مرقُس 1:10, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8, 9, 11, 12, 13, 14, 15, 16, 17, 18, 19, 20, 21, 22, 23, 24, 25, 26, 27, 28, 29, 30, 31
مرقُس 1:10 UCV
یِسوعؔ وہاں سے روانہ ہوکر دریائے یردنؔ کے پار یہُودیؔہ کے علاقہ میں گیٔے۔ وہاں بھی بے شُمار لوگ اُن کے پاس جمع ہو گئے، اَور آپ اَپنے دستور کے مُطابق، اُنہیں تعلیم دینے لگے۔
مرقُس 2:10 UCV
فرِیسی فرقہ کے بعض لوگ اُن کے پاس آئے اَور اُنہیں آزمائے کی غرض سے پُوچھنے لگے، ”کیا آدمی کا اَپنی بیوی کو چھوڑ دینا جائز ہے؟“
مرقُس 3:10 UCV
حُضُور نے جَواب میں فرمایا، ”اِس بابت حضرت مَوشہ نے تُمہیں کیا حُکم دیا ہے؟“
مرقُس 4:10 UCV
فریسیوں نے جَواب دیا، ”حضرت مَوشہ نے تُو یہ اِجازت دی ہے کہ آدمی طلاق نامہ لِکھ کر اُسے چھوڑ سَکتا ہے۔“
مرقُس 5:10 UCV
یِسوعؔ نے اُن کو جَواب دیا، ”حضرت مَوشہ نے تمہاری سخت دِلی کی وجہ سے یہ حُکم دیا تھا۔
مرقُس 6:10 UCV
لیکن تخلیق کی شروعات ہی سے خُدا نے اُنہیں ’مَرد اَور عورت بنایا ہے۔‘
مرقُس 7:10 UCV
’یہی وجہ ہے کہ مَرد اَپنے باپ اَور ماں سے جُدا ہوکر اَپنی بیوی کے ساتھ مِلا رہے گا،
مرقُس 8:10 UCV
اَور وہ دونوں ایک جِسم ہوں گے۔‘ چنانچہ وہ اَب دو نہیں، بَلکہ ایک جِسم ہیں۔
مرقُس 9:10 UCV
پس جنہیں خُدا نے جوڑا ہے، اُنہیں کویٔی اِنسان جُدا نہ کرے۔“
مرقُس 11:10 UCV
یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”اگر کویٔی آدمی اَپنی بیوی کو چھوڑ دے اَور دُوسری عورت کر لے تو وہ اَپنی پہلی بیوی کے خِلاف زنا کرتا ہے۔
مرقُس 12:10 UCV
اَور اِسی طرح اگر کویٔی عورت اَپنے شوہر کو چھوڑکر، کسی دُوسرے آدمی سے شادی کر لے تو وہ بھی زنا کرتی ہے۔“
مرقُس 13:10 UCV
پھر بعض لوگ بچّوں کو حُضُور کے پاس لانے لگے تاکہ وہ اُن پر ہاتھ رکھیں، لیکن شاگردوں نے اُنہیں جِھڑک دیا۔
مرقُس 14:10 UCV
جَب یِسوعؔ نے یہ دیکھا تو خفا ہوتے ہویٔے اُن سے فرمایا، ”بچّوں کو میرے پاس آنے دو، اُنہیں منع نہ کرو، کیونکہ خُدا کی بادشاہی اَیسوں ہی کی ہے۔
مرقُس 15:10 UCV
میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو کویٔی خُدا کی بادشاہی کو بچّے کی طرح قبُول نہ کرے تو وہ اُس میں ہرگز داخل نہ ہوگا۔“
مرقُس 16:10 UCV
پھر اُنہُوں نے بچّوں کو گود میں لیا، اَور اُن پر ہاتھ رکھ کر اُنہیں برکت دی۔
مرقُس 17:10 UCV
یِسوعؔ گھر سے نکل کر باہر جا رہے تھے، راستہ میں ایک آدمی دَوڑتا ہُوا آیا اَور اُن کے سامنے گھُٹنے ٹیک کر پُوچھنے لگا، ”اَے نیک اُستاد، اَبدی زندگی کا وارِث بننے کے لیٔے میں کیا کروں؟“
