہے مُجھے بُہت بُرا معلُوم ہُؤا کیونکہ سب بُطلان اور ہوا کی چران ہے۔ بلکہ مَیں اپنی ساری مِحنت سے جو دُنیا میں کی تھی بیزار ہُؤا کیونکہ ضرُور ہے کہ مَیں اُسے اُس آدمی کے لِئے جو میرے بعد آئے گا چھوڑ جاؤُں۔ اور کَون جانتا ہے کہ وہ دانِشور ہو گا یا احمق؟ بہر حال وہ میری ساری مِحنت کے کام پر جو مَیں نے کِیا اور جِس میں مَیں نے دُنیا میں اپنی حِکمت ظاہِر کی ضابِط ہو گا۔ یہ بھی بُطلان ہے۔ تب مَیں پِھرا کہ اپنے دِل کو اُس سارے کام سے جو مَیں نے دُنیا میں کِیا تھا نااُمّید کرُوں۔ کیونکہ اَیسا شخص بھی ہے جِس کے کام حِکمت اور دانائی اور کامیابی کے ساتھ ہیں لیکن وہ اُن کو دُوسرے آدمی کے لِئے جِس نے اُن میں کُچھ مِحنت نہیں کی اُس کی مِیراث کے لِئے چھوڑ جائے گا۔ یہ بھی بُطلان اور بلایِ عظِیم ہے۔ کیونکہ آدمی کو اُس کی ساری مشقّت اور جانفشانی سے جو اُس نے دُنیا میں کی کیا حاصِل ہے؟ کیونکہ اُس کے لِئے عُمر بھر غم ہے اور اُس کی مِحنت ماتم ہے بلکہ اُس کا دِل رات کو بھی آرام نہیں پاتا۔ یہ بھی بُطلان ہے۔ پس اِنسان کے لِئے اِس سے بِہتر کُچھ نہیں کہ وہ کھائے اور پِئے اور اپنی ساری مِحنت کے درمِیان خُوش ہو کر اپنا جی بہلائے۔ مَیں نے دیکھا کہ یہ بھی خُدا کے ہاتھ سے ہے۔ اِس لِئے کہ مُجھ سے زِیادہ کَون کھا سکتا اور کَون مزہ اُڑا سکتا ہے؟ کیونکہ وہ اُس آدمی کو جو اُس کے حضُور میں اچھّا ہے حِکمت اور دانائی اور خُوشی بخشتا ہے لیکن گُنہگار کو زحمت دیتا ہے کہ وہ جمع کرے اور انبار لگائے تاکہ اُسے دے جو خُدا کا پسندِیدہ ہے۔ یہ بھی بُطلان اور ہوا کی چران ہے۔