مرقُس 14:1, 15, 16, 17, 18, 19, 20, 21, 22, 23, 24, 25, 26, 27, 28, 29, 30, 31, 32, 33, 34, 35, 36, 37, 38, 39, 40, 41, 42, 43, 44, 45
مرقُس 14:1 UCV
حضرت یُوحنّا کو قَید کیٔے جانے کے بعد، یِسوعؔ صُوبہ گلِیل میں آئے، اَور خُدا کی خُوشخبری سُنانے لگے۔
مرقُس 15:1 UCV
اَور آپ نے فرمایا، وقت آ پہُنچا ہے، اَور ”خُدا کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے۔ تَوبہ کرو اَور خُوشخبری پر ایمان لاؤ۔“
مرقُس 16:1 UCV
صُوبہ گلِیل کی جھیل کے کنارے جاتے ہویٔے، یِسوعؔ نے شمعُونؔ اَور اُن کے بھایٔی اَندریاسؔ کو دیکھا یہ دونوں اُس وقت جھیل میں جال ڈال رہے تھے، کیونکہ اُن کا پیشہ ہی مچھلی پکڑناتھا۔
مرقُس 17:1 UCV
یِسوعؔ نے اُن سے فرمایا، ”میرے، پیچھے چلے آؤ، تو میں تُمہیں آدمؔ گیر بناؤں گا۔“
مرقُس 18:1 UCV
وہ اُسی وقت اَپنے جال چھوڑکر آپ کے ہمنوا ہوکر پیچھے ہو لیٔے۔
مرقُس 19:1 UCV
تھوڑا آگے جا کر، آپ نے زبدیؔ کے بیٹے یعقوب اَور اُن کے بھایٔی یُوحنّا کو دیکھا دونوں کشتی میں جالوں کی مرمّت کر رہے تھے۔
مرقُس 20:1 UCV
آپ نے اُنہیں دیکھتے ہی بُلایا وہ اَپنے باپ، زبدیؔ کو کشتی میں مزدُوروں کے ساتھ چھوڑکر حُضُور کے پیچھے چل دئیے۔
مرقُس 21:1 UCV
وہ سَب کَفرنحُومؔ، میں داخل ہویٔے، اَور سَبت کے دِن یِسوعؔ یہُودی عبادت گاہ میں گیٔے اَور تعلیم دینی شروع کی۔
مرقُس 22:1 UCV
یِسوعؔ کی تعلیم سُن کر لوگ دنگ رہ گیٔے، کیونکہ حُضُور اُنہیں شَریعت کے عالِموں کی طرح نہیں، لیکن ایک صاحبِ اِختیار کی طرح تعلیم دے رہے تھے۔
مرقُس 23:1 UCV
اُس وقت یہُودی عبادت گاہ میں ایک شخص تھا، جِس میں بدرُوح تھی، وہ چِلّانے لگا،
مرقُس 24:1 UCV
”اَے یِسوعؔ ناصری، آپ کو ہم سے کیا کام؟ کیا آپ ہمیں ہلاک کرنے آئے ہیں؟ میں جانتا ہُوں کہ آپ کون ہیں؟ آپ ہی خُدا کے قُدُّوس ہیں!“
مرقُس 25:1 UCV
یِسوعؔ نے بدرُوح کو جِھڑکا اَور کہا، ”خاموش ہو جا!“ اَور اِس آدمی میں سے، ”نکل جا!“
مرقُس 26:1 UCV
تَب ہی اِن بدرُوح نے اُس آدمی کو خُوب مروڑا اَور بڑے زور سے چیخ مار کر اُس میں سے نکل گئی۔
مرقُس 27:1 UCV
سَب لوگ اِتنے حیران ہوکر ایک دُوسرے سے کہنے لگے، ”یہ کیا ہو رہاہے؟ یہ تو نئی تعلیم ہے! یہ تو بدرُوحوں کو بھی اِختیار کے ساتھ حُکم دیتے ہیں اَور بدرُوحیں بھی یِسوعؔ کا حُکم مانتی ہیں۔“
مرقُس 28:1 UCV
یِسوعؔ کی شہرت بڑی تیزی سے صُوبہ گلِیل کے اطراف میں پھیل گئی۔
