مرقُس 1:4, 2, 3, 5, 6, 7, 8, 9, 10, 11, 12, 13, 14, 15, 16, 17, 18, 19, 20
مرقُس 1:4 UCV
یِسوعؔ پھر جھیل کے کنارے تعلیم دینے لگے اَور لوگوں کا اَیسا ہُجوم جمع ہو گیا۔ یِسوعؔ جھیل کے کنارے کشتی میں جا بیٹھے، اَور سارا ہُجوم خُشکی پر جھیل کے کنارے پر ہی کھڑا رہا۔
مرقُس 2:4 UCV
تَب وہ اُنہیں تمثیلوں کے ذریعہ بہت سِی باتیں سِکھانے لگے، اَور اَپنی تعلیم دیتے ہویٔے آپ نے فرمایا
مرقُس 5:4 UCV
کُچھ پتھریلی زمین پر گِرے جہاں مٹّی کم تھی۔ چونکہ مٹّی گہری نہ تھی، وہ جلد ہی اُگ آئے۔
مرقُس 6:4 UCV
لیکن جَب سُورج نِکلا، تو جَل گیٔے اَور جڑ نہ پکڑنے کے باعث سُوکھ گیٔے۔
مرقُس 7:4 UCV
کُچھ بیج کانٹے دار جھاڑیوں میں گِرے، اَور جھاڑیوں نے اُنہیں دبا لیا۔
مرقُس 8:4 UCV
مگر کُچھ بیج اَچھّی زمین پر گِرے۔ اَور اُگ کر بڑھے اَور بڑھ کر پھل لایٔے، کویٔی تیس گُنا، کویٔی ساٹھ گُنا، اَور کویٔی سَو گُنا۔“
مرقُس 10:4 UCV
جَب وہ تنہائی میں تھے، یِسوعؔ کے بَارہ شاگردوں اَور دُوسرے ساتھیوں نے آپ سے اِن تمثیلوں کے بارے میں پُوچھا۔
مرقُس 11:4 UCV
آپ نے اُن سے فرمایا، ”تُمہیں تو خُدا کی بادشاہی کے رازوں کو سمجھنے کی قابلیّت دی گئی ہے۔ لیکن باہر والوں کے لیٔے ساری باتیں تمثیلوں میں بَیان کی جاتی ہیں،
مرقُس 12:4 UCV
لہٰذا، ” ’وہ دیکھتے ہویٔے بھی، کُچھ نہیں دیکھتے؛ اَور سُنتے ہُوئے بھی کبھی کُچھ نہیں سمجھتے؛ اَیسا نہ ہو کہ وہ تَوبہ کریں اَور گُناہوں کی مُعافی حاصل کر لیں!‘“
مرقُس 13:4 UCV
پھر یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”اگر تُم یہ تمثیل نہیں سمجھے تو باقی سَب تمثیلیں؟ کیسے سمجھوگے؟
مرقُس 15:4 UCV
کُچھ لوگ جنہیں کلام سُنایا جاتا ہے راہ کے کنارے والے ہیں۔ جُوں ہی کلام کا بیج بویا جاتا ہے، شیطان آتا ہے اَور اُن کے دِلوں سے وہ کلام نکال لے جاتا ہے۔
مرقُس 16:4 UCV
اِسی طرح، وہ لوگ پتھریلی جگہوں پر بوئے ہویٔے بیجوں کی طرح ہیں، وہ خُدا کے کلام کو سُنتے ہی خُوشی کے ساتھ سے قبُول کرلیتے ہیں۔
مرقُس 17:4 UCV
مگر وہ کلام اُن میں جڑ نہیں پکڑ پاتا، چنانچہ وہ کُچھ دِنوں تک ہی قائِم رہتے ہیں۔ اَور جَب اُن پر اِس کلام کی وجہ سے مُصیبت یااِیذا برپا ہوتی ہے تو وہ فوراً گِر جاتے ہیں۔
مرقُس 18:4 UCV
اَور دیگر، جھاڑیوں میں گِرنے والے بیج سے مُراد وہ لوگ ہیں، جو کلام کو سُنتے تو ہیں؛
مرقُس 19:4 UCV
لیکن اِس دُنیا کی فکریں، دولت کا فریب اَور دُوسری چیزوں کا لالچ آڑے آکر اِس کلام کو دبا دیتاہے، اَور وہ بے نتیجہ ہو جاتا ہے۔
مرقُس 20:4 UCV
جو لوگ، اُس اَچھّی زمین کی طرح ہیں جہاں بیج بویا جاتا ہے، وہ کلام کو سُنتے ہیں، قبُول کرتے ہیں، اَور پھل لاتے ہیں، بعض تیس گُنا، بعض ساٹھ گُنا، اَور بعض سَو گُنا۔“





