متّی 1:8-7, 9-17

متّی 9:8-17 UCV

کیونکہ مَیں خُود بھی کسی کے اِختیار میں ہُوں، اَور سپاہی میرے اِختیار میں ہیں۔ جَب مَیں ایک سے کہتا ہُوں ’جا،‘ تو وہ چلا جاتا ہے؛ اَور دُوسرے سے ’آ،‘ تو وہ آ جاتا ہے اَور کسی خادِم سے کُچھ کرنے کو کہُوں تو وہ کرتا ہے۔“ یِسوعؔ نے یہ سُن کر اُس ہُجوم پر تعجُّب کیا اَور اَپنے پیچھے آنے والے لوگوں سے کہا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، مَیں نے اِسرائیل میں بھی اِتنا بڑا ایمان نہیں پایا۔ میں تُم سے کہتا ہُوں کہ بہت سے لوگ مشرق اَور مغرب سے آکر حضرت اَبراہامؔ، اِصحاقؔ اَور یعقوب کے ساتھ آسمان کی بادشاہی کی ضیافت میں شریک ہوں گے۔ مگر بادشاہی کے اصل وارثین کو باہر اَندھیرے میں ڈال دیا جائے گا جہاں وہ روتے اَور دانت پیستے رہیں گے۔“ یِسوعؔ نے اُس افسر سے فرمایا، ”جا جَیسا تیرا ایمان ہے، تیرے لیٔے وَیسا ہی ہوگا۔“ اَور اُسی گھڑی اُس کے خادِم نے شفا پائی۔ جَب یِسوعؔ پطرس کے گھر میں داخل ہویٔے تو اُنہُوں نے پطرس کی ساس کو تیز بُخار میں بِستر پر پڑے دیکھا۔ حُضُور نے اُس کا ہاتھ چھُوا اَور اُس کا بُخار اُتر گیا، اَور وہ اُٹھ کر اُن سَب کی خدمت میں لگ گئی۔ جَب شام ہُوئی تو لوگ کیٔی مَریضوں کو جِن میں بدرُوحیں تھیں، حُضُور کے پاس لانے لگے، اَور یِسوعؔ نے صِرف حُکم دے کر بدرُوحوں کو نکال دیا اَور سَب مَریضوں کو شفا بخشی۔ تاکہ یَشعیاہ نبی کی مَعرفت کہی گئی یہ بات پُوری ہو جائے: ”اُنہُوں نے خُود ہماری کمزوریوں کو اَپنے اُوپر لے لیا اَور ہماری بیماریاں برداشت کیں اَور اَپنے اُوپر اُٹھالیا۔“