یُوحنّا 1:4-3, 5-26

یُوحنّا 5:4-26 UCV

اِس لیٔے وہ سامریہؔ کے ایک سُوخاؔر نامی شہر میں آئے جو اُس آراضی کے نزدیک واقع ہے جو حضرت یعقوب نے اَپنے بیٹے یُوسیفؔ کو دیا تھا۔ حضرت یعقوب کا کُنواں وہیں تھا اَور یِسوعؔ سفر کی تھکان کی وجہ سے اُس کنویں کے نزدیک بیٹھ گیٔے۔ یہ دوپہر کا درمیانی وقت تھا۔ ایک سامری عورت وہاں پانی بھرنے آئی۔ یِسوعؔ نے عورت سے کہا، ”مُجھے پانی پِلا؟“ (کیونکہ یِسوعؔ کے شاگرد کھانا مول لینے شہر گیٔے ہویٔے تھے۔) اُس سامری عورت نے یِسوعؔ سے کہا، ”آپ تو یہُودی ہیں اَور مَیں ایک سامری عورت ہُوں، آپ تو مُجھ سے پانی پِلانے کو کہتے ہیں؟“ (کیونکہ یہُودی سامریوں سے کویٔی میل جول پسند نہیں کرتے تھے)۔ یِسوعؔ نے اُسے جَواب دیا، ”اگر تُو خُدا کی بخشش کو جانتی اَور یہ بھی جانتی کہ کون تُجھ سے پانی مانگ رہاہے تو تُو اُس سے مانگتی اَور وہ تُجھے زندگی کا پانی دیتا۔“ عورت نے کہا، ”جَناب، آپ کے پاس پانی بھرنے کے لیٔے کُچھ بھی نہیں اَور کنواں بہت گہرا ہے، آپ کو زندگی کا پانی کہاں سے ملے گا؟ کیا آپ ہمارے باپ یعقوب سے بھی بڑے ہو جنہوں نے یہ کنواں ہمیں دیا اَور خُود اُنہُوں نے اَور اُن کی اَولاد نے اَور اُن کے مویشیوں نے اِسی کنویں کا پانی پیا؟“ یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”جو کویٔی یہ پانی پیتا ہے وہ پھر پیاسا ہوگا، لیکن جو کویٔی وہ پانی پیتا ہے جو میں دیتا ہُوں، وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جو پانی میں دُوں گا وہ اُس میں زندگی کا چشمہ بَن جائے گا اَور ہمیشہ جاری رہے گا۔“ عورت نے یِسوعؔ سے کہا، ”جَناب! مُجھے بھی یہ پانی دے دیجئے تاکہ میں پیاسی نہ رہُوں اَور نہ ہی مُجھے بھرنے کے لیٔے یہاں آنا پڑے۔“ یِسوعؔ نے عورت سے فرمایا، ”جا، اَور اَپنے شوہر کو بُلا لا۔“ عورت نے جَواب دیا، ”میرا کویٔی شوہر نہیں ہے۔“ یِسوعؔ نے عورت سے فرمایا، ”تُو سچ کہتی ہے کہ تیرا کویٔی شوہر نہیں ہے۔ تُو پانچ شوہر کر چُکی ہے اَور جِس کے پاس تُو اَب رہتی ہے وہ آدمی بھی تیرا شوہر نہیں ہے۔ آپ نے جو کُچھ عرض کیا بالکُل سچ ہے۔“ عورت نے کہا، ”جَناب، مُجھے لگتا ہے کہ آپ کویٔی نبی ہیں۔ ہمارے آباؤاَجداد نے اِس پہاڑ پر پرستش کی لیکن تُم یہُودی دعویٰ کرتے ہو کہ وہ جگہ جہاں پرستش کرنا چاہئے یروشلیمؔ میں ہے۔“ یِسوعؔ نے فرمایا، ”اَے عورت میرا یقین کر۔ وہ وقت آ رہاہے جَب تُم لوگ باپ کی پرستش نہ تو اِس پہاڑ پر کروگے نہ یروشلیمؔ میں۔ تُم سامری لوگ جِس کی پرستش کرتے ہو اُسے جانتے تک نہیں۔ ہم جِس کی پرستش کرتے ہیں اُسے جانتے ہیں کیونکہ نَجات یہُودیوں میں سے ہے۔ لیکن وہ وقت آ رہاہے بَلکہ آ چُکاہے جَب سچّے پرستار باپ کی رُوح اَور سچّائی سے پرستش کریں گے کیونکہ باپ کو اَیسے ہی پرستاروں کی جُستُجو ہے خُدا رُوح ہے اَور خُدا کے پرستاروں کو لازِم ہے کہ وہ رُوح اَور سچّائی سے خُدا کی پرستش کریں۔“ عورت نے کہا، ”میں جانتی ہُوں کہ المسیح“ جسے (خرِستُسؔ کہتے ہیں) ”آنے والے ہیں۔ جَب وہ آئیں گے، تو ہمیں سَب کُچھ سمجھا دیں گے۔“ اِس پر یِسوعؔ نے فرمایا، ”میں جو تُجھ سے باتیں کر رہا ہُوں، وُہی تو میں ہُوں۔“