مرقُس 1:7-6, 8-23

مرقُس 1:7-6 UCV

ایک دفعہ یروشلیمؔ کے بعض فرِیسی اَور شَریعت کے کُچھ عالِم یِسوعؔ کے پاس جمع ہویٔے۔ اُنہُوں نے دیکھا کہ اُن کے بعض شاگرد ناپاک ہاتھوں سے یعنی، ہاتھ دھوئے بغیر کھانا کھاتے ہیں۔ (اصل میں فرِیسی بَلکہ سَب یہُودی اَپنے بُزرگوں کی روایتوں کے اِس قدر پابند ہوتے ہیں جَب تک اَپنے ہاتھوں کو رسمی دھلائی تک دھو نہ لیں کھانا نہیں کھاتے۔ اَور جَب بھی بازار سے آتے ہیں تو بغیر ہاتھ دھوئے کھانا نہیں کھاتے۔ اِسی طرح اَور بھی بہت سِی روایتیں ہیں۔ جو بُزرگوں سے پہُنچی ہیں، جِن کی وہ پابندی کرتے ہیں مثلاً پیالے، گھڑوں اَور تانبے کے برتنوں، کو خاص طریقہ سے دھونا۔) لہٰذا فریسیوں اَور شَریعت کے عالِموں نے یِسوعؔ سے پُوچھا، ”کیا وجہ ہے آپ کے شاگرد بُزرگوں کی روایت پر عَمل نہیں کرتے اَور ناپاک ہاتھوں سے کھانا کھاتے ہیں؟“ آپ نے اُنہیں جَواب دیا، ”حضرت یَشعیاہ نبی نے تُم ریاکاروں کے بارے میں کیا خُوب نبُوّت کی ہے؛ جَیسا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ” ’یہ اُمّت زبان سے تو میری تعظیم کرتی ہے، مگر اِن کا دِل مُجھ سے دُور ہے۔

مرقُس 8:7-23 UCV

تُم خُدا کے اَحکام کو چھوڑکر اِنسانی روایت کو قائِم رکھتے ہو۔“ پھر یہ کہا، ”تُم اَپنی روایت کو قائِم رکھنے کے لیٔے خُدا کے حُکم کو کیسی خُوبی کے ساتھ باطِل کر دیتے ہو! مثلاً حضرت مَوشہ نے فرمایاہے، ’تُم اَپنے باپ اَور ماں کی عزّت کرنا،‘ اَور ’جو کویٔی باپ یا ماں کو بُرا کہے وہ ضروُر مار ڈالا جائے۔‘ مگر تُم یہ کہتے ہو کہ جو چاہے اَپنے ضروُرت مند باپ یا ماں سے کہہ سَکتا ہے کہ میری جِس چیز سے تُجھے فائدہ پہُنچ سَکتا تھا وہ تو قُربان (یعنی، خُدا کی نذر) ہو چُکی تُم اُسے اَپنے ماں باپ کی کُچھ بھی مدد نہیں کرنے دیتے۔ یُوں تُم اَپنی روایت سے جو تُم نے جاری کی ہے کہ خُدا کے کلام کو باطِل کر دیتے ہو۔ تُم اِس قَسم کے اَور بھی کیٔی کام کرتے ہو۔“ پھر یِسوعؔ نے ہُجوم کو اَپنے پاس بُلاکر فرمایا، ”تُم سَب، میری بات سُنو، اَور اِسے سمجھنے کی کوشش کرو۔ جو چیز باہر سے اِنسان کے اَندر جاتی ہے۔ وہ اُسے ناپاک نہیں کر سکتی۔ بَلکہ، جو چیز اُس کے اَندر سے باہر نکلتی ہے وُہی اُسے ناپاک کرتی ہے۔ جِس کے پاس سُننے والے کان ہیں وہ سُن لے۔“ جَب وہ ہُجوم کے پاس سے گھر میں داخل ہُوئے، تو اُن کے شاگردوں نے اِس تمثیل کا مطلب پُوچھا۔ اُنہُوں نے اُن سے کہا؟ ”کیا تُم بھی اَیسے ناسمجھ ہو؟ اِتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جو چیز باہر سے اِنسان کے اَندر جاتی ہے وہ اُسے ناپاک نہیں کر سکتی؟ اِس لیٔے کہ وہ اُس کے دِل میں نہیں بَلکہ پیٹ میں، جاتی ہے اَور آخِرکار بَدن سے خارج ہوکر باہر نکل جاتی ہے۔“ (یہ کہہ کر، حُضُور نے تمام کھانے کی چیزوں کو پاک ٹھہرایا۔) پھر اُنہُوں نے کہا: ”اصل میں جو کُچھ اِنسان کے دِل سے باہر نکلتا ہے وُہی اُسے ناپاک کرتا ہے۔ کیونکہ اَندر سے یعنی اُس کے دِل سے، بُرے خیال باہر آتے ہیں جَیسے، جنسی بدفعلی، چوری، خُونریزی زنا، لالچ، بدکاری، مَکر و فریب، شہوت پرستی، بدنظری، کُفر، تکبُّر اَور حماقت۔ یہ سَب بُرائیاں اِنسان کے اَندر سے نکلتی ہیں اَور اُسے ناپاک کردیتی ہیں۔“