مرقُس 21:5-43

مرقُس 21:5-43 UCV

پھر یِسوعؔ کشتی کے ذریعہ واپس ہُوئے اَور جھیل کے دُوسری پار پہُنچتے ہی ایک بڑی بھیڑ آپ کے پاس جمع ہو گئی، جَب کہ آپ جھیل کے کنارے پر ہی رہے۔ تَب مقامی یہُودی عبادت گاہ کے رہنماؤں، میں سے ایک جِس کا نام یائیرؔ تھا، وہاں پہُنچا، آپ کو دیکھ کر، آپ کے قدموں پر گِر پڑا اَور مِنّت کرکے کہنے لگا، ”میری چُھوٹی بیٹی مَرنے پر ہے۔ مہربانی سے چلئے اَور اُس پر اَپنے ہاتھ رکھ دیجئے تاکہ وہ شفایاب ہو جائے اَور زندہ رہے۔“ پس آپ اُس کے ساتھ چلے گیٔے۔ اَور اِتنی بڑی بھیڑ آپ کے پیچھے ہو گئی لوگ آپ پر گِرے پڑتے تھے۔ ایک خاتُون تھی جِس کے بَارہ بَرس سے خُون جاری تھا۔ وہ کیٔی طبیبوں سے علاج کراتے کراتے پریشان ہو گئی تھی اَور اَپنی ساری پُونجی لُٹا چُکی تھی، لیکن تندرست ہونے کی بجائے پہلے سے بھی زِیادہ بیمار ہو گئی تھی۔ اُس خاتُون نے یِسوعؔ کے بارے میں بہت کُچھ سُن رکھا تھا، چنانچہ اُس نے ہُجوم میں گھُس کر پیچھے سے یِسوعؔ کی پوشاک کو چھُو لیا، کیونکہ وہ کہتی تھی، ”اگر مَیں یِسوعؔ کی پوشاک ہی کو چھُو لُوں گی، تو میں شفا پا جاؤں گی۔“ اُسی دَم اُس کا خُون بہنا بندہو گیا اَور اُسے اَپنے بَدن میں محسُوس ہُوا کہ اُس کی ساری تکلیف جاتی رہی ہے۔ یِسوعؔ نے فوراً جان لیا کہ اُن میں سے قُوّت نکلی ہے۔ لہٰذا آپ ہُجوم کی طرف مُڑے اَور پُوچھنے لگے، ”کِس نے میری پوشاک کو چھُوا ہے؟“ شاگردوں نے یِسوعؔ سے کہا، ”آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہُجوم کِس طرح آپ پر گرا پڑ رہاہے، اَور پھر بھی آپ پُوچھتے ہیں، ’کِس نے مُجھے چھُوا ہے؟‘ “ لیکن آپ نے چاروں طرف نظر دَوڑائی تاکہ دیکھیں کہ کِس نے اَیسا کیا ہے۔ لیکن وہ خاتُون، یہ جانتے ہویٔے اُس پر کیا اثر ہُواہے، خوفزدہ سِی اَور کانپتی ہویٔی آئی اَور آپ کے قدموں میں گِر کر، آپ کو ساری حقیقت بَیان کی۔ آپ نے اُس سے کہا، ”بیٹی، تمہارے ایمان نے تُمہیں شفا بخشی۔ سلامتی کے ساتھ رخصت ہو اَور اَپنی پریشانیوں سے نَجات پاؤ۔“ آپ ابھی وعظ دے ہی رہے تھے، یہُودی عبادت گاہ کے رہنما یائیرؔ کے گھر سے کُچھ لوگ آ پہُنچے، رہنما نے خبر دی۔ ”آپ کی بیٹی مَر چُکی ہے، اَب اُستاد کو مزید تکلیف نہ دیجئے؟“ یِسوعؔ نے یہ سُن کر، یہُودی عبادت گاہ کے رہنما سے کہا، ”خوف نہ کرو؛ صِرف ایمان رکھو۔“ آپ نے پطرس، یعقوب اَور یعقوب کے بھایٔی یُوحنّا کے علاوہ کسی اَور کو اَپنے ساتھ نہ آنے دیا۔ جِس وقت وہ یہُودی عبادت گاہ کے رہنما کے گھر پہُنچے، تو آپ نے دیکھا، وہاں بڑا کہرام مچا ہُواہے اَور لوگ بہت رو پیٹ رہے ہیں۔ جَب وہ اَندر پہُنچے تو اُن سے کہا، ”تُم لوگوں نے کیوں اِس قدر رونا پیٹنا مچا رکھا ہے؟ بچّی مَری نہیں بَلکہ سو رہی ہے۔“ اِس پر وہ آپ کی ہنسی اُڑانے لگے۔ لیکن آپ نے اُن سَب کو وہاں سے باہر نکلوادِیا، اَور بچّی کے ماں باپ اَور اَپنے شاگردوں کو لے کر بچّی کے پاس گیٔے۔ وہاں بچّی کا ہاتھ پکڑکر آپ نے اُس سے کہا، ”تلِیتا قَومی!“ (جِس کے معنی ہیں ”اَے بچّی، میں تُم سے کہتا ہُوں، اُٹھو!“) بچّی ایک دَم اُٹھی اَور چلنے پھرنے لگی (یہ لڑکی بَارہ بَرس کی تھی)۔ یہ دیکھ کر لوگ حیرت زدہ رہ گیٔے۔ یِسوعؔ نے اُنہیں سخت تاکید کی کہ اِس کی خبر کسی کو نہ ہونے پایٔے، اَور فرمایا کہ لڑکی کو کُچھ کھانے کو دیا جائے۔