YouVersion Logo
Search Icon

مرقُس 30:6, 31, 32, 33, 34, 35, 36, 37, 38, 39, 40, 41, 42, 43, 44, 45, 46, 47, 48, 49, 50, 51, 52, 53, 54, 55, 56

مرقُس 30:6 UCV

یِسوعؔ کے پاس رسول واپس آئے اَورجو کُچھ اُنہُوں نے کام کیٔے اَور تعلیم سِکھائی تھی اُن سَب کو آپ سے بَیان کیا۔

مرقُس 31:6 UCV

آپ نے اُن سے کہا، ”ہم کسی ویران اَور الگ جگہ پر چلیں اَور تھوڑی دیر آرام کریں، کیونکہ اُن کے پاس بہت سے لوگوں کی آمدورفت لگی رہتی تھی اَور اُنہیں کھانے تک کی فُرصت نہ ملتی تھی۔“

مرقُس 32:6 UCV

تَب یِسوعؔ کشتی میں بیٹھ کر دُور ایک ویران جگہ کی طرف روانہ ہویٔے۔

مرقُس 33:6 UCV

لوگوں نے اُنہیں جاتے دیکھ لیا اَور پہچان لیا۔ اَور تمام شہروں کے لوگ اِکٹھّے ہوکر پیدل ہی دَوڑے اَور آپ سے پہلے وہاں پہُنچ گیٔے۔

مرقُس 34:6 UCV

جَب یِسوعؔ کشتی سے کنارے پر اُترے تو آپ نے ایک بڑے ہُجوم کو دیکھا، اَور آپ کو اُن پر بڑا ترس آیا، کیونکہ وہ لوگ اُن بھیڑوں کی مانِند تھے جِن کا کویٔی گلّہ بان نہ ہو۔ لہٰذا وہ اُنہیں بہت سِی باتیں سِکھانے لگے۔

مرقُس 35:6 UCV

اِسی دَوران شام ہو گئی، اَور شاگردوں نے اُن کے پاس آکر کہا، ”یہ جگہ ویران ہے اَور دِن ڈھل چُکاہے۔

مرقُس 36:6 UCV

اِن لوگوں کو رخصت کر دیجئے تاکہ وہ آس پاس کی بستیوں اَور گاؤں میں چلے جایٔیں اَور خرید کر کُچھ کھا پی لیں۔“

مرقُس 37:6 UCV

لیکن یِسوعؔ نے جَواب میں کہا، ”تُم ہی اِنہیں کھانے کو دو۔“ شاگردوں نے کہا، ”کیا ہم جایٔیں اَور اُن کے کھانے کے لیٔے دو سَو دینار! کی روٹیاں خرید کر لائیں؟“

مرقُس 38:6 UCV

اُنہُوں نے پُوچھا، ”تمہارے پاس کتنی روٹیاں ہیں؟ جاؤ اَور دیکھو۔“ اُنہُوں نے دریافت کرکے، بتایا، ”پانچ روٹیاں اَور دو مچھلیاں ہیں۔“

مرقُس 39:6 UCV

تَب یِسوعؔ نے لوگوں کو چُھوٹی چُھوٹی قطاریں بنا کر سبز گھاس پر بیٹھ جانے کا حُکم دیا۔

مرقُس 40:6 UCV

اَور وہ سَو سَو اَور پچاس پچاس کی قطاریں بنا کر بیٹھ گیٔے۔

مرقُس 41:6 UCV

یِسوعؔ نے وہ پانچ روٹیاں اَور دو مچھلیاں لیں اَور آسمان، کی طرف نظر اُٹھاکر اُن پر برکت مانگی۔ پھر آپ نے اُن روٹیوں کے ٹکڑے توڑ کر شاگردوں کو دئیے اَور کہا کہ اِنہیں لوگوں کے سامنے رکھتے جایٔیں۔ اِسی طرح خُداوؔند نے دو مچھلیاں بھی اُن سَب لوگوں میں تقسیم کر دیں۔

