متّی 5
URD
5
پہاڑی وعظ
1وہ اِس بِھیڑ کو دیکھ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور جب بَیٹھ گیا تو اُس کے شاگِرد اُس کے پاس آئے۔ 2اور وہ اپنی زُبان کھو ل کر اُن کو یُوں تعلِیم دینے لگا۔
حقِیقی مُبارک حالی
(لُوقا ۶‏:۲۰‏-۲۳)
3مُبارک ہیں وہ جو دِل کے غرِیب ہیں
کیونکہ آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے۔
4مُبارک ہیں وہ جو غمگین ہیں
کیونکہ وہ تسلّی پائیں گے۔
5مُبارک ہیں وہ جو حلِیم ہیں
کیونکہ وہ زمِین کے وارِث ہوں گے۔
6مُبارک ہیں وہ جو راستبازی کے بُھوکے اور پِیاسے ہیں
کیونکہ وہ آسُودہ ہوں گے۔
7مُبارک ہیں وہ جو رحمدِل ہیں
کیونکہ اُن پر رحم کِیاجائے گا۔
8مُبارک ہیں وہ جو پاک دِل ہیں
کیونکہ وہ خُدا کو دیکھیں گے۔
9مُبارک ہیں وہ جو صُلح کراتے ہیں
کیونکہ وہ خُدا کے بیٹے کہلائیں گے۔
10مُبارک ہیں وہ جو راستبازی کے سبب سے ستائے
گئے ہیں
کیونکہ آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے۔
11جب میرے سبب سے لوگ تُم کو لَعن طَعن کریں گے اور ستائیں گے اور ہر طرح کی بُری باتیں تُمہاری نِسبت ناحق کہیں گے تو تُم مُبارک ہو گے۔ 12خُوشی کرنا اور نِہایت شادمان ہونا کیونکہ آسمان پر تُمہارا اجر بڑا ہے اِس لِئے کہ لوگوں نے اُن نبِیوں کو بھی جو تُم سے پہلے تھے اِسی طرح ستایا تھا۔
نمک اور نُور
(مرقس ۹: ۵۰؛ لُوقا ۱۴‏:۳۴‏-۳۵)
13تُم زمِین کے نمک ہو لیکن اگر نمک کا مزہ جاتا رہے تو وہ کِس چِیز سے نمکِین کِیا جائے گا؟ پِھر وہ کِسی کام کا نہیں سِوا اِس کے کہ باہر پَھینکا جائے اور آدمِیوں کے پاؤں کے نِیچے رَوندا جائے۔
14تُم دُنیا کے نُور ہو ۔ جو شہر پہاڑ پر بسا ہے وہ چُھپ نہیں سکتا۔ 15اور چراغ جلا کر پَیمانہ کے نِیچے نہیں بلکہ چراغ دان پر رکھتے ہیں تو اُس سے گھر کے سب لوگوں کو رَوشنی پُہنچتی ہے۔ 16اِسی طرح تُمہاری رَوشنی آدمِیوں کے سامنے چمکے تاکہ وہ تُمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر تُمہارے باپ کی جو آسمان پر ہے تمجِید کریں۔ تَورَیت کے بارے میں تعلیِم
17یہ نہ سمجھو کہ مَیں تَورَیت یا نبِیوں کی کِتابوں کو منسُوخ کرنے آیا ہُوں۔ منسُوخ کرنے نہیں بلکہ پُورا کرنے آیا ہُوں۔ 18کیونکہ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک آسمان اور زمِین ٹل نہ جائیں ایک نُقطہ یا ایک شوشہ تَورَیت سے ہرگِز نہ ٹلے گا جب تک سب کُچھ پُورا نہ ہو جائے۔ 19پس جو کوئی اِن چھوٹے سے چھوٹے حُکموں میں سے بھی کِسی کو توڑے گا اور یہی آدمِیوں کو سِکھائے گاوہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائے گالیکن جو اُن پر عمل کرے گااور اُن کی تعلِیم دے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائے گا۔ 20کیونکہ مَیں تُم سے کہتا ہُوں کہ اگر تُمہاری راستبازی فقِیہوں اورفرِیسِیوں کی راستبازی سے زِیادہ نہ ہو گی تو تُم آسمان کی بادشاہی میں ہرگِز داخِل نہ ہو گے۔
غُصہ کے بارے میں تعلیِم
21تُم سُن چُکے ہو کہ اگلوں سے کہا گیا تھا کہ خُون نہ کرنا اور جو کوئی خُون کرے گاوہ عدالت کی سزا کے لائِق ہو گا۔ 22لیکن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ جو کوئی اپنے بھائی پر غُصّے ہو گا وہ عدالت کی سزا کے لائِق ہو گا اور جو کوئی اپنے بھائی کو پاگل کہے گا وہ صدرعدالت کی سزا کے لائِق ہو گا اور جو اُس کو احمق کہے گا و ہ آتشِ جہنّم کا سزاوار ہو گا۔ 23پس اگر تُو قُربان گاہ پر اپنی نذر گُذرانتا ہو اور وہاں تُجھے یاد آئے کہ میرے بھائی کو مُجھ سے کُچھ شِکایت ہے۔ 24تو وہیں قُربان گاہ کے آگے اپنی نذر چھوڑ دے اور جا کر پہلے اپنے بھائی سے مِلاپ کر ۔ تب آکر اپنی نذر گُذران۔
