مرقُس 2:1-13

مرقُس 2:1-13 UCV

جَیسا کہ حضرت یَشعیاہ نبی کے صحیفہ میں لِکھّا ہُواہے: ”میں اَپنا پیغمبر تیرے آگے بھیج رہا ہُوں، جو تیرے آگے تیری راہ تیّار کرےگا؛“ ”بیابان میں کویٔی پُکار رہاہے، ’خُداوؔند کے لیٔے راہ تیّار کرو، اُس کے لیٔے راہیں سیدھی بناؤ۔‘ “ لہٰذا پاک غُسل دینے والے حضرت یُوحنّا کی آمد ہُوئی اَور وہ بیابان میں، گُناہوں کی مُعافی کے واسطے تَوبہ کرنے اَور پاک غُسل لینے کی مُنادی کرنے لگے۔ تَب یہُودیؔہ اَور یروشلیمؔ کے سارے علاقوں سے سَب لوگ نکل کر حضرت یُوحنّا کے پاس گیٔے اَور اَپنے گُناہوں کا اقرار کیا، اَور اُنہُوں نے حضرت یُوحنّا سے دریائے یردنؔ میں پاک غُسل لیا۔ حضرت یُوحنّا اُونٹ کے بالوں سے بُنا لباس پہنتے تھے اَور اُن کا کمربند چمڑے کا تھا۔ اَور اُن کی خُوراک ٹِڈّیاں اَور جنگلی شہد تھی۔ اَور یہ اُن کا پیغام تھا: ”جو میرے بعد آنے والا ہے وہ مُجھ سے بھی زِیادہ زورآور شخص ہے، میں اِس لائق بھی نہیں کہ جُھک کر اُن کے جُوتوں کے تسمے کھول سکوں۔ میں تو تُمہیں صِرف پانی سے پاک غُسل دیتا ہُوں، لیکن وہ تُمہیں پاک رُوح سے پاک غُسل دیں گے۔“ اُسی وقت یِسوعؔ، صُوبہ گلِیل کے شہر ناصرتؔ سے آئے اَور حضرت یُوحنّا نے اُنہیں دریائے یردنؔ میں پاک غُسل دیا۔ جَب یِسوعؔ پانی سے باہر آ رہے تھے، تو اُنہُوں نے دیکھا کہ آسمان کھُل گیا ہے اَور خُدا کی رُوح کبُوتر کی شکل میں اُن پر نازل ہو رہاہے۔ اَور آسمان سے ایک آواز آئی: ”تُو میرا پیارا بیٹا ہے، جِس سے میں مَحَبّت کرتا ہُوں؛ تُم سے میں بہت خُوش ہُوں۔“ فیِ الفور پاک رُوح یِسوعؔ کو بیابان میں لے گیا، اَور وہ چالیس دِن، تک وہاں رہے، اَور اِبلیس کے ذریعہ آزمائے جاتے رہے۔ وہ جنگلی جانوروں کے درمیان رہے، اَور فرشتے یِسوعؔ کی خدمت کرتے رہے۔