مرقُس 42:6 UCV

سَب لوگ کھا کر سیر ہو گئے،

مرقُس 43:6 UCV

روٹیوں اَور مچھلیوں کے ٹُکڑوں کی بَارہ ٹوکریاں بھر کر اُٹھائی گئیں۔

مرقُس 44:6 UCV

جِن لوگوں نے وہ روٹیاں کھائی تھیں اُن میں مَرد ہی پانچ ہزار تھے۔

مرقُس 45:6 UCV

لوگوں کو رخصت کرنے سے پہلے اُنہُوں نے شاگردوں پر زور دیا، تُم فوراً کشتی پر سوار ہوکر جھیل کے پار بیت صیؔدا چلے جاؤ، تاکہ میں یہاں لوگوں کو رخصت کر سکوں۔

مرقُس 46:6 UCV

اُنہیں رخصت کرنے کے بعد وہ دعا کرنے کے لیٔے ایک پہاڑی پر چلےگئے۔

مرقُس 47:6 UCV

رات کے آخِر میں، کشتی جھیل کے درمیانی حِصّہ میں پہُنچ چُکی تھی، اَور وہ کنارے پر تنہا تھے۔

مرقُس 48:6 UCV

یِسوعؔ نے جَب دیکھا کہ ہَوا مُخالف ہونے کی وجہ سے شاگردوں کو کشتی کو کھینے میں بڑی مُشکل پیش آ رہی ہے۔ لہٰذا وہ رات کے چوتھے پہر کے قریب جھیل پر چلتے ہویٔے اُن کے پاس پہُنچے، اَور چاہتے تھے کہ اُن سے آگے نکل جایٔیں،

مرقُس 49:6 UCV

لیکن شاگردوں نے اُنہیں پانی پر چلتے، دیکھا تو آپ کو بھُوت سمجھ کر۔ شاگرد خُوب چِلّانے لگے،

مرقُس 50:6 UCV

کیونکہ سَب اُنہیں دیکھ کر بہت ہی زِیادہ خوفزدہ ہو گئے تھے۔ مگر آپ نے فوراً اُن سے بات کی اَور کہا، ”ہِمّت رکھو! میں ہُوں۔ ڈرو مت۔“

مرقُس 51:6 UCV

تَب وہ اُن کے ساتھ کشتی میں چڑھ گیٔے اَور ہَوا تھم گئی۔ شاگرد اَپنے دِلوں میں نہایت ہی حیران ہویٔے،

مرقُس 52:6 UCV

کیونکہ وہ روٹیوں کے معجزہ سے بھی کویٔی سبق نہ سیکھ پایٔے تھے؛ اَور اُن کے دِل سخت کے سخت ہی رہے۔

مرقُس 53:6 UCV

وہ جھیل کو پار کرنے کے بعد، وہ گنیسرتؔ کے علاقہ میں پہُنچے اَور کشتی کو کنارے سے لگا دیا۔

مرقُس 54:6 UCV

جَب وہ کشتی سے اُترے تو لوگوں نے یِسوعؔ کو ایک دَم پہچان لیا۔

مرقُس 55:6 UCV

پس لوگ اُن کی مَوجُودگی کی خبر سُن کر ہر طرف سے دَوڑ پڑے اَور بیماریوں کو بچھونوں پر ڈال کر اُن کے پاس لانے لگے۔

مرقُس 56:6 UCV

اَور یِسوعؔ گاؤں یا شہروں یا بستیوں میں جہاں کہیں جاتے تھے لوگ بیماریوں کو بازاروں میں راستوں پر رکھ دیتے تھے۔ اَور اُن کی مِنّت کرتے تھے کہ اُنہیں صِرف اَپنی پوشاک، کا کنارہ چھُو لینے دیں اَور جتنے یِسوعؔ کو چھُو لیتے تھے۔ شفا پاجاتے تھے۔

Free Reading Plans and Devotionals related to مرقُس 30:6, 31, 32, 33, 34, 35, 36, 37, 38, 39, 40, 41, 42, 43, 44, 45, 46, 47, 48, 49, 50, 51, 52, 53, 54, 55, 56