مرقُس 29:1 UCV
یہُودی عبادت گاہ سے باہر نکلتے ہی وہ یعقوب اَور یُوحنّا کے ساتھ سیدھے شمعُونؔ اَور اَندریاسؔ کے گھر گیٔے۔
مرقُس 30:1 UCV
اُس وقت شمعُونؔ کی ساس تیز بُخار میں مُبتلا تھیں، دیر کیٔے بغیر آپ کو اُس کے بارے میں بتایا۔
مرقُس 31:1 UCV
یِسوعؔ نے پاس جا کر شمعُونؔ کی ساس کا ہاتھ پکڑا اَور اُنہیں اُٹھایا، اُن کا بُخار اُسی دَم اُتر گیا اَور وہ اُن کی خدمت میں لگ گئیں۔
مرقُس 32:1 UCV
شام کے وقت سُورج ڈُوبتے ہی لوگ وہاں کے سَب مَریضوں کو اَور اُنہیں جِن میں بدرُوحیں تھیں، یِسوعؔ کے پاس لانے لگے۔
مرقُس 34:1 UCV
یِسوعؔ نے بہت سے لوگوں کو اُن کی مُختلف بیماریوں سے شفا بخشی۔ اَور بہت سِی بدرُوحوں کو نکالا، مگر آپ بدرُوحوں کو بولنے نہ دیتے تھے کیونکہ بدرُوحیں اُن کو پہچانتی تھیں۔
مرقُس 35:1 UCV
اگلے دِن صُبح سویرے جَب کہ اَندھیرا ہی تھا، یِسوعؔ اُٹھے، اَور گھر سے باہر ایک ویران جگہ میں جا کر، دعا کرنے لگے۔
مرقُس 37:1 UCV
جَب آپ اُنہیں مِل گئے، تو وہ سَب کہنے لگے، ”سبھی آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں!“
مرقُس 38:1 UCV
یِسوعؔ نے کہا، ”آؤ! ہم کہیں اَور آس پاس کے قصبوں میں چلیں تاکہ میں وہاں بھی مُنادی کروں کیونکہ مَیں اِسی مقصد کے لیٔے نِکلا ہُوں۔“
مرقُس 39:1 UCV
چنانچہ وہ سارے صُوبہ گلِیل، میں، گھُوم پھر کر اُن کے یہُودی عبادت گاہوں میں مُنادی کرتے رہے اَور بدرُوحوں کو نکالتے رہے۔
مرقُس 40:1 UCV
ایک کوڑھی یِسوعؔ کے پاس آیا اَور گھُٹنے ٹیک کر آپ سے مِنّت کرنے لگا، ”اگر آپ چاہیں تو مُجھے کوڑھ سے پاک کر سکتے ہیں۔“
مرقُس 41:1 UCV
یِسوعؔ نے اُس کوڑھی پر ترس کھا کر اَپنا ہاتھ بڑھا کر اُسے چھُوا اَور فرمایا، ”میں چاہتا ہُوں، تُم پاک صَاف ہو جاؤ!“
مرقُس 43:1 UCV
یِسوعؔ نے اُسے فوراً وہاں سے سخت تنبیہ کرتے ہویٔے رخصت کیا،
مرقُس 44:1 UCV
”خبردار اِس کا ذِکر، کسی سے نہ کرنا۔ بَلکہ سیدھے کاہِنؔ کے پاس جا کر، اَپنے آپ کو دِکھاؤ اَور اَپنے ساتھ وہ نذریں بھی لے جانا جو حضرت مَوشہ نے مُقرّر کی ہیں تاکہ سَب پر گواہی ہو، جائے کہ تُم پاک ہو گئے ہو۔“
مرقُس 45:1 UCV
لیکن وہ وہاں سے نکل کر ہر کسی سے اِس بات کااِتنا، چَرچا کرنے لگا۔ آئندہ، یِسوعؔ کسی شہر میں ظاہری طور پر داخل نہ ہو سکے بَلکہ شہر سے باہر ویران جگہوں میں رہنے لگے۔ اَور پھر بھی لوگ ہر جگہ سے آپ کے پاس آتے رہتے تھے۔





