مرقُس 14:1-45

مرقُس 14:1-45 UCV

حضرت یُوحنّا کو قَید کیٔے جانے کے بعد، یِسوعؔ صُوبہ گلِیل میں آئے، اَور خُدا کی خُوشخبری سُنانے لگے۔ اَور آپ نے فرمایا، وقت آ پہُنچا ہے، اَور ”خُدا کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے۔ تَوبہ کرو اَور خُوشخبری پر ایمان لاؤ۔“ صُوبہ گلِیل کی جھیل کے کنارے جاتے ہویٔے، یِسوعؔ نے شمعُونؔ اَور اُن کے بھایٔی اَندریاسؔ کو دیکھا یہ دونوں اُس وقت جھیل میں جال ڈال رہے تھے، کیونکہ اُن کا پیشہ ہی مچھلی پکڑناتھا۔ یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”میرے، پیچھے چلے آؤ، تو میں تُمہیں آدمؔ گیر بناؤں گا۔“ وہ اُسی وقت اَپنے جال چھوڑکر آپ کے ہمنوا ہوکر پیچھے ہو لیٔے۔ تھوڑا آگے جا کر، آپ نے زبدیؔ کے بیٹے یعقوب اَور اُن کے بھایٔی یُوحنّا کو دیکھا دونوں کشتی میں جالوں کی مرمّت کر رہے تھے۔ آپ نے اُنہیں دیکھتے ہی بُلایا وہ اَپنے باپ، زبدیؔ کو کشتی میں مزدُوروں کے ساتھ چھوڑکر حُضُور کے پیچھے چل دئیے۔ وہ سَب کَفرنحُومؔ، میں داخل ہویٔے، اَور سَبت کے دِن یِسوعؔ یہُودی عبادت گاہ میں گیٔے اَور تعلیم دینی شروع کی۔ یِسوعؔ کی تعلیم سُن کر لوگ دنگ رہ گیٔے، کیونکہ حُضُور اُنہیں شَریعت کے عالِموں کی طرح نہیں، لیکن ایک صاحبِ اِختیار کی طرح تعلیم دے رہے تھے۔ اُس وقت یہُودی عبادت گاہ میں ایک شخص تھا، جِس میں بدرُوح تھی، وہ چِلّانے لگا، ”اَے یِسوعؔ ناصری، آپ کو ہم سے کیا کام؟ کیا آپ ہمیں ہلاک کرنے آئے ہیں؟ میں جانتا ہُوں کہ آپ کون ہیں؟ آپ ہی خُدا کے قُدُّوس ہیں!“ یِسوعؔ نے بدرُوح کو جِھڑکا اَور کہا، ”خاموش ہو جا!“ اَور اِس آدمی میں سے، ”نکل جا!“ تَب ہی اِن بدرُوح نے اُس آدمی کو خُوب مروڑا اَور بڑے زور سے چیخ مار کر اُس میں سے نکل گئی۔ سَب لوگ اِتنے حیران ہوکر ایک دُوسرے سے کہنے لگے، ”یہ کیا ہو رہاہے؟ یہ تو نئی تعلیم ہے! یہ تو بدرُوحوں کو بھی اِختیار کے ساتھ حُکم دیتے ہیں اَور بدرُوحیں بھی یِسوعؔ کا حُکم مانتی ہیں۔“ یِسوعؔ کی شہرت بڑی تیزی سے صُوبہ گلِیل کے اطراف میں پھیل گئی۔ یہُودی عبادت گاہ سے باہر نکلتے ہی وہ یعقوب اَور یُوحنّا کے ساتھ سیدھے شمعُونؔ اَور اَندریاسؔ کے گھر گیٔے۔ اُس وقت شمعُونؔ کی ساس تیز بُخار میں مُبتلا تھیں، دیر کیٔے بغیر آپ کو اُس کے بارے میں بتایا۔ یِسوعؔ نے پاس جا کر شمعُونؔ کی ساس کا ہاتھ پکڑا اَور اُنہیں اُٹھایا، اُن کا بُخار اُسی دَم اُتر گیا اَور وہ اُن کی خدمت میں لگ گئیں۔ شام کے وقت سُورج ڈُوبتے ہی لوگ وہاں کے سَب مَریضوں کو اَور اُنہیں جِن میں بدرُوحیں تھیں، یِسوعؔ کے پاس لانے لگے۔ یہاں تک کہ سارا شہر دروازہ کے پاس جمع ہو گیا، یِسوعؔ نے بہت سے لوگوں کو اُن کی مُختلف بیماریوں سے شفا بخشی۔ اَور بہت سِی بدرُوحوں کو نکالا، مگر آپ بدرُوحوں کو بولنے نہ دیتے تھے کیونکہ بدرُوحیں اُن کو پہچانتی تھیں۔ اگلے دِن صُبح سویرے جَب کہ اَندھیرا ہی تھا، یِسوعؔ اُٹھے، اَور گھر سے باہر ایک ویران جگہ میں جا کر، دعا کرنے لگے۔ شمعُونؔ اَور اُن کے دُوسرے ساتھی اُن کی تلاش میں نکلے، جَب آپ اُنہیں مِل گئے، تو وہ سَب کہنے لگے، ”سبھی آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں!“ یِسوعؔ نے کہا، ”آؤ! ہم کہیں اَور آس پاس کے قصبوں میں چلیں تاکہ میں وہاں بھی مُنادی کروں کیونکہ مَیں اِسی مقصد کے لیٔے نِکلا ہُوں۔“ چنانچہ وہ سارے صُوبہ گلِیل، میں، گھُوم پھر کر اُن کے یہُودی عبادت گاہوں میں مُنادی کرتے رہے اَور بدرُوحوں کو نکالتے رہے۔ ایک کوڑھی یِسوعؔ کے پاس آیا اَور گھُٹنے ٹیک کر آپ سے مِنّت کرنے لگا، ”اگر آپ چاہیں تو مُجھے کوڑھ سے پاک کر سکتے ہیں۔“ یِسوعؔ نے اُس کوڑھی پر ترس کھا کر اَپنا ہاتھ بڑھا کر اُسے چھُوا اَور فرمایا، ”میں چاہتا ہُوں، تُم پاک صَاف ہو جاؤ!“ اُسی دَم اُس کا کوڑھ جاتا رہا اَور وہ پاک ہو گیا۔ یِسوعؔ نے اُسے فوراً وہاں سے سخت تنبیہ کرتے ہویٔے رخصت کیا، ”خبردار اِس کا ذِکر، کسی سے نہ کرنا۔ بَلکہ سیدھے کاہِنؔ کے پاس جا کر، اَپنے آپ کو دِکھاؤ اَور اَپنے ساتھ وہ نذریں بھی لے جانا جو حضرت مَوشہ نے مُقرّر کی ہیں تاکہ سَب پر گواہی ہو، جائے کہ تُم پاک ہو گئے ہو۔“ لیکن وہ وہاں سے نکل کر ہر کسی سے اِس بات کااِتنا، چَرچا کرنے لگا۔ آئندہ، یِسوعؔ کسی شہر میں ظاہری طور پر داخل نہ ہو سکے بَلکہ شہر سے باہر ویران جگہوں میں رہنے لگے۔ اَور پھر بھی لوگ ہر جگہ سے آپ کے پاس آتے رہتے تھے۔