آپ کو دعا کرنی ہے!Sample

"مؤثر ذاتی نماز کے لئے خدا کا ماڈل"
دعا ئے ربانی بائبل میں سب سے زیادہ جانی پہچانی آیات میں سے ایک ہے۔ زیادہ تر لوگوں نے دعا ئے ربانی کو یادکر رکھاہے، یا کم از کم سننے پر اسے پہچان لیں گے۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو ہدایت دی:
"پس تُم اِس طرح دُعا کِیا کرو کہ اے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے۔ تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پُوری ہوتی ہے زمِین پر بھی ہو۔ ہمارے روز کی روٹی آج ہمیں دے۔ اور جِس طرح ہم نے اپنے قرضداروں کو مُعاف کِیا ہے تُو بھی ہمارے قرض ہمیں مُعاف کر۔ اور ہمیں آزمایش میں نہ لا بلکہ بُرائی سے بچا"
دعا ئے ربانی آج تک کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی دعاؤں میں سے ایک ہے۔ لیکن جب یسوع نے ان قیمتی الفاظ کو اپنے شاگردوں کو دیا، تو اِسکا ارادہ ہمیں حفظ کرنے کے لئے ایک مؤثر دُعا فراہم کرنے سے پَرے بہت بڑھیا تھا اس نے ہمیں ہماری تمام دعاؤں کی بنیاد پر ایک اہم ڈھانچہ دیا۔
ایک لمحہ کے لئے سوچیں کہ جب آپ دعا کرتے ہیں تووہ رحجان کیا ہیں جو آپ پر بندش لگاتے ہیں ، یا دعا کی راہ میں آپکو کونسی رکاوٹیں پیش ہیں۔ شاید آپ کے پاس ایک رجحان خُود پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کرنے کا ہوسکتا ہے۔ شاید آپ دعاکے دوران آسانی سے توجہ پھیرسکتے ہوں، یا یہاں تک کہ اُنگھنے کا رحجان۔ یہ عام مسائل ہیں جوہم سب پروقت با وقت گزارتے ہیں۔
دعائے ربانی اِن رحجانات اور رکاوٹوں پر قابو پانے کے لیے بنیاد فراہم کرتی اور اِن کے اجزاء کو توڑتی ہے جو اگلے حصوں میں پیش آتے ہیں ۔
Scripture
About this Plan

ایک طاقتور اور مؤثر دعائیہ زندگی کی تعمیر کے اصولوں کو دریافت کریں۔ دعا - ذاتی سطح پر خدا کے ساتھ بات چیت - ہماری زندگی اور ماحول میں مثبت تبدیلی دیکھنے کی کلید ہے۔یہ ڈیوڈ جے سوینڈٹ کی ایک کتاب "اس دنیا سے باہر؛ ایک مسیحی کی نشونما اور مقصد کے لئے رہنمائی "سے لے لیاگیا ہے۔
More
Related Plans

Bible Explorer for the Young (Ezekiel - Part 1)

Bible Explorer for the Young (Isaiah - Part 3)

Bible Explorer for the Young (Isaiah - Part 2)

Bible Explorer for the Young (Nehemiah)

Bible Explorer for the Young (Jeremiah - Part 1)

Living Like Jesus in a Broken World

Reimagine Influence Through the Life of Lydia

Who Am I, Really? Discovering the You God Had in Mind

16 Characteristics of the God-Kind of Love - 1 Corinthians 13:4-8
