لُوقا 18:9-36

لُوقا 18:9-36 UCV

ایک دفعہ یِسوعؔ تنہائی میں دعا کر رہے تھے اَور اُن کے شاگرد اُن کے پاس تھے، آپ نے اُن سے پُوچھا، ”لوگ میرے بارے میں، کیا کہتے ہیں کہ مَیں کون ہُوں؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”کُچھ حضرت یُوحنّا پاک غُسل دینے والا؛ لیکن بعض ایلیّاہ اَور بعض کا خیال ہے کہ پُرانے نبیوں میں سے کویٔی نبی جی اُٹھا ہے۔“ تَب آپ نے اُن سے پُوچھا، ”تُم مُجھے کیا کہتے ہو؟ مَیں کون ہُوں؟“ پطرس نے جَواب دیا، ”آپ خُدا کے المسیح ہیں۔“ اِس پر یِسوعؔ نے اُنہیں تاکید کرکے حُکم دیا کہ یہ بات کسی سے نہ کہنا۔ اَور یہ بھی کہا، ”اِبن آدمؔ کو کیٔی تکالیف کا سامنا کرنا پڑےگا۔ وہ بُزرگوں، اہم کاہِنوں اَور فقِیہوں کی طرف سے ردّ کر دیا جائے گا، وہ اُسے قتل کر ڈالیں گے لیکن وہ تیسرے دِن زندہ ہو جائے گا۔“ پھر یِسوعؔ نے اُن سَب سے کہا: ”اگر کویٔی میری پیروی کرنا چاہے تو وہ اَپنی خُودی کا اِنکار کرے اَور روزانہ اَپنی صلیب اُٹھائے اَور میرے پیچھے ہولے۔ کیونکہ جو کویٔی اَپنی جان کو باقی رکھنا چاہتاہے وہ اُسے کھویٔے گا لیکن جو کویٔی میری خاطِر اَپنی جان کھویٔے گا وہ اُسے محفوظ رکھےگا۔ آدمی اگر ساری دُنیا حاصل کر لے مگر اَپنا نُقصان کر لے یا خُود کو کھو بیٹھے تو کیا فائدہ؟ کیونکہ جو کویٔی مُجھ سے اَور میرے کلام سے شرمائے گا تو اِبن آدمؔ بھی جَب وہ اَپنے، اَور باپ کے جلال میں مُقدّس فرشتوں کے ساتھ آئے گا تو اُس سے شرمائے گا۔ ”لیکن مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ بعض لوگ جو یہاں کھڑے ہیں، جَب تک وہ خُدا کی بادشاہی کو دیکھ نہ لیں گے، موت کا مزہ نہ چَکھنے پائیں گے۔“ اِن باتوں کے تقریباً آٹھ دِن بعد اَیسا ہُوا کہ یِسوعؔ، پطرس، یُوحنّا اَور یعقوب کو ساتھ لے کر ایک پہاڑ پر دعا کرنے کی غرض سے گیٔے۔ اَور جَب وہ دعا کر رہے تھے تو اُن کی صورت بدل گئی اَور اُن کی پوشاک سفید ہوکر بجلی کی مانِند چمکنے لگی۔ اَور دیکھو دو آدمی یِسوعؔ سے باتیں کر رہے تھے۔ یہ حضرت مَوشہ اَور حضرت ایلیّاہ تھے۔ جو جلال میں ظاہر ہوکر یِسوعؔ کے آسمان پر اُٹھائے جانے کا ذِکر کر رہے تھے جو یروشلیمؔ میں واقع ہونے والا تھا۔ لیکن پطرس اَور اُن کے ساتھیوں کی آنکھیں نیند سے بھاری ہو رہی تھیں۔ جَب وہ جاگے تو اُنہُوں نے یِسوعؔ کا جلال دیکھا اَور اُن دو آدمیوں پر بھی اُن کی نظر پڑی جو اُن کے ساتھ کھڑے تھے۔ جَب وہ یِسوعؔ کے پاس سے جانے لگے تو پطرس نے یِسوعؔ سے کہا، ”آقا! ہمارا یہاں رہنا اَچھّا ہے۔ کیوں نہ ہم یہاں تین ڈیرے کھڑے کریں، ایک آپ کے لیٔے، ایک حضرت مَوشہ اَور ایک حضرت ایلیّاہ کے لیٔے۔“ (اُسے پتہ نہ تھا کہ وہ کیا کہہ رہاہے۔) وہ یہ کہہ ہی رہاتھا کہ، ایک بدلی اُن پر چھاگئی، اَور وہ اُس میں گھِر گیٔے اَور خوفزدہ ہو گئے۔ تَب اُس بدلی میں سے آواز آئی کہ، ”یہ میرا پیارا بیٹا ہے، جسے مَیں نے چُن لیا ہے؛ اِس کی بات غور سے سُنو۔“ اَور آواز آنے کے بعد، یِسوعؔ تنہا دِکھائی دئیے۔ شاگردوں نے یہ بات اَپنے تک ہی رکھی اَور اُن دِنوں جو کُچھ دیکھا تھا اُس کا ذِکر کسی سے نہ کیا۔