مرقُس 14:9, 15, 16, 17, 18, 19, 20, 21, 22, 23, 24, 25, 26, 27, 28, 29, 30, 31, 32
مرقُس 14:9 UCV
جَب وہ شاگردوں کے پاس آئے، اُنہُوں نے دیکھا کہ اُن کے اِردگرد ایک بڑا ہُجوم جمع ہے اَور شَریعت کے عالِم اُن سے بحث کر رہے ہیں۔
مرقُس 15:9 UCV
جُوں ہی لوگوں کی نظر آپ پر پڑی، وہ حیران ہوکر اُن کی طرف سلام کرنے دَوڑے۔
مرقُس 16:9 UCV
یِسوعؔ نے شاگردوں سے پُوچھا؟ ”تُم اِن کے ساتھ کِس بات پر بحث کر رہے تھے۔“
مرقُس 17:9 UCV
ہُجوم میں سے ایک نے جَواب دیا، ”اَے اُستاد محترم، میں اَپنے بیٹے کو آپ کے پاس لایاتھا، کیونکہ اُس میں بدرُوح ہے جِس نے اُسے گُونگا بنا دیا ہے۔
مرقُس 18:9 UCV
جَب بھی بدرُوح اُسے پکڑتی ہے، زمین پر پٹک دیتی ہے۔ لڑکے کے مُنہ سے جھاگ نکلنے لگتا ہے، وہ دانت پیستا ہے۔ اَور اُس کا جِسم اکڑ جاتا ہے۔ مَیں نے آپ کے شاگردوں سے کہاتھا کہ وہ بدرُوح کو نکال دیں، لیکن وہ نکال نہ سکے۔“
مرقُس 19:9 UCV
یِسوعؔ نے فرمایا، ”اَے بےاِعتقاد پُشت، میں کب تک تمہارے ساتھ تمہاری برداشت کرتا رہُوں گا؟ مَیں تمہارے ساتھ کب تک چلُوں گا؟ لڑکے کو میرے پاس لاؤ۔“
مرقُس 20:9 UCV
چنانچہ وہ اُسے یِسوعؔ کے پاس لایٔے۔ جُوں ہی بدرُوح نے یِسوعؔ کو دیکھا، اُس نے لڑکے کو مروڑا۔ اَور وہ زمین پر گِر پڑا اَور لَوٹنے لگا، اَور اُس کے مُنہ سے جھاگ نکلنے لگے۔
مرقُس 21:9 UCV
یِسوعؔ نے لڑکے باپ سے پُوچھا، ”یہ تکلیف اِسے کب سے ہے؟“ اُس نے جَواب دیا، ”بچپن سے ہے۔“
مرقُس 22:9 UCV
”بدرُوح کیٔی دفعہ اِسے آگ اَور پانی میں گرا کر مار ڈالنے کی کوشش کر چُکی ہے۔ اگر آپ سے کُچھ ہو سکے، ہم پر ترس کھائیے اَور ہماری مدد کیجئے۔“
مرقُس 23:9 UCV
” ’اگر ہو سکے تو‘؟“ یِسوعؔ نے کہا۔ ”جو شخص ایمان رکھتا ہے اُس کے لیٔے سَب کُچھ ممکن ہو سَکتا ہے۔“
مرقُس 24:9 UCV
فوراً ہی لڑکے کے باپ نے چیخ کر کہا، ”میں ایمان لاتا ہُوں؛ آپ میری بےاِعتقادی پر قابُو پانے میں میری مدد کیجئے!“
مرقُس 25:9 UCV
جَب یِسوعؔ نے دیکھا کہ لوگ دَوڑے چلے آ رہے ہیں اَور بھیڑ بڑھتی جاتی ہے، آپ نے بدرُوح کو جِھڑکا۔ اَور ڈانٹ کر کہا، ”اَے گُونگی اَور بہری رُوح،“ مَیں تُجھے حُکم دیتا ہُوں، ”اِس لڑکے میں سے نکل جا اَور اِس میں پھر کبھی داخل نہ ہونا۔“
مرقُس 26:9 UCV
بدرُوح نے چیخ ماری، اَور لڑکے کو بُری طرح مروڑ کر اُس میں سے باہر نکل گئی۔ لڑکا مُردہ سا ہوکر زمین پر گِر پڑا یہاں تک کہ لوگ کہنے لگے، ”وہ مَر چُکاہے۔“
مرقُس 27:9 UCV
لیکن یِسوعؔ نے لڑکے کا ہاتھ پکڑکر اُسے اُٹھایا، اَور وہ اُٹھ کھڑا ہُوا۔
مرقُس 28:9 UCV
یِسوعؔ جَب گھر کے اَندر داخل ہُوئے، تو تنہائی میں اُن کے شاگردوں نے اُن سے پُوچھا، ”ہم اِس بدرُوح کو کیوں نہیں نکال سکے؟“
مرقُس 29:9 UCV
یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”اِس قِسم کی بدرُوح دعا کے سِوا کسی اَور طریقہ سے نہیں نکل سکتی۔“
مرقُس 30:9 UCV
پھر وہ وہاں سے روانہ ہوکر صُوبہ گلِیل کے علاقے سے گزرے۔ یِسوعؔ نہیں چاہتے تھے کہ کسی کو اُن کی آمد کی خبر ہو،
مرقُس 31:9 UCV
پس آپ نے اَپنے شاگردوں کو تعلیم دیتے ہویٔے یہ فرمایا، ”اِبن آدمؔ آدمیوں کے حوالہ کیا جائے گا۔ اَور وہ اُس کا قتل کریں گے، لیکن تین دِن کے بعد وہ مُردوں میں سے جی اُٹھے گا۔“
مرقُس 32:9 UCV
لیکن وہ شاگرد حُضُور کی اِس بات کا مطلب نہ سمجھ سکے اَور اُن سے پُوچھنے سے بھی ڈرتے تھے۔





