لُوقا 1:6, 2, 3, 4, 5, 7, 8, 9, 10, 11, 12, 13, 14, 15, 16
لُوقا 1:6 UCV
ایک بار یِسوعؔ سَبت کے دِن کھیتوں میں سے ہوکر گزر رہے تھے، اَور اُن کے شاگرد بالیں توڑ کر، ہاتھوں سے مَل مَل کر کھاتے جاتے تھے۔
لُوقا 2:6 UCV
اِس پر بعض فریسیوں نے سوال کیا، ”تُم اَیسا کام کیوں کرتے ہو جو سَبت کے دِن کرنا جائز نہیں؟“
لُوقا 3:6 UCV
یِسوعؔ نے اُنہیں جَواب دیا، ”کیا تُم نے کبھی نہیں پڑھا کہ جَب حضرت داویؔد اَور اُن کے ساتھی بھُوکے تھے تو اُنہُوں نے کیا کیا؟
لُوقا 4:6 UCV
حضرت داویؔد کیسے خُدا کے گھر میں داخل ہویٔے اَور نذر کی ہویٔی روٹیاں لے کر، خُود بھی کھایٔیں اَور اَپنے ساتھیوں کو بھی یہ روٹیاں کھانے کو دیں جسے کاہِنوں کے سِوائے کسی اَور کے لیٔے روا نہیں تھا۔“
لُوقا 5:6 UCV
پھر یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”اِبن آدمؔ سَبت کا بھی خُداوؔند ہے۔“
لُوقا 7:6 UCV
شَریعت کے عالِم اَور فرِیسی یِسوعؔ کی تاک میں تھے اِس لیٔے حُضُور کو قریب سے دیکھنے لگے کہ اگر حُضُور سَبت کے دِن اُس آدمی کو شفا بخشیں تو فرِیسی حُضُور پر اِلزام لگاسکیں۔
لُوقا 8:6 UCV
لیکن یِسوعؔ کو اُن کے خیالات مَعلُوم ہو گئے اَور اُس سُوکھے ہاتھ والے آدمی سے کہا، ”اُٹھو اَور سَب کے بیچ میں کھڑے ہو جاؤ۔“ وہ اُٹھا اَور کھڑا ہو گیا۔
لُوقا 9:6 UCV
تَب یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”میں تُم سے یہ پُوچھتا ہُوں: سَبت کے دِن نیکی کرنا روا ہے یا بدی کرنا، جان بچانا یا ہلاک کرنا؟“
لُوقا 10:6 UCV
اَور حُضُور نے اُن سَب پر نظر کرکے، اُس آدمی سے کہا، ”اَپنا ہاتھ بڑھا۔“ اُس نے بڑھایا اَور اُس کا ہاتھ بالکُل ٹھیک ہو گیا۔
لُوقا 11:6 UCV
لیکن شَریعت کے عالِم اَور فرِیسی غُصّہ کے مارے پاگل ہو گئے اَور آپَس میں کہنے لگے کہ ہم یِسوعؔ کے ساتھ کیا کریں۔
لُوقا 12:6 UCV
اُن دِنوں میں اَیسا ہُوا کہ یِسوعؔ دعا کرنے کے لیٔے ایک پہاڑ پر چلے گیٔے اَور خُدا سے دعا کرنے میں ساری رات گُزاری۔
لُوقا 13:6 UCV
جَب دِن نِکلا تو، حُضُور نے اَپنے شاگردوں کو پاس بُلایا اَور اُن میں سے بَارہ کو چُن کر، اُنہیں رسولوں کا لقب دیا
لُوقا 14:6 UCV
شمعُونؔ جِس کا نام اُنہُوں نے پطرس بھی رکھا اَور اُن کا بھایٔی اَندریاسؔ، اَور یعقوب، اَور یُوحنّا، اَور فِلِپُّسؔ، اَور برتلماؔئی،
لُوقا 15:6 UCV
اَور متّیؔ، اَور توماؔ، اَور حلفئؔی کے بیٹے یعقوب، اَور شمعُونؔ جو زیلوتیسؔ کہلاتا تھا،
لُوقا 16:6 UCV
اَور یعقوب کا بیٹا یہُوداہؔ، اَور یہُوداہؔ اِسکریوتی، جِس نے یِسوعؔ سے دغابازی بھی کی تھی۔





