مرقُس 32:10-52

مرقُس 32:10-52 UCV

یروشلیمؔ جاتے وقت راہ میں، یِسوعؔ اُن کے آگے آگے چل رہے تھے، شاگرد حیران و پریشان تھے۔ اَورجو لوگ پیچھے آ رہے تھے وہ بھی خوفزدہ تھے چنانچہ وہ بَارہ شاگردوں کو ساتھ لے کر اُنہیں بتانے لگے کہ اُن کے ساتھ کیا کُچھ پیش آنے والا ہے۔ اُنہُوں نے کہا، ”ہم یروشلیمؔ شہر جا رہے ہیں، اَور اِبن آدمؔ اہم کاہِنوں اَور شَریعت کے عالِموں کے حوالہ کیا جائے گا۔ وہ اُس کے قتل کا حُکم صادر کرکے اُسے غَیریہُودیوں کے حوالہ کر دیں گے، وہ لوگ اُس کی ہنسی اُڑائیں گے اُس پر تُھوکیں گے، اُسے کوڑے ماریں گے اَور قتل کر ڈالیں گے لیکن وہ تیسرے دِن پھر سے زندہ ہو جائے گا۔“ تَب زبدیؔ کے بیٹے، یعقوب اَور یُوحنّا یِسوعؔ، کے پاس آئے اَور مِنّت کرکے کہنے لگے، ”اُستاد محترم، ہم آپ سے جو بھی مِنّت کریں، وہ آپ ہمارے لیٔے کر دیجئے۔“ یِسوعؔ نے اُن سے پُوچھا، ”تُم کیا چاہتے ہو کہ مَیں تمہارے لیٔے کروں؟“ اُنہُوں نے کہا، ”ہم پر یہ مہربانی کیجئے کہ آپ کے جلال میں ہم میں سے ایک آپ کے داہنی طرف اَور دُوسرا آپ کے بائیں طرف بیٹھے۔“ یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”تُم نہیں جانتے کہ کیا مانگ رہے ہو۔ کیا تُم وہ پیالہ پی سکتے ہو جو میں پینے پر ہُوں اَور وہ پاک غُسل لنیے جا رہا ہُوں تُم لے سکتے ہو؟“ اُنہُوں نے کہا، ”ہم اُس کے لیٔے بھی تیّار ہیں۔“ یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”اِس میں تو کویٔی شک نہیں کہ جو پیالہ میں پینے والا ہُوں تُم بھی پیوگے اَورجو پاک غُسل میں لینے والا ہُوں تُم بھی لوگے، لیکن یہ میرا کام نہیں کہ کسی کو اَپنی داہنی یا بائیں طرف بِٹھاؤں۔ یہ مقام جِن کے لیٔے مُقرّر کیا جا چُکاہے اُن ہی کے لیٔے ہے۔“ جَب باقی دس شاگردوں نے یہ سُنا، وہ یعقوب اَور یُوحنّا پر خفا ہونے لگے۔ لیکن یِسوعؔ نے اُنہیں پاس بُلایا اَور اُن سے فرمایا، ”تُمہیں مَعلُوم ہے کہ اِس جہاں کے غَیریہُودیوں کے حاکم اُن پر حُکمرانی کرتے ہیں، اَور اُن کے اُمرا اُن پر اِختیار جتاتے ہیں۔ مگر تُم میں اَیسا نہیں ہونا چاہیے۔ بَلکہ، تُم میں کوئی بڑا بننا چاہتاہے وہ تمہارا خادِم بنے، اَور اگر تُم میں کویٔی سَب سے اُونچا درجہ حاصل کرنا چاہے تو وہ سَب کا غُلام بنے۔ کیونکہ اِبن آدمؔ اِس لیٔے نہیں آیا کہ خدمت لے بَلکہ، اِس لیٔے کہ خدمت کرے، اَور اَپنی جان دے کر بہتیروں کو رِہائی بخشے۔“ پھر وہ یریحوؔ شہر میں آئے۔ اَور جَب وہ اَور اُن کے شاگرد بڑے ہُجوم کے ہمراہ، یریحوؔ شہر سے باہر نکل رہے تھے، تو ایک اَندھا بھکاری، برتماؔئی (”یعنی تِمائی کا بیٹا“)، راہ کے کنارے بیٹھا ہُوا بھیک مانگ رہاتھا۔ جُوں ہی اُسے پتہ چلا کہ یِسوعؔ ناصری وہاں ہیں، وہ زور سے چِلّانے لگا، ”اَے اِبن داویؔد، یِسوعؔ، مُجھ پر رحم کیجئے!“ لوگ اُسے ڈانٹنے لگے کہ خاموش ہو جاؤ، مگر وہ اَور بھی زِیادہ چِلّانے لگا، ”اَے اِبن داویؔد، مُجھ پر رحم کیجئے!“ یِسوعؔ رُکے اَور حُکم دیا، ”اُسے بُلاؤ۔“ چنانچہ اُنہُوں نے اَندھے کو آواز دی اَور کہا، ”خُوشی مناؤ! اُٹھو! حُضُور تُمہیں بُلا رہے ہیں۔“ اُس نے اَپنی چادر اُتار پھینکی، اَور اُچھل کر کھڑا ہو گیا اَور یِسوعؔ کے پاس آ گیا۔ یِسوعؔ نے اُس سے پُوچھا بتاؤ، ”تُم کیا چاہتے ہو کہ مَیں تمہارے لیٔے کروں؟“ اَندھے نے جَواب دیا، ”اَے ربّی، میں چاہتا ہُوں کہ میں دیکھنے لگوں۔“ یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”جاؤ، تمہارے ایمان نے تُمہیں شفا بخشی۔“ اُسی دَم اُس اَندھے کی آنکھوں میں رَوشنی واپس آ گئی اَور وہ یِسوعؔ کا پیروکار بن گیا۔