25جب تک تُو اپنے مُدّعی کے ساتھ راہ میں ہے اُس سے جلد صُلح کر لے ۔ کہِیں اَیسا نہ ہو کہ مُدّعی تُجھے مُنصِف کے حوالہ کر دے اور مُنصِف تُجھے سِپاہی کے حوالہ کر دے اور تُو قَیدخانہ میں ڈالا جائے۔ 26مَیں تُجھ سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک تُوکَوڑی کَوڑی ادا نہ کر دیگا وہاں سے ہرگِز نہ چُھوٹے گا۔
زِناکے بارے میں تعلیِم
27تُم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ زِنا نہ کرنا۔ 28لیکن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ جِس کِسی نے بُری خواہِش سے کِسی عَورت پر نِگاہ کی وہ اپنے دِل میں اُس کے ساتھ زِنا کر چُکا۔ 29پس اگر تیری د ہنی آنکھ تُجھے ٹھوکر کِھلائے تو اُسے نِکال کراپنے پاس سے پَھینک دے کیونکہ تیرے لِئے یِہی بِہتر ہے کہ تیرے اعضا میں سے ایک جاتا رہے اور تیراسارا بدن جہنّم میں نہ ڈالا جائے۔ 30اور اگر تیرا دہنا ہاتھ تُجھے ٹھوکر کِھلائے تو اُس کوکاٹ کر اپنے پاس سے پَھینک دے کیونکہ تیرے لِئے یِہی بِہترہے کہ تیرے اعضا میں سے ایک جاتا رہے اور تیرا سارا بدن جہنّم میں نہ جائے۔
طلاق کے بارے میں تعلیِم
(متّی ۱۹‏:۹؛ مرقس ۱۰‏:۱۱‏-۱۲؛ لُوقا ۱۶‏:۱۸)
31یہ بھی کہا گیا تھا کہ جو کوئی اپنی بِیوی کو چھوڑے اُسے طلاق نامہ لِکھ دے۔ 32لیکن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ جو کوئی اپنی بِیوی کو حرام کاری کے سِوا کِسی اَور سبب سے چھوڑ دے وہ اُس سے زِنا کراتا ہے اور جو کوئی اُس چھوڑی ہُوئی سے بیاہ کرے وہ زِنا کرتا ہے۔
قَسموں کے بارے میں تعلِیم
33پِھرتُم سُن چُکے ہو کہ اگلوں سے کہا گیا تھا کہ جُھوٹی قَسم نہ کھانا بلکہ اپنی قَسمیں خُداوند کے لِئے پُوری کرنا۔ 34لیکن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ بِالکُل قَسم نہ کھانا ۔ نہ تو آسمان کی کیونکہ وہ خُدا کا تخت ہے۔ 35نہ زمِین کی کیونکہ وہ اُس کے پاؤں کی چَوکی ہے ۔ نہ یروشلِیم کی کیونکہ وہ بُزرگ بادشاہ کا شہر ہے۔ 36نہ اپنے سر کی قَسم کھانا کیونکہ تُو ایک بال کو بھی سفید یا کالا نہیں کر سکتا۔ 37بلکہ تُمہارا کلام ہاں ہاں یا نہیں نہیں ہو کیونکہ جو اِس سے زِیادہ ہے وہ بدی سے ہے۔
اِنتقام کے بارے میں تعلِیم
(لُوقا۶‏:۲۹‏-۳۰)
38تُم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔ 39لیکن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ شرِیر کا مُقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے دہنے گال پر طمانچہ مارے دُوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے۔ 40اور اگر کوئی تُجھ پر نالِش کر کے تیرا کُرتا لیناچاہے تو چوغہ بھی اُسے لے لینے دے۔ 41اور جو کوئی تُجھے ایک کوس بیگار میں لے جائے اُس کے ساتھ دو کوس چلا جا۔ 42جو کوئی تُجھ سے مانگے اُسے دے اور جو تُجھ سے قرض چاہے اُس سے مُنہ نہ موڑ۔
دُشمنوں سے مُحبّت
(لُوقا۶‏:۲۷‏-۲۸، ۳۲‏-۳۶)
43تُم سُن چُکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ اپنے پڑوسی سے مُحبّت رکھ اور اپنے دُشمن سے عداوت۔ 44لیکن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ اپنے دُشمنوں سے مُحبّت رکھّو اور اپنے ستانے والوں کے لِئے دُعا کرو۔ 45تاکہ تُم اپنے باپ کے جو آسمان پر ہے بیٹے ٹھہرو کیونکہ وہ اپنے سُورج کو بدوں اور نیکوں دونوں پر چمکاتا ہے اور راستبازوں اور ناراستوں دونوں پر مِینہ برساتا ہے۔ 46کیونکہ اگر تُم اپنے مُحبّت رکھنے والوں ہی سے مُحبّت رکھّو تو تُمہارے لِئے کیا اجر ہے؟ کیا محصُول لینے والے بھی اَیسا نہیں کرتے؟۔ 47اور اگر تُم فقط اپنے بھائِیوں ہی کو سلام کرو تو کیا زِیادہ کرتے ہو؟ کیا غَیر قَوموں کے لوگ بھی اَیسا نہیں کرتے؟۔ 48پس چاہئے کہ تُم کامِل ہو جَیسا تُمہارا آسمانی باپ کامِل ہے۔