مرقُس 21:5, 22, 23, 24, 25, 26, 27, 28, 29, 30, 31, 32, 33, 34, 35, 36, 37, 38, 39, 40, 41, 42, 43
مرقُس 21:5 UCV
پھر یِسوعؔ کشتی کے ذریعہ واپس ہُوئے اَور جھیل کے دُوسری پار پہُنچتے ہی ایک بڑی بھیڑ آپ کے پاس جمع ہو گئی، جَب کہ آپ جھیل کے کنارے پر ہی رہے۔
مرقُس 22:5 UCV
تَب مقامی یہُودی عبادت گاہ کے رہنماؤں، میں سے ایک جِس کا نام یائیرؔ تھا، وہاں پہُنچا، آپ کو دیکھ کر، آپ کے قدموں پر گِر پڑا
مرقُس 23:5 UCV
اَور مِنّت کرکے کہنے لگا، ”میری چُھوٹی بیٹی مَرنے پر ہے۔ مہربانی سے چلئے اَور اُس پر اَپنے ہاتھ رکھ دیجئے تاکہ وہ شفایاب ہو جائے اَور زندہ رہے۔“
مرقُس 24:5 UCV
پس آپ اُس کے ساتھ چلے گیٔے۔ اَور اِتنی بڑی بھیڑ آپ کے پیچھے ہو گئی لوگ آپ پر گِرے پڑتے تھے۔
مرقُس 26:5 UCV
وہ کیٔی طبیبوں سے علاج کراتے کراتے پریشان ہو گئی تھی اَور اَپنی ساری پُونجی لُٹا چُکی تھی، لیکن تندرست ہونے کی بجائے پہلے سے بھی زِیادہ بیمار ہو گئی تھی۔
مرقُس 27:5 UCV
اُس خاتُون نے یِسوعؔ کے بارے میں بہت کُچھ سُن رکھا تھا، چنانچہ اُس نے ہُجوم میں گھُس کر پیچھے سے یِسوعؔ کی پوشاک کو چھُو لیا،
مرقُس 28:5 UCV
کیونکہ وہ کہتی تھی، ”اگر مَیں یِسوعؔ کی پوشاک ہی کو چھُو لُوں گی، تو میں شفا پا جاؤں گی۔“
مرقُس 29:5 UCV
اُسی دَم اُس کا خُون بہنا بندہو گیا اَور اُسے اَپنے بَدن میں محسُوس ہُوا کہ اُس کی ساری تکلیف جاتی رہی ہے۔
مرقُس 30:5 UCV
یِسوعؔ نے فوراً جان لیا کہ اُن میں سے قُوّت نکلی ہے۔ لہٰذا آپ ہُجوم کی طرف مُڑے اَور پُوچھنے لگے، ”کِس نے میری پوشاک کو چھُوا ہے؟“
مرقُس 31:5 UCV
شاگردوں نے یِسوعؔ سے کہا، ”آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہُجوم کِس طرح آپ پر گرا پڑ رہاہے، اَور پھر بھی آپ پُوچھتے ہیں، ’کِس نے مُجھے چھُوا ہے؟‘ “
مرقُس 32:5 UCV
لیکن آپ نے چاروں طرف نظر دَوڑائی تاکہ دیکھیں کہ کِس نے اَیسا کیا ہے۔
مرقُس 33:5 UCV
لیکن وہ خاتُون، یہ جانتے ہویٔے اُس پر کیا اثر ہُواہے، خوفزدہ سِی اَور کانپتی ہویٔی آئی اَور آپ کے قدموں میں گِر کر، آپ کو ساری حقیقت بَیان کی۔
مرقُس 34:5 UCV
آپ نے اُس سے کہا، ”بیٹی، تمہارے ایمان نے تُمہیں شفا بخشی۔ سلامتی کے ساتھ رخصت ہو اَور اَپنی پریشانیوں سے نَجات پاؤ۔“
مرقُس 35:5 UCV
آپ ابھی وعظ دے ہی رہے تھے، یہُودی عبادت گاہ کے رہنما یائیرؔ کے گھر سے کُچھ لوگ آ پہُنچے، رہنما نے خبر دی۔ ”آپ کی بیٹی مَر چُکی ہے، اَب اُستاد کو مزید تکلیف نہ دیجئے؟“
مرقُس 36:5 UCV
یِسوعؔ نے یہ سُن کر، یہُودی عبادت گاہ کے رہنما سے کہا، ”خوف نہ کرو؛ صِرف ایمان رکھو۔“
مرقُس 37:5 UCV
آپ نے پطرس، یعقوب اَور یعقوب کے بھایٔی یُوحنّا کے علاوہ کسی اَور کو اَپنے ساتھ نہ آنے دیا۔
مرقُس 38:5 UCV
جِس وقت وہ یہُودی عبادت گاہ کے رہنما کے گھر پہُنچے، تو آپ نے دیکھا، وہاں بڑا کہرام مچا ہُواہے اَور لوگ بہت رو پیٹ رہے ہیں۔
مرقُس 39:5 UCV
جَب وہ اَندر پہُنچے تو اُن سے کہا، ”تُم لوگوں نے کیوں اِس قدر رونا پیٹنا مچا رکھا ہے؟ بچّی مَری نہیں بَلکہ سو رہی ہے۔“
مرقُس 40:5 UCV
اِس پر وہ آپ کی ہنسی اُڑانے لگے۔ لیکن آپ نے اُن سَب کو وہاں سے باہر نکلوادِیا، اَور بچّی کے ماں باپ اَور اَپنے شاگردوں کو لے کر بچّی کے پاس گیٔے۔
مرقُس 41:5 UCV
وہاں بچّی کا ہاتھ پکڑکر آپ نے اُس سے کہا، ”تلِیتا قَومی!“ (جِس کے معنی ہیں ”اَے بچّی، میں تُم سے کہتا ہُوں، اُٹھو!“)
مرقُس 42:5 UCV
بچّی ایک دَم اُٹھی اَور چلنے پھرنے لگی (یہ لڑکی بَارہ بَرس کی تھی)۔ یہ دیکھ کر لوگ حیرت زدہ رہ گیٔے۔
مرقُس 43:5 UCV
یِسوعؔ نے اُنہیں سخت تاکید کی کہ اِس کی خبر کسی کو نہ ہونے پایٔے، اَور فرمایا کہ لڑکی کو کُچھ کھانے کو دیا جائے۔





