مرقُس 22:8-38

مرقُس 22:8-38 UCV

یِسوعؔ بیت صیؔدا پہُنچے، جہاں کُچھ لوگ ایک نابینا کو آپ کے پاس لایٔے اَور مِنّت کرنے لگے کہ وہ اُسے چھُوئیں۔ وہ اُس نابینا کا ہاتھ پکڑکر اُسے گاؤں سے باہر لے گیٔے۔ اَور اُس کی آنکھوں پر تھُوک کر اَپنے ہاتھ اُس پر رکھے، اَور آپ نے پُوچھا، ”تُمہیں کُچھ نظر آ رہاہے؟“ اُس آدمی نے نگاہ اُوپر اُٹھاکر کہا، ”میں لوگوں کو دیکھتا ہُوں؛ لیکن وہ چلتے درختوں کی طرح دکھتے ہیں۔“ یِسوعؔ نے پھر اَپنے ہاتھ اُس آدمی کی آنکھوں پر رکھے۔ اَور جَب اُس نے نظر اُٹھائی، آنکھیں کھُل گئیں، اَور اُسے ہر چیز صَاف دِکھائی دینے لگی۔ یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”اِس گاؤں میں کسی کو یہ بات بتائے بغیر سیدھے اَپنے گھر چلے جاؤ۔“ یِسوعؔ اَور اُن کے شاگرد قَیصؔریہ فِلپّی کے دیہات کی طرف بڑھے۔ راستے میں اُنہُوں نے اَپنے شاگردوں سے پُوچھا، ”لوگ مُجھے کیا کہتے ہیں؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”بعض آپ کو حضرت یُوحنّا پاک غُسل دینے والا کہتے ہیں؛ بعض ایلیّاہ؛ اَور بعض کہتے ہیں، نبیوں میں سے کویٔی نبی ہیں۔“ تَب آپ نے اُن سے پُوچھا، ”تُم مُجھے کیا کہتے ہو؟ مَیں کون ہُوں؟“ پطرس نے جَواب دیا، ”آپ خُدا کے المسیح ہیں۔“ یِسوعؔ نے اُنہیں تاکید کی کہ میرے بارے میں کسی سے یہ نہ کہنا۔ پھر وہ اَپنے شاگردوں کو تعلیم دینے لگے اِبن آدمؔ کا دُکھ اُٹھانا بہت ضروُری ہے اَور یہ بھی وہ بُزرگوں، اہم کاہِنوں اَور شَریعت کے عالِموں کی طرف سے ردّ کیا جائے، اَور وہ قتل کیا جائے اَور تیسرے دِن پھر زندہ ہو جائے۔ یِسوعؔ نے یہ بات صَاف صَاف بَیان کی، اَور پطرس حُضُور کو الگ لے جا کر ملامت کرنے لگے۔ مگر آپ نے مُڑ کر اَپنے دُوسرے شاگردوں کو دیکھا، اَور پطرس کو ملامت کرتے ہویٔے کہا، ”اَے شیطان! میرے سامنے سے دُورہو جا! کیونکہ تیرا دِل خُدا کی باتوں میں نہیں، لیکن آدمیوں کی باتوں میں لگا ہے۔“ تَب اُنہُوں نے مجمع کے ساتھ اَپنے شاگردوں کو بھی اَپنے پاس بُلایا اَور اُن سے مُخاطِب ہویٔے: ”جو کویٔی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ خُودی کا اِنکار کرے، اَپنی صلیب اُٹھائے اَور میرے پیچھے ہولے۔ کیونکہ جو کویٔی اَپنی جان کو باقی رکھنا چاہتاہے وہ اُسے کھویٔے گا، لیکن جو کویٔی میری اَور انجیل کی خاطِر اَپنی جان کھو دیتاہے وہ اُسے محفوظ رکھےگا۔ آدمی اگر ساری دُنیا حاصل کر لے، مگر اَپنی جان کا نُقصان اُٹھائے اُسے کیا فائدہ ہوگا؟ یا آدمی اَپنی جان کے بدلے میں کیا دے گا؟ جو کویٔی اِس زناکار اَور گُناہ آلُود پُشت میں مُجھ سے اَور میرے کلام سے شرمائے گا تو اِبن آدمؔ بھی جَب وہ اَپنے باپ کے جلال میں مُقدّس فرشتوں کے ساتھ آئے گا، اُس سے شرمائے گا۔“