مرقُس 1:3, 2, 4, 5, 6, 7, 8, 9, 10, 11, 12, 13, 14, 15, 16, 17, 18, 19
مرقُس 1:3 UCV
پھر سے یِسوعؔ یہُودی عبادت گاہ میں داخل ہُوئے اَور وہاں، ایک آدمی تھا جِس کا ایک ہاتھ سُوکھا ہُوا تھا۔
مرقُس 2:3 UCV
اَور فرِیسی یِسوعؔ کی تاک میں تھے اِس لیٔے حُضُور کو قریب سے دیکھنے لگے کہ اگر حُضُور سَبت کے دِن اُس آدمی کو شفا بخشیں تو وہ حُضُور پر اِلزام لگاسکیں۔
مرقُس 4:3 UCV
یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”سَبت کے دِن کیا کرنا روا ہے: نیکی کرنا یا بدی کرنا، جان بچانا یا ہلاک کرنا؟“ لیکن وہ خاموش رہے۔
مرقُس 5:3 UCV
وہ اُن کی سخت دِلی پر نہایت ہی غمگین ہُوئے اَور اُن پر غُصّہ سے نظر کرکے، یِسوعؔ نے اُس آدمی سے کہا، ”اَپنا ہاتھ بڑھا۔“ اُس نے جَیسے ہی ہاتھ آگے بڑھایا اُس کا ہاتھ بالکُل ٹھیک ہو گیا تھا۔
مرقُس 6:3 UCV
یہ دیکھ کر فرِیسی فوراً باہر چلے گیٔے اَور ہیرودیوں کے ساتھ یِسوعؔ کو ہلاک کرنے کی سازش کرنے لگے۔
مرقُس 7:3 UCV
یِسوعؔ اَپنے شاگردوں کے ساتھ جھیل کی طرف تشریف لے گیٔے، اَور صُوبہ گلِیل اَور یہُودیؔہ سے لوگوں کا ایک بڑا ہُجوم بھی آپ کے پیچھے چل رہاتھا۔
مرقُس 8:3 UCV
اَور یہُودیؔہ، یروشلیمؔ، اِدوُمیہؔ، دریائے یردنؔ کے پار اَور صُورؔ اَور صیؔدا کے علاقوں کے لوگ بھی آ پہُنچے، کیونکہ اُنہیں پتہ چلاتھا کہ یِسوعؔ بہت بڑے بڑے کام کرتے ہیں۔
مرقُس 9:3 UCV
ہُجوم کو دیکھ کر یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں سے کہا، میرے لیٔے ایک چُھوٹی کشتی تیّار رکھو لوگ بہت ہی زِیادہ ہیں، کہیں اَیسا نہ ہو کہ وہ مُجھے دبا دیں۔
مرقُس 10:3 UCV
یِسوعؔ نے بہت سے لوگوں کو شفا بخشی تھی، لہٰذا جتنے لوگ بیمار تھے آپ کو چھُونے کی کوشش میں اُن پر گِرے پڑتے تھے۔
مرقُس 11:3 UCV
بدرُوحیں بھی یِسوعؔ کو دیکھتی تھیں، اُن کے سامنے گِر کر چِلّانے لگتی تھیں، ”آپ خُدا کے بیٹے ہیں۔“
مرقُس 12:3 UCV
یِسوعؔ نے اُنہیں سخت تاکید کی کہ وہ دُوسروں کو اُن کے بارے میں نہ بتائیں۔
مرقُس 13:3 UCV
پھر یِسوعؔ ایک پہاڑی پر چڑھ گیٔے اَور وہ جنہیں چاہتے تھے، اُنہیں اَپنے پاس بُلایا اَور وہ حُضُور کے پاس چلے آئے۔
مرقُس 14:3 UCV
یِسوعؔ نے بَارہ کو بطور رسول مُقرّر کیا تاکہ وہ اُن کے ساتھ رہیں اَور وہ اُنہیں مُنادی کرنے کے لیٔے بھیجیں
مرقُس 16:3 UCV
چنانچہ یِسوعؔ نے اِن بَارہ کو مُقرّر کیا: شمعُونؔ (جسے یِسوعؔ نے پطرس کا نام دیا)،
مرقُس 17:3 UCV
یعقوب اُس کا بھایٔی یُوحنّا جو زبدیؔ کا بیٹے تھے (یِسوعؔ نے اُن کا تخّلص بُوانِرگِسؔ یعنی ”رَعد کا بیٹا رکھا“)،
مرقُس 18:3 UCV
اَندریاسؔ، فِلِپُّسؔ اَور برتلماؔئی، متّیؔ، اَور توماؔ، حلفئؔی کا بیٹا یعقوب اَور تدّیؔ، اَور شمعُونؔ قنانی
مرقُس 19:3 UCV
اَور یہُوداہؔ اِسکریوتی جِس نے یِسوعؔ سے دغابازی بھی کی تھی۔





