اعمال 16:17-31
اعمال 16:17-31 UCV
جَب پَولُسؔ اتھینؔے میں اُن کا اِنتظار کر رہے تھے تُو یہ دیکھ کر کہ سارا شہر بُتوں سے بھرا پڑا ہے، اُن کا دِل بڑا رنجیدہ ہُوا۔ چنانچہ وہ یہُودی عبادت گاہ میں یہُودیوں اَور خُداپرست یُونانیوں سے بحث کیا کرتے تھے اَور اُن سے بھی جو پَولُسؔ کو ہر روز چَوک میں ملتے تھے۔ بعض اِپِکُورؔی اَور سِتُوئیکی فلسفی اُن سے بحث میں اُلجھ گیٔے۔ اُن میں سے بعض نے کہا، ”یہ بکواسی کیا کہنا چاہتاہے؟“ چونکہ پَولُسؔ، یِسوعؔ المسیح اَور قیامت کی بشارت دیتے تھے اِس لیٔے بعض یہ کہنے لگے، ”یہ تو اجنبی معبُودوں کی تبلیغ کرنے والا مَعلُوم ہوتاہے۔“ تَب وہ پَولُسؔ کو اَپنے ساتھ اَرِیُوپَگُسؔ پر لے گیٔے، اَور وہاں اُن سے کہنے لگے، ”کیا ہم جان سکتے ہیں کہ یہ نئی تعلیم جو تُو دیتا پھرتاہے، کیا ہے؟ ہم تیرے مُنہ سے بڑی عجِیب و غریب نظریات سُن رہے ہیں۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اِن کا کیا مطلب ہے؟“ (اصل میں اتھینؔے والے کیا دیسی کیا پردیسی، اَپنی فُرصت کا سارا وقت کسی اَور کام کی بجائے صِرف نئی نئی باتیں سُننے یا سُنانے میں گزارا کرتے تھے۔) لہٰذا پَولُسؔ اَرِیُوپَگُسؔ کے بیچ میں کھڑے ہو گئے اَور فرمایا: ”اَے اتھینؔے والو! میں دیکھتا ہُوں کہ تُم ہر بات میں بڑی مَذہَبِیّت دِکھانے ہو۔ کیونکہ جَب مَیں تمہارے شہر میں گھُوم پھر رہاتھا تو میری نظر تمہاری عبادت کی چیزوں پر پڑی، اَور میری نظر قُربان گاہ پر بھی پڑی۔ جِس پر یہ لِکھّا ہُواہے: ایک نامعلوم خُدا کے لیٔے۔ پس تُم جسے بغیر جانتے پُوجتے ہو، میں تُمہیں اُسی کی خبر دیتا ہُوں۔ ”جِس خُدا نے دُنیا اَور اُس کی ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے وہ آسمان اَور زمین کا مالک ہے۔ وہ ہاتھ کی بنائی ہویٔی یہُودی عبادت گاہوں میں نہیں رہتا۔ وہ اِنسان کے ہاتھوں سے خدمت نہیں لیتا کیونکہ وہ کسی چیز کا مُحتاج نہیں۔ وہ تو سارے اِنسانوں کو زندگی، سانس اَور سَب کچھ دیتاہے۔ خُدا نے آدمؔ کو بنایا اَور اُس ایک سے لوگوں کی ہر قوم کو پیدا کیا تاکہ تمام روئے زمین آباد ہو؛ خُدا نے اُن کی زندگی کے ایّام مُقرّر کیٔے اَور سکونت کے لیٔے حدّوں کو تعیُّن کیا۔ تاکہ وہ خُدا کو ڈھونڈیں اَور شاید تلاش کرتے کرتے اُسے پالیں، حالانکہ وہ ہم میں سے کسی سے بھی دُور نہیں۔ ’کیونکہ ہم خُدا میں زندہ رہتے اَور حرکت کرتے اَور ہمارا وُجُود بھی اُسی میں قائِم ہے۔‘ جَیسا کہ تمہارے بعض شاعِروں نے بھی کہا ہے، ’ہم تو اُن کی نَسل بھی ہیں۔‘ ”اگر ہم ہیں تو ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ نَسل الٰہی سونے، چاندی یا پتّھر کی مُورت ہے جو کسی اِنسان کی ماہرانہ کاریگری کا نمونہ ہو۔ خُدا نے ماضی کی اَیسی جہالت کو نظر اَنداز کر دیا، اَور اَب وہ سارے اِنسانوں کو ہر جگہ حُکم دیتاہے کہ تَوبہ کریں۔ کیونکہ اُس نے ایک دِن مُقرّر کر دیا ہے جَب وہ راستبازی کے ساتھ ساری دُنیا کا اِنصاف ایک اَیسے آدمی کے ذریعہ کرےگا جسے اُس نے مامُور کیا ہے اَور اُسے مُردوں میں سے زندہ کرکے یہ بات سارے اِنسانوں پر ثابت کر دی ہے۔“

