YouVersion Logo
Search Icon

مرقُس 1:8, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 9, 10, 11, 12, 13, 14, 15, 16, 17, 18, 19, 20, 21

مرقُس 1:8 UCV

اُن ہی دِنوں ایک بار پھر بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ اَور اُن کے پاس کھانے کو کُچھ نہ تھا، اِس لیٔے یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں کو اَپنے پاس بُلایا اَور فرمایا،

مرقُس 2:8 UCV

”مُجھے اِن لوگوں پر ترس آتا ہے؛ کیونکہ یہ تین دِن سے برابر میرے ساتھ ہیں اَور اِن کے پاس کھانے کو کُچھ نہیں رہا۔

مرقُس 3:8 UCV

اگر مَیں اِنہیں بھُوکا ہی گھر بھیج دُوں، تُو یہ راستے میں ہی بے ہوش جایٔیں گے، کیونکہ اِن میں سے بعض کافی دُور کے ہیں۔“

مرقُس 4:8 UCV

اُن کے شاگردوں نے اُنہیں جَواب دیا، ”یہاں اِس بیابان میں اِتنی روٹیاں اِتنے لوگوں کا پیٹ بھرنے کے لیٔے کویٔی کہاں سے لایٔے گا؟“

مرقُس 5:8 UCV

یِسوعؔ نے اُن سے پُوچھا، ”تمہارے پاس کتنی روٹیاں ہیں؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”سات۔“

مرقُس 6:8 UCV

یِسوعؔ نے ہُجوم سے فرمایا کہ سَب زمین پر بیٹھ جایٔیں۔ اَور حُضُور نے وہ سات روٹیاں لے کر خُدا کا شُکر اَدا کیا، اَور اُن کے ٹکڑے کیٔے اَور اُنہیں لوگوں کے درمیان تقسیم کے لیٔے اَپنے شاگردوں کو دینے لگے۔

مرقُس 7:8 UCV

اُن کے پاس کُچھ چُھوٹی چُھوٹی مچھلیاں بھی تھیں؛ یِسوعؔ نے اُن پر بھی برکت دی اَور شاگردوں سے فرمایا کہ اِنہیں بھی لوگوں کے درمیان تقسیم کر دو۔

مرقُس 9:8 UCV

حالانکہ کھانے والے لوگوں کی تعداد چار ہزار کے قریب تھی۔ اِس کے بعد یِسوعؔ نے اُنہیں رخصت کر دیا،

مرقُس 10:8 UCV

اَور خُود اَپنے شاگردوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہوکر فوراً دَلمَنُوتؔھا کے علاقہ کے لیٔے روانہ ہو گئے۔

مرقُس 11:8 UCV

بعض فرِیسی یِسوعؔ کے پاس آکر بحث کرنے لگے۔ اَور اُنہیں آزمانے کی غرض سے اُن سے کویٔی آسمانی نِشان دِکھانے کا مطالبہ کیا۔

مرقُس 12:8 UCV

یِسوعؔ نے اَپنی رُوح میں بڑی گہری آہ بھری اَور فرمایا، ”اِس زمانہ کے لوگ نِشان کیوں دیکھنا چاہتے ہیں؟ میں تُم سے سچ سچ کہتا ہُوں، اِس زمانہ کے لوگوں کو کویٔی نِشان نہیں دِکھایا جائے گا۔“

مرقُس 13:8 UCV

تَب وہ اُنہیں چھوڑکر پھر سے کشتی میں جا بیٹھے اَور جھیل کے پار چلےگئے۔

مرقُس 14:8 UCV

اَیسا ہُوا کہ شاگرد روٹی لانا بھُول گیٔے، اَور اُن کے پاس کشتی میں ایک روٹی سے زِیادہ اَور کُچھ نہ تھا۔

مرقُس 15:8 UCV

یِسوعؔ نے اُنہیں تاکیداً فرمایا، ”خبردار، دیکھو فریسیوں اَور ہیرودیسؔ کے خمیر سے بچے رہنا۔“

مرقُس 16:8 UCV

اُنہُوں نے ایک دُوسرے سے اِس پر تبادلہ خیال کیا اَور وہ کہنے لگے، ”دیکھا ہم اَپنے ساتھ روٹیاں لانا بھُول گیٔے۔“

مرقُس 17:8 UCV

یِسوعؔ کو مَعلُوم ہُوا، تو اُنہُوں نے اُن سے پُوچھا: ”تُم کیوں تکرار کرتے ہو کہ ہمارے پاس روٹیاں نہیں ہیں؟ کیا تُم ابھی تک نہیں جانتے اَور سمجھتے ہو؟ کیا تمہارے دِل سخت ہو چُکے ہیں؟

مرقُس 18:8 UCV

تمہاری آنکھیں ہونے پر بھی دیکھ نہیں پا رہے ہو، اَور کان ہونے پر بھی کچھ نہیں سُنتے ہو؟ کیا تُمہیں کچھ یاد نہیں رہا؟

مرقُس 19:8 UCV

جِس وقت مَیں نے پانچ ہزار آدمیوں کے لیٔے، پانچ روٹیوں کے ٹکڑے کیٔے تھے تو تُم نے بچے ہویٔے ٹُکڑوں کی کتنی ٹوکریاں اُٹھائی تھیں؟“ ”بَارہ،“ اُنہُوں نے جَواب دیا۔

مرقُس 20:8 UCV

”اَور جَب مَیں نے چار ہزار آدمیوں کے لیٔے، اُن سات روٹیوں کو دیا تو تُم نے باقی بچے ٹُکڑوں سے کتنی ٹوکریاں بھری تھیں؟“ اُنہُوں نے کہا، ”سات۔“

مرقُس 21:8 UCV

تَب یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”کیا تمہاری سمجھ میں ابھی بھی کُچھ نہیں آیا؟“