اعمال 36:9-42 - Compare All Versions
اعمال 36:9-42 URDGVU (ہولی بائبل کا اردو جیو ورژن)
یافا میں ایک عورت تھی جو شاگرد تھی اور نیک کام کرنے اور خیرات دینے میں بہت آگے تھی۔ اُس کا نام تبیتا (غزالہ) تھا۔ اُن ہی دنوں میں وہ بیمار ہو کر فوت ہو گئی۔ لوگوں نے اُسے غسل دے کر بالاخانے میں رکھ دیا۔ لُدہ یافا کے قریب ہے، اِس لئے جب شاگردوں نے سنا کہ پطرس لُدہ میں ہے تو اُنہوں نے اُس کے پاس دو آدمیوں کو بھیج کر التماس کی، ”سیدھے ہمارے پاس آئیں اور دیر نہ کریں۔“ پطرس اُٹھ کر اُن کے ساتھ چلا گیا۔ وہاں پہنچ کر لوگ اُسے بالاخانے میں لے گئے۔ تمام بیواؤں نے اُسے گھیر لیا اور روتے چلّاتے وہ ساری قمیصیں اور باقی لباس دکھانے لگیں جو تبیتا نے اُن کے لئے بنائے تھے جب وہ ابھی زندہ تھی۔ لیکن پطرس نے اُن سب کو کمرے سے نکال دیا اور گھٹنے ٹیک کر دعا کی۔ پھر لاش کی طرف مُڑ کر اُس نے کہا، ”تبیتا، اُٹھیں!“ عورت نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔ پطرس کو دیکھ کر وہ بیٹھ گئی۔ پطرس نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اُٹھنے میں اُس کی مدد کی۔ پھر اُس نے مُقدّسوں اور بیواؤں کو بُلا کر تبیتا کو زندہ اُن کے سپرد کیا۔ یہ واقعہ پورے یافا میں مشہور ہوا، اور بہت سے لوگ خداوند عیسیٰ پر ایمان لائے۔
اعمال 36:9-42 URD (کِتابِ مُقادّس)
اور یافا میں ایک شاگِرد تھی تبِیتا نام جِس کا تَرجُمہ ہرنی ہے وہ بُہت ہی نیک کام اور خَیرات کِیا کرتی تھی۔ اُن ہی دِنوں میں اَیسا ہُؤا کہ وہ بِیمار ہو کر مَر گئی اور اُسے نہلا کر بالاخانہ میں رکھ دِیا۔ اور چُونکہ لُدّہ یافا کے نزدِیک تھا شاگِردوں نے یہ سُن کر کہ پطرؔس وہاں ہے دو آدمی بھیجے اور اُس سے درخواست کی کہ ہمارے پاس آنے میں دیر نہ کر۔ پطرؔس اُٹھ کر اُن کے ساتھ ہو لِیا۔ جب پُہنچا تو اُسے بالاخانہ میں لے گئے اور سب بیوائیں روتی ہُوئی اُس کے پاس آ کھڑی ہُوئِیں اور جو کُرتے اور کپڑے ہرنی نے اُن کے ساتھ میں رہ کر بنائے تھے دِکھانے لگِیں۔ پطرس نے سب کو باہر کر دِیا اور گُھٹنے ٹیک کر دُعا کی۔ پِھر لاش کی طرف مُتوجّہ ہو کر کہا اَے تبِیتا اُٹھ! پس اُس نے آنکھیں کھول دِیں اور پطرس کو دیکھ کر اُٹھ بَیٹھی۔ اُس نے ہاتھ پکڑ کر اُسے اُٹھایا اور مُقدّسوں اور بیواؤں کو بُلا کر اُسے زِندہ اُن کے سپُرد کِیا۔ یہ بات سارے یافا میں مشہُور ہو گئی اور بُہتیرے خُداوند پر اِیمان لے آئے۔
اعمال 36:9-42 UCV (اُردو ہم عصر ترجُمہ)
یافؔا میں ایک مسیحی خاتُون شاگرد تھی جِس کا نام تبِیتؔا (یُونانی میں ڈورکاسؔ یعنی ہِرنی) تھا جو ہمیشہ نیکی کرنے اَور غریبوں کی مدد کرنے میں لگی رہتی تھی۔ اُن ہی دِنوں میں وہ بیمار ہویٔی اَور مَر گئی، اُس کی لاش کو غُسل دے کر اُوپر کے کمرہ میں رکھ دیا۔ لُدّہؔ یافؔا کے نزدیک ہی تھا؛ لہٰذا جَب شاگردوں نے سُنا کہ پطرس لُدّہؔ میں ہے، تو دو آدمی بھیج کر آپ سے درخواست کی، ”مہربانی سے فوراً چلئے!“ پطرس اُن کے ساتھ روانہ ہویٔے اَور جَب وہاں پہُنچے تو وہ آپ کو اُوپر والے کمرے میں لے گیٔے۔ ساری بِیوہ عورتیں روتی ہویٔی آپ کے اِردگرد کھڑی ہویٔیں اَور پطرس کو وہ کُرتے اَور دُوسرے کپڑے جو ڈورکاسؔ نے اُن کے درمیان رہ کر سِئیے تھے، دِکھانے لگیں۔ پطرس نے اُن سَب کو کمرہ سے باہر بھیج دیا اَور خودگھٹنوں کے بَل ہوکر دعا کرنے لگے۔ پھر آپ نے لاش کی طرف مُنہ کرکے، پطرس نے فرمایا، ”اَے تبِیتؔا، اُٹھ۔“ اُس نے اَپنی آنکھیں کھول دیں، اَور پطرس کو دیکھ کر وہ اُٹھ بیٹھی۔ پطرس نے اَپنے ہاتھ سے پکڑکر اُسے اُٹھایا اَور پیروں پر کھڑے ہونے میں اُس کی مدد کی۔ تَب آپ نے مُومِنین، خصوصاً بیواؤں کو بُلایا اَور تبِیتؔا کو زندہ اُن کے سُپرد کر دیا۔ اِس واقعہ کی خبر سارے یافؔا میں پھیل گئی اَور بہت سے لوگ خُداوؔند پر ایمان لایٔے۔