مرقُس 1:7, 2, 3, 4, 5, 6, 8, 9, 10, 11, 12, 13, 14, 15, 16, 17, 18, 19, 20, 21, 22, 23
مرقُس 1:7 UCV
ایک دفعہ یروشلیمؔ کے بعض فرِیسی اَور شَریعت کے کُچھ عالِم یِسوعؔ کے پاس جمع ہویٔے۔
مرقُس 2:7 UCV
اُنہُوں نے دیکھا کہ اُن کے بعض شاگرد ناپاک ہاتھوں سے یعنی، ہاتھ دھوئے بغیر کھانا کھاتے ہیں۔
مرقُس 3:7 UCV
(اصل میں فرِیسی بَلکہ سَب یہُودی اَپنے بُزرگوں کی روایتوں کے اِس قدر پابند ہوتے ہیں جَب تک اَپنے ہاتھوں کو رسمی دھلائی تک دھو نہ لیں کھانا نہیں کھاتے۔
مرقُس 4:7 UCV
اَور جَب بھی بازار سے آتے ہیں تو بغیر ہاتھ دھوئے کھانا نہیں کھاتے۔ اِسی طرح اَور بھی بہت سِی روایتیں ہیں۔ جو بُزرگوں سے پہُنچی ہیں، جِن کی وہ پابندی کرتے ہیں مثلاً پیالے، گھڑوں اَور تانبے کے برتنوں، کو خاص طریقہ سے دھونا۔)
مرقُس 5:7 UCV
لہٰذا فریسیوں اَور شَریعت کے عالِموں نے یِسوعؔ سے پُوچھا، ”کیا وجہ ہے آپ کے شاگرد بُزرگوں کی روایت پر عَمل نہیں کرتے اَور ناپاک ہاتھوں سے کھانا کھاتے ہیں؟“
مرقُس 6:7 UCV
آپ نے اُنہیں جَواب دیا، ”حضرت یَشعیاہ نبی نے تُم ریاکاروں کے بارے میں کیا خُوب نبُوّت کی ہے؛ جَیسا کہ کِتاب مُقدّس میں لِکھّا ہے: ” ’یہ اُمّت زبان سے تو میری تعظیم کرتی ہے، مگر اِن کا دِل مُجھ سے دُور ہے۔
مرقُس 8:7 UCV
تُم خُدا کے اَحکام کو چھوڑکر اِنسانی روایت کو قائِم رکھتے ہو۔“
مرقُس 9:7 UCV
پھر یہ کہا، ”تُم اَپنی روایت کو قائِم رکھنے کے لیٔے خُدا کے حُکم کو کیسی خُوبی کے ساتھ باطِل کر دیتے ہو!
مرقُس 10:7 UCV
مثلاً حضرت مَوشہ نے فرمایاہے، ’تُم اَپنے باپ اَور ماں کی عزّت کرنا،‘ اَور ’جو کویٔی باپ یا ماں کو بُرا کہے وہ ضروُر مار ڈالا جائے۔‘
مرقُس 11:7 UCV
مگر تُم یہ کہتے ہو کہ جو چاہے اَپنے ضروُرت مند باپ یا ماں سے کہہ سَکتا ہے کہ میری جِس چیز سے تُجھے فائدہ پہُنچ سَکتا تھا وہ تو قُربان (یعنی، خُدا کی نذر) ہو چُکی
مرقُس 13:7 UCV
یُوں تُم اَپنی روایت سے جو تُم نے جاری کی ہے کہ خُدا کے کلام کو باطِل کر دیتے ہو۔ تُم اِس قَسم کے اَور بھی کیٔی کام کرتے ہو۔“
مرقُس 14:7 UCV
پھر یِسوعؔ نے ہُجوم کو اَپنے پاس بُلاکر فرمایا، ”تُم سَب، میری بات سُنو، اَور اِسے سمجھنے کی کوشش کرو۔
مرقُس 15:7 UCV
جو چیز باہر سے اِنسان کے اَندر جاتی ہے۔ وہ اُسے ناپاک نہیں کر سکتی۔ بَلکہ، جو چیز اُس کے اَندر سے باہر نکلتی ہے وُہی اُسے ناپاک کرتی ہے۔
مرقُس 17:7 UCV
جَب وہ ہُجوم کے پاس سے گھر میں داخل ہُوئے، تو اُن کے شاگردوں نے اِس تمثیل کا مطلب پُوچھا۔
مرقُس 18:7 UCV
اُنہُوں نے اُن سے کہا؟ ”کیا تُم بھی اَیسے ناسمجھ ہو؟ اِتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جو چیز باہر سے اِنسان کے اَندر جاتی ہے وہ اُسے ناپاک نہیں کر سکتی؟
مرقُس 19:7 UCV
اِس لیٔے کہ وہ اُس کے دِل میں نہیں بَلکہ پیٹ میں، جاتی ہے اَور آخِرکار بَدن سے خارج ہوکر باہر نکل جاتی ہے۔“ (یہ کہہ کر، حُضُور نے تمام کھانے کی چیزوں کو پاک ٹھہرایا۔)
مرقُس 20:7 UCV
پھر اُنہُوں نے کہا: ”اصل میں جو کُچھ اِنسان کے دِل سے باہر نکلتا ہے وُہی اُسے ناپاک کرتا ہے۔
مرقُس 21:7 UCV
کیونکہ اَندر سے یعنی اُس کے دِل سے، بُرے خیال باہر آتے ہیں جَیسے، جنسی بدفعلی، چوری، خُونریزی
مرقُس 22:7 UCV
زنا، لالچ، بدکاری، مَکر و فریب، شہوت پرستی، بدنظری، کُفر، تکبُّر اَور حماقت۔
مرقُس 23:7 UCV
یہ سَب بُرائیاں اِنسان کے اَندر سے نکلتی ہیں اَور اُسے ناپاک کردیتی ہیں۔“





