یُوحنّا 45:11-57

یُوحنّا 45:11-57 UCV

بہت سے یہُودی جو مریمؔ سے مِلنے آئےتھے، یِسوعؔ کا معجزہ دیکھ کر اُن پر ایمان لایٔے۔ لیکن اُن میں سے بعض نے فریسیوں کے پاس جا کرجو کُچھ یِسوعؔ نے کیا تھا، اُنہیں کہہ سُنایا۔ تَب اہم کاہِنوں اَور فریسیوں نے عدالتِ عالیہ کا اِجلاس طلب کیا اَور کہنے لگے، ”ہم کیا کر رہے ہیں؟ یہ آدمی تو یہاں معجزوں پر معجزے کیٔے جا رہاہے۔ اگر ہم اِسے یُوں ہی چھوڑ دیں گے تو سَب لوگ اِس پر ایمان لے آئیں گے اَور رُومی یہاں آکر ہمارے بیت المُقدّس اَور ہمارے مُلک دونوں پر قبضہ جما لیں گے۔“ تَب اُن میں سے ایک جِس کا نام کائِفؔا تھا، اَورجو اُس سال اعلیٰ کاہِن تھا، کہنے لگا، ”تُم لوگ کُچھ نہیں جانتے! تُمہیں مَعلُوم ہونا چاہئے کہ بہتر یہ ہے کہ لوگوں کی خاطِر ایک شخص ماراجائے نہ کہ ساری قوم ہلاک ہو۔“ یہ بات اُس نے اَپنی طرف سے نہیں کہی تھی بَلکہ اُس سال کے اعلیٰ کاہِن کی حیثیت سے اُس نے پیشن گوئی کی تھی کہ یِسوعؔ ساری یہُودی قوم کے لیٔے اَپنی جان دیں گے۔ اَور صِرف یہُودی قوم کے لیٔے ہی نہیں بَلکہ اِس لیٔے بھی کہ خُدا کے سارے فرزندوں کو جو جابجا بکھرے ہویٔے ہیں جمع کرکے واحد قوم بنادے۔ پس اُنہُوں نے اُس دِن سے یِسوعؔ کے قتل کا منصُوبہ بنانا شروع کر دیا۔ اِس کے نتیجہ میں یِسوعؔ نے یہُودیؔہ میں سرِ عام گھُومنا پِھرنا چھوڑ دیا اَور بیابان کے نزدیک کے علاقہ میں اِفرائیمؔ نام گاؤں کو چلےگئے اَور وہاں اَپنے شاگردوں کے ساتھ رہنے لگے۔ جَب یہُودیوں کی عیدِفسح نزدیک آئی تو بہت سے لوگ اِردگرد کے علاقوں سے یروشلیمؔ آنے لگے تاکہ عیدِفسح سے پہلے طہارت کی ساری رسمیں پُوری کر سکیں۔ وہ یِسوعؔ کو ڈھونڈتے پھرتے تھے، اَور جَب بیت المُقدّس کے صحنوں میں جمع ہویٔے تو ایک دُوسرے سے کہنے لگے، ”کیا خیال ہے، کیا وہ عید میں آئے گایا نہیں؟“ کیونکہ اہم کاہِنوں اَور فریسیوں نے حُکم دے رکھا تھا کہ اگر کسی کو مَعلُوم ہو جائے کہ یِسوعؔ کہاں ہیں تو وہ فوراً اِطّلاع دے تاکہ وہ یِسوعؔ کو گِرفتار کر سکیں۔