مرقُس 18:10 UCV
یِسوعؔ نے جَواب دیا، ”تو مُجھے نیک کیوں کہتاہے؟ نیک صِرف ایک ہی ہے یعنی خُدا۔
مرقُس 19:10 UCV
تُم حُکموں کو تو جانتے ہو: ’تُم زنا نہ کرنا، خُون نہ کرنا، چوری نہ کرنا، جھُوٹی گواہی نہ دینا، اَپنے باپ اَور ماں کی عزّت کرنا۔‘“
مرقُس 20:10 UCV
اُس نے صفائی پیش کی، ”اُستاد محترم، اِن سَب اَحکام پر میں بچپن ہی سے عَمل کرتا آ رہا ہُوں۔“
مرقُس 21:10 UCV
یِسوعؔ نے اُسے بغور دیکھا اَور اُس پر ترس آیا اَور فرمایا۔ ”تمہارا ایک بات پر عَمل کرنا ابھی باقی ہے، جاؤ، اَپنا سَب کُچھ فروخت کرکے اَور وہ رقم غریبوں میں تقسیم کر دو، تو تُمہیں آسمان پر خزانہ ملے گا۔ پھر آکر، میرے پیچھے ہو لینا۔“
مرقُس 22:10 UCV
یہ بات سُن کر اُس آدمی کے چہرہ پر اُداسی چھاگئی۔ اَور وہ غمگین ہوکر چلا گیا، کیونکہ وہ بہت دولتمند تھا۔
مرقُس 23:10 UCV
تَب یِسوعؔ نے لوگوں پر نظر کی اَور اَپنے شاگردوں سے یُوں مُخاطِب ہویٔے، ”دولتمند کا خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونا کتنا مُشکل ہے!“
مرقُس 24:10 UCV
یہ سُن کر شاگرد حیران رہ گیٔے۔ لہٰذا یِسوعؔ نے پھر فرمایا، ”بچّوں، جو دولت پر توکّل کرتے ہیں اُن کا خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونا کِتنا مُشکل ہے!
مرقُس 25:10 UCV
اُونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا زِیادہ آسان ہے بہ نِسبت ایک دولتمند آدمی کا خُدا کی بادشاہی میں داخل ہو جانا۔“
مرقُس 26:10 UCV
شاگرد نہایت ہی حیران ہویٔے، اَور ایک دُوسرے سے کہنے لگے، ”پھر کون نَجات پا سَکتا ہے؟“
مرقُس 27:10 UCV
یِسوعؔ نے اُن کی طرف دیکھ کر فرمایا، ”یہ اِنسانوں کے لیٔے تو ناممکن ہے، لیکن خُدا کے لیٔے نہیں؛ کیونکہ خُدا کے لیٔے سَب کُچھ ممکن ہے۔“
مرقُس 28:10 UCV
پطرس اُن سے کہنے لگے، ”دیکھئے ہم تو سَب کُچھ چھوڑکر آپ کے پیچھے ہو لیٔے ہیں!“
مرقُس 29:10 UCV
یِسوعؔ نے فرمایا، ”میں تُم سے سچ کہتا ہُوں، اَیسا کویٔی نہیں جِس نے میری اَور انجیل کی خاطِر اَپنے گھر یا بھائیوں یا بہنوں یا ماں یا باپ یا بچّوں یا کھیتوں کو چھوڑ دیا ہے۔
مرقُس 30:10 UCV
وہ اِس دُنیا میں رنج اَور مُصیبت کے باوُجُود گھر، بھایٔی، بہنیں، مائیں، بچّے اَور کھیت سَو گُنا زِیادہ پائیں گے اَور آنے والی دُنیا میں اَبدی زندگی۔
مرقُس 31:10 UCV
لیکن بہت سے جو اوّل ہیں آخِر ہو جایٔیں گے اَورجو آخِر ہیں، وہ اوّل۔“





