مرقُس 1:11, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8, 9, 10, 12, 13, 14
مرقُس 1:11 UCV
جَب وہ بیت فگے اَور بیت عنیّاہ کے پاس پہُنچے جو یروشلیمؔ کے باہر کوہِ زَیتُون پر واقع ہے، یِسوعؔ نے اَپنے شاگردوں میں سے دو کو آگے بھیجا،
مرقُس 2:11 UCV
اَور فرمایا، ”سامنے والے گاؤں میں جاؤ، وہاں داخل ہوتے ہی تُم ایک گدھی کا جَوان بچّہ بندھا ہُوا پاؤگے، جِس پر اَب تک کسی نے سواری نہیں کی ہے۔ اُسے کھول کر یہاں لے آؤ۔
مرقُس 3:11 UCV
اَور اگر کویٔی تُم سے پُوچھے، ’تُم یہ کیا کر رہے ہو؟‘ تو کہنا، ’خُداوؔند کو اِس کی ضروُرت ہے اَور وہ اُسے فوراً ہی یہاں بھیج دے گا۔‘ “
مرقُس 4:11 UCV
چنانچہ وہ گیٔے اَور اُنہُوں نے گدھی کے بچّے کو سامنے گلی میں، ایک دروازہ کے پاس بندھا ہُوا پایا۔ جَب وہ گدھی کے بچّے کو کھول رہے تھے،
مرقُس 5:11 UCV
تو کُچھ لوگ جو وہاں کھڑے تھے شاگردوں سے پُوچھنے لگے، ”اِس گدھے کو کیوں کھول رہے ہو؟“
مرقُس 6:11 UCV
شاگردوں نے وُہی کہا جو یِسوعؔ نے اُنہیں کہاتھا، لہٰذا اُنہُوں نے شاگردوں کو جانے دیا۔
مرقُس 7:11 UCV
تَب وہ گدھے کے بچّے کو یِسوعؔ کے پاس لایٔے اَور اَپنے کپڑے اُس پر ڈال دئیے، اَور وہ اُس پر سوارہوگئے۔
مرقُس 8:11 UCV
کیٔی لوگوں نے راستے میں، اَپنے کپڑے بچھا دئیے اَور بعض نے درختوں سے ہری ڈالیاں کاٹ کر پھیلا دیں۔
مرقُس 9:11 UCV
لوگ جو یِسوعؔ کے آگے آگے اَور پیچھے پیچھے چل رہے تھے، نعرے لگانے لگے، ”ہوشعنا!“ ”مُبارک ہے وہ جو خُداوؔند کے نام سے آتا ہے!“
مرقُس 10:11 UCV
”مُبارک ہے ہمارے باپ داویؔد کی بادشاہی جو قائِم ہونے والی ہے!“ ”عالمِ بالا پر ہوشعنا!“
مرقُس 12:11 UCV
اگلے دِن جَب وہ بیت عنیّاہ سے نکل رہے تھے، تو یِسوعؔ کو بھُوک لگی۔
مرقُس 13:11 UCV
دُور سے اَنجیر کا ایک سرسبز درخت دیکھ کر، وہ اُس کے پاس گیٔے تاکہ دیکھیں کہ اُس میں پھل لگے ہیں یا نہیں۔ درخت کے نزدیک جا کر، اُنہیں صِرف پتّے ہی پتّے نظر آئے، کیونکہ اَنجیر کے پھل کا موسم ابھی شروع نہیں ہُوا تھا۔
مرقُس 14:11 UCV
تَب اُنہُوں نے درخت سے کہا، ”آئندہ تُجھ سے کویٔی شخص کبھی پھل نہ کھائے۔“ اُن کی یہ بات شاگردوں نے بھی سُنی۔





