لُوقا 17:5-39

لُوقا 17:5-39 UCV

ایک دِن اَیسا ہُوا کہ یِسوعؔ تعلیم دے رہے تھے اَور کُچھ فرِیسی اَور شَریعت کے عالِم جو گلِیل اَور یہُودیؔہ کے ہر قصبہ اَور یروشلیمؔ سے آکر وہاں بیٹھے ہُوئے تھے۔ اَور خُداوؔند کی قُدرت یِسوعؔ کے ساتھ تھی کہ وہ بیماریوں کو شفا دیں۔ کُچھ لوگ ایک مفلُوج کو بچھونے پر ڈال کر لایٔے اَور کوشش کرنے لگے کہ اُسے اَندر لے جا کر یِسوعؔ کے سامنے رکھ دیں۔ لیکن ہُجوم اِس قدر تھا کہ وہ اُسے اَندر نہ لے جا سکے۔ تَب وہ چھت پر چڑھ گیٔے اَور کھپریل ہٹا کر مفلُوج کو چارپائی سمیت لوگوں کے بیچ میں یِسوعؔ کے سامنے اُتار دیا۔ آپ نے اُن کا ایمان دیکھ کر کہا، ”دوست! تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے۔“ شَریعت کے عالِم اَور فرِیسی سوچنے لگے، ”یہ آدمی کون ہے جو کُفر بَکتا ہے۔ خُدا کے سِوا کون گُناہ مُعاف کر سَکتا ہے؟“ یِسوعؔ کو اُن کے خیالات مَعلُوم ہو گئے کی ”وہ اَپنے دِلوں میں کیا سوچ رہے ہیں؟ تَب آپ نے جَواب میں اُن سے پُوچھا، تُم اَپنے دِلوں میں اَیسی باتیں کیوں سوچتے ہو؟ یہ کہنا زِیادہ آسان ہے: ’تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے،‘ یا ’یہ کہنا کہ اُٹھ اَور چل پھر‘؟ لیکن مَیں چاہتا ہُوں کہ تُمہیں مَعلُوم ہو کہ اِبن آدمؔ کو زمین پر گُناہ مُعاف کرنے کا اِختیار ہے۔“ حُضُور نے مفلُوج سے کہا، ”مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں، اُٹھ اَور اَپنا بچھونا اُٹھاکر اَپنے گھر چلا جا۔“ وہ اُن کے سامنے اُسی وقت اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اَور جِس بچھونے پر وہ پڑا تھا اُسے اُٹھاکر خُدا کی تمجید کرتا ہُوا اَپنے گھر چلا گیا۔ وہ سَب حیران رہ گیٔے اَور خُدا کی تمجید کرنے لگے۔ اَور سَب پر خوف طاری ہو گیا اَور وہ کہنے لگے، ”کہ آج ہم نے عجِیب باتیں دیکھی ہیں۔“ اِن واقعات کے بعد یِسوعؔ وہاں سے نکلے اَور ایک محصُول لینے والے کو جِس کا نام لیوی تھا، محصُول کی چوکی پر بیٹھے دیکھا۔ یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”میرے پیروکار ہو جاؤ۔“ وہ اُٹھا اَور سَب کُچھ چھوڑکر، حُضُور کے پیچھے چل دیا۔ پھر لیوی نے اَپنے گھر میں یِسوعؔ کے لیٔے ایک بڑی ضیافت ترتیب دی اَور وہاں محصُول لینے والوں اَور دُوسرے لوگوں کا جو ضیافت میں شریک تھے بڑا مجمع تھا۔ لیکن فرِیسی اَور شَریعت کے عالِم جو فرِیسی فرقہ سے تعلّق رکھتے تھے یِسوعؔ کے شاگردوں سے شکایت کرکے کہنے لگے، ”تُم محصُول لینے والوں اَور گُنہگاروں کے ساتھ کیوں کھاتے پیتے ہو؟“ یِسوعؔ نے جَواب میں اُن سے کہا، ”بیماریوں کو طبیب کی ضروُرت ہوتی ہے، صحت مندوں کو نہیں۔ میں راستبازوں کو نہیں بَلکہ گُنہگاروں کو تَوبہ کرنے کے لیٔے بُلانے آیا ہُوں۔“ فرِیسی اَور شَریعت کے عالِموں نے یِسوعؔ سے کہا، ”حضرت یُوحنّا کے شاگرد تو اکثر روزہ رکھتے اَور دعائیں کرتے ہیں اَور اِسی طرح فریسیوں کے بھی لیکن آپ کے شاگرد تو کھاتے پیتے رہتے ہیں؟“ یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”کیا تُم دُلہا کی مَوجُودگی میں؛ براتیِوں سے روزہ رکھوا سکتے ہو ہرگز نہیں۔ لیکن وہ دِن آئیں گے جَب دُلہا اُن سے جُدا کیا جائے گا؛ تَب اُن دِنوں میں وہ روزہ رکھیں گے۔“ اَور یِسوعؔ نے اُن سے یہ تمثیل بھی کہی: ”نئی پوشاک کو پھاڑ کر اُس کا پیوند پُرانی پوشاک پر کویٔی نہیں لگاتا ورنہ، نئی بھی پھٹے گی اَور اُس کا پیوند پُرانی پوشاک سے میل بھی نہ کھائے گا۔ تازہ انگوری شِیرے کو بھی پُرانی مَشکوں میں کویٔی نہیں بھرتا ورنہ، مَشکیں اُس نئے انگوری شِیرے سے پھٹ جایٔیں گی، شِیرہ بھی بہہ جائے گا اَور مَشکیں بھی برباد ہو جایٔیں گی۔ بَلکہ، نئے انگوری شِیرے کو نئی مَشکوں میں بھرنا چاہئے۔ پُرانا شِیرہ پی کر نئے کی خواہش کویٔی نہیں کرتا، کیونکہ وہ کہتاہے کہ ’پُرانی ہی خُوب ہے۔‘ “