YouVersion Logo
Search Icon

لُوقا 40:8, 41, 42, 43, 44, 45, 46, 47, 48, 49, 50, 51, 52, 53, 54, 55, 56

لُوقا 40:8 UCV

جَب یِسوعؔ واپس آئے تو ایک بڑا ہُجوم آپ کے اِستِقبال کو مَوجُود تھا کیونکہ سَب لوگ اُن کے مُنتظر تھے۔

لُوقا 41:8 UCV

مقامی یہُودی عبادت گاہ کا ایک رہنما جِس کا نام یائیرؔ تھا، آیا اَور یِسوعؔ کے قدموں پر گِر کر اُن کی مِنّت کرنے لگاکہ وہ اُس کے گھر چلیں

لُوقا 42:8 UCV

کیونکہ اُس کی بَارہ بَرس کی اِکلوتی بیٹی موت کے بِستر پر پڑی تھی۔ جَب وہ جا رہاتھا تو لوگ اُس پر گِرے پڑتے تھے۔

لُوقا 43:8 UCV

ایک خاتُون تھی جِس کے بَارہ بَرس سے خُون جاری تھا، وہ کیٔی طبیبوں سے علاج کراتے کراتے اَپنی ساری پُونجی لُٹا چُکی تھی لیکن کسی کے ہاتھ سے شفا نہ پا سکی تھی۔

لُوقا 44:8 UCV

اُس نے پیچھے سے یِسوعؔ کے پاس آکر یِسوعؔ کی پوشاک کا کنارہ چھُوا اَور اُسی وقت اُس کا خُون بہنا بندہو گیا۔

لُوقا 45:8 UCV

اِس پر یِسوعؔ نے کہا، ”مُجھے کس نے چھُوا ہے؟“ جَب سَب اِنکار کرنے لگے تو پطرس نے کہا، ”اَے آقا! لوگ ایک دُوسرے کو دھکیل دھکیل کر تُجھ پر گِرے پڑتے ہیں۔“

لُوقا 46:8 UCV

لیکن یِسوعؔ نے کہا، ”کسی نے مُجھے ضروُر چھُوا ہے؛ کیونکہ مُجھے پتہ ہے کہ مُجھ میں سے قُوّت نکلی ہے۔“

لُوقا 47:8 UCV

وہ عورت یہ دیکھ کر کہ وہ یِسوعؔ سے چھِپ نہیں سکتی، کانپتی ہویٔی سامنے آئی اَور اُن کے قدموں میں گِر پڑی۔ لوگوں کے سامنے بتانے لگی کہ اُس نے کس غرض سے یِسوعؔ کو چھُوا تھا اَور وہ کس طرح چھُوتے ہی شفایاب ہو گئی تھی۔

لُوقا 48:8 UCV

یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”بیٹی! تمہارے ایمان نے تُمہیں شفا بخشی۔ سلامتی کے ساتھ رخصت ہو!“

لُوقا 49:8 UCV

وہ یہ کہنے بھی نہ پایٔے تھے کہ یہُودی عبادت گاہ کے رہنما یائیرؔ کے گھر سے کسی نے آکر کہا، ”تیری بیٹی مَر چُکی ہے، اَب اُستاد کو مزید تکلیف نہ دیں۔“

لُوقا 50:8 UCV

لیکن یہ سُن کر یِسوعؔ نے یائیرؔ سے کہا، ”ڈر مت؛ صِرف ایمان رکھ، وہ بچ جائے گی۔“

لُوقا 51:8 UCV

جَب وہ یائیرؔ کے گھر میں داخل ہویٔے تو یِسوعؔ نے پطرس، یُوحنّا اَور یعقوب اَور لڑکی کے والدین کے سِوا کسی اَور کو اَندر نہ جانے دیا۔

لُوقا 52:8 UCV

سَب لوگ لڑکی کے لیٔے رو پیٹ رہے تھے۔ لیکن یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”رونا پیٹنا بند کرو، لڑکی مَری نہیں بَلکہ سَو رہی ہے۔“

لُوقا 53:8 UCV

اِس پر وہ یِسوعؔ کی ہنسی اُڑانے لگے کیونکہ اُنہیں مَعلُوم تھا کہ لڑکی مَر چُکی ہے۔

لُوقا 54:8 UCV

لیکن حُضُور نے لڑکی کا ہاتھ پکڑکر کہا، ”میری بیٹی اُٹھ!“

لُوقا 55:8 UCV

اُس کی رُوح لَوٹ آئی اَور وہ فوراً اُٹھ بیٹھی اَور اُنہُوں نے حُکم دیا کہ لڑکی کو کُچھ کھانے کو دیا جائے۔

لُوقا 56:8 UCV

اُس لڑکی کے والدین حیران رہ گیٔے۔ یِسوعؔ نے اُنہیں تاکید کی کہ جو کُچھ ہُواہے اُس کا ذِکر کسی سے نہ کرنا۔

Free Reading Plans and Devotionals related to لُوقا 40:8, 41, 42, 43, 44, 45, 46, 47, 48, 49, 50, 51, 52, 53, 54, 55, 56