Versions

Cancel
 
4
بدن کی یگانگت
1چنانچہ مَیں جو خداوند میں قیدی ہوں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ اُس زندگی کے مطابق چلیں جس کے لئے خدا نے آپ کو بُلایا ہے۔ 2ہر وقت حلیم اور نرم دل رہیں، صبر سے کام لیں اور ایک دوسرے سے محبت رکھ کر اُسے برداشت کریں۔ 3صلح سلامتی کے بندھن میں رہ کر روح کی یگانگت قائم رکھنے کی پوری کوشش کریں۔ 4ایک ہی بدن اور ایک ہی روح ہے۔ یوں آپ کو بھی ایک ہی اُمید کے لئے بُلایا گیا۔ 5ایک خداوند، ایک ایمان، ایک بپتسمہ ہے۔ 6ایک خدا ہے، جو سب کا واحد باپ ہے۔ وہ سب کا مالک ہے، سب کے ذریعے کام کرتا ہے اور سب میں موجود ہے۔
7اب ہم سب کو اللہ کا فضل بخشا گیا۔ لیکن مسیح ہر ایک کو مختلف پیمانے سے یہ فضل عطا کرتا ہے۔ 8اِس لئے کلامِ مُقدّس فرماتا ہے، ”اُس نے بلندی پر چڑھ کر قیدیوں کا ہجوم گرفتار کر لیا اور آدمیوں کو تحفے دیئے۔“ 9اب غور کریں کہ چڑھنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ پہلے وہ زمین کی گہرائیوں میں اُترا۔ 10جو اُترا وہ وہی ہے جو تمام آسمانوں سے اونچا چڑھ گیا تاکہ تمام کائنات کو اپنے آپ سے معمور کرے۔ 11اُسی نے اپنی جماعت کو طرح طرح کے خادموں سے نوازا۔ بعض رسول، بعض نبی، بعض مبشر، بعض چرواہے اور بعض اُستاد ہیں۔ 12اِن کا مقصد یہ ہے کہ مُقدّسین کو خدمت کرنے کے لئے تیار کیا جائے اور یوں مسیح کے بدن کی تعمیر و ترقی ہو جائے۔ 13اِس طریقے سے ہم سب ایمان اور اللہ کے فرزند کی پہچان میں ایک ہو کر بالغ ہو جائیں گے، اور ہم مل کر مسیح کی معموری اور بلوغت کو منعکس کریں گے۔ 14پھر ہم بچے نہیں رہیں گے، اور تعلیم کے ہر ایک جھونکے سے اُچھلتے پھرتے نہیں رہیں گے جب لوگ اپنی چالاکی اور دھوکے بازی سے ہمیں اپنے جالوں میں پھنسانے کی کوشش کریں گے۔ 15اِس کے بجائے ہم محبت کی روح میں سچی بات کر کے ہر لحاظ سے مسیح کی طرف بڑھتے جائیں گے جو ہمارا سر ہے۔ 16وہی نسوں کے ذریعے پورے بدن کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر متحد کر دیتا ہے۔ ہر حصہ اپنی طاقت کے موافق کام کرتا ہے، اور یوں پورا بدن محبت کی روح میں بڑھتا اور اپنی تعمیر کرتا رہتا ہے۔
مسیح میں نئی زندگی
17پس مَیں خداوند کے نام میں آپ کو آگاہ کرتا ہوں کہ اب سے غیرایمان داروں کی طرح زندگی نہ گزاریں جن کی سوچ بےکار ہے 18اور جن کی سمجھ اندھیرے کی گرفت میں ہے۔ اُن کا اُس زندگی میں کوئی حصہ نہیں جو اللہ دیتا ہے، کیونکہ وہ جاہل ہیں اور اُن کے دل سخت ہو گئے ہیں۔ 19بےحس ہو کر اُنہوں نے اپنے آپ کو عیاشی کے حوالے کر دیا۔ یوں وہ نہ بجھنے والی پیاس کے ساتھ ہر قسم کی ناپاک حرکتیں کرتے ہیں۔
20لیکن آپ نے مسیح کو یوں نہیں جانا۔ 21آپ نے تو اُس کے بارے میں سن لیا ہے، اور اُس میں ہو کر آپ کو وہ سچائی سکھائی گئی جو عیسیٰ میں ہے۔ 22چنانچہ اپنے پرانے انسان کو اُس کے پرانے چال چلن سمیت اُتار دینا، کیونکہ وہ اپنی دھوکے باز شہوتوں سے بگڑتا جا رہا ہے۔ 23اللہ کو آپ کی سوچ کی تجدید کرنے دیں 24اور نئے انسان کو پہن لیں جو یوں بنایا گیا ہے کہ وہ حقیقی راست بازی اور قدوسیت میں اللہ کے مشابہ ہے۔
25اِس لئے ہر شخص جھوٹ سے باز رہ کر دوسروں سے سچ بات کرے، کیونکہ ہم سب ایک ہی بدن کے اعضا ہیں۔ 26غصے میں آتے وقت گناہ مت کرنا۔ آپ کا غصہ سورج کے غروب ہونے تک ٹھنڈا ہو جائے، 27ورنہ آپ ابلیس کو اپنی زندگی میں کام کرنے کا موقع دیں گے۔ 28چور اب سے چوری نہ کرے بلکہ خوب محنت مشقت کر کے اپنے ہاتھوں سے اچھا کام کرے۔ ہاں، وہ اِتنا کمائے کہ ضرورت مندوں کو بھی کچھ دے سکے۔ 29کوئی بھی بُری بات آپ کے منہ سے نہ نکلے بلکہ صرف ایسی باتیں جو دوسروں کی ضروریات کے مطابق اُن کی تعمیر کریں۔ یوں سننے والوں کو برکت ملے گی۔ 30اللہ کے مُقدّس روح کو دُکھ نہ پہنچانا، کیونکہ اُسی سے اللہ نے آپ پر مُہر لگا کر یہ ضمانت دے دی ہے کہ آپ اُسی کے ہیں اور نجات کے دن بچ جائیں گے۔ 31تمام طرح کی تلخی، طیش، غصے، شور شرابہ، گالی گلوچ بلکہ ہر قسم کے بُرے رویے سے باز آئیں۔ 32ایک دوسرے پر مہربان اور رحم دل ہوں اور ایک دوسرے کو یوں معاف کریں جس طرح اللہ نے آپ کو بھی مسیح میں معاف کر دیا ہے۔