لُوقا 17:5, 18, 19, 20, 21, 22, 23, 24, 25, 26, 27, 28, 29, 30, 31, 32, 33, 34, 35, 36, 37, 38, 39
لُوقا 17:5 UCV
ایک دِن اَیسا ہُوا کہ یِسوعؔ تعلیم دے رہے تھے اَور کُچھ فرِیسی اَور شَریعت کے عالِم جو گلِیل اَور یہُودیؔہ کے ہر قصبہ اَور یروشلیمؔ سے آکر وہاں بیٹھے ہُوئے تھے۔ اَور خُداوؔند کی قُدرت یِسوعؔ کے ساتھ تھی کہ وہ بیماریوں کو شفا دیں۔
لُوقا 18:5 UCV
کُچھ لوگ ایک مفلُوج کو بچھونے پر ڈال کر لایٔے اَور کوشش کرنے لگے کہ اُسے اَندر لے جا کر یِسوعؔ کے سامنے رکھ دیں۔
لُوقا 19:5 UCV
لیکن ہُجوم اِس قدر تھا کہ وہ اُسے اَندر نہ لے جا سکے۔ تَب وہ چھت پر چڑھ گیٔے اَور کھپریل ہٹا کر مفلُوج کو چارپائی سمیت لوگوں کے بیچ میں یِسوعؔ کے سامنے اُتار دیا۔
لُوقا 20:5 UCV
آپ نے اُن کا ایمان دیکھ کر کہا، ”دوست! تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے۔“
لُوقا 21:5 UCV
شَریعت کے عالِم اَور فرِیسی سوچنے لگے، ”یہ آدمی کون ہے جو کُفر بَکتا ہے۔ خُدا کے سِوا کون گُناہ مُعاف کر سَکتا ہے؟“
لُوقا 22:5 UCV
یِسوعؔ کو اُن کے خیالات مَعلُوم ہو گئے کی ”وہ اَپنے دِلوں میں کیا سوچ رہے ہیں؟ تَب آپ نے جَواب میں اُن سے پُوچھا، تُم اَپنے دِلوں میں اَیسی باتیں کیوں سوچتے ہو؟
لُوقا 23:5 UCV
یہ کہنا زِیادہ آسان ہے: ’تیرے گُناہ مُعاف ہُوئے،‘ یا ’یہ کہنا کہ اُٹھ اَور چل پھر‘؟
لُوقا 24:5 UCV
لیکن مَیں چاہتا ہُوں کہ تُمہیں مَعلُوم ہو کہ اِبن آدمؔ کو زمین پر گُناہ مُعاف کرنے کا اِختیار ہے۔“ حُضُور نے مفلُوج سے کہا، ”مَیں تُجھ سے کہتا ہُوں، اُٹھ اَور اَپنا بچھونا اُٹھاکر اَپنے گھر چلا جا۔“
لُوقا 25:5 UCV
وہ اُن کے سامنے اُسی وقت اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اَور جِس بچھونے پر وہ پڑا تھا اُسے اُٹھاکر خُدا کی تمجید کرتا ہُوا اَپنے گھر چلا گیا۔
لُوقا 26:5 UCV
وہ سَب حیران رہ گیٔے اَور خُدا کی تمجید کرنے لگے۔ اَور سَب پر خوف طاری ہو گیا اَور وہ کہنے لگے، ”کہ آج ہم نے عجِیب باتیں دیکھی ہیں۔“
لُوقا 27:5 UCV
اِن واقعات کے بعد یِسوعؔ وہاں سے نکلے اَور ایک محصُول لینے والے کو جِس کا نام لیوی تھا، محصُول کی چوکی پر بیٹھے دیکھا۔ یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”میرے پیروکار ہو جاؤ۔“
لُوقا 29:5 UCV
پھر لیوی نے اَپنے گھر میں یِسوعؔ کے لیٔے ایک بڑی ضیافت ترتیب دی اَور وہاں محصُول لینے والوں اَور دُوسرے لوگوں کا جو ضیافت میں شریک تھے بڑا مجمع تھا۔
لُوقا 30:5 UCV
لیکن فرِیسی اَور شَریعت کے عالِم جو فرِیسی فرقہ سے تعلّق رکھتے تھے یِسوعؔ کے شاگردوں سے شکایت کرکے کہنے لگے، ”تُم محصُول لینے والوں اَور گُنہگاروں کے ساتھ کیوں کھاتے پیتے ہو؟“
لُوقا 31:5 UCV
یِسوعؔ نے جَواب میں اُن سے کہا، ”بیماریوں کو طبیب کی ضروُرت ہوتی ہے، صحت مندوں کو نہیں۔
لُوقا 32:5 UCV
میں راستبازوں کو نہیں بَلکہ گُنہگاروں کو تَوبہ کرنے کے لیٔے بُلانے آیا ہُوں۔“
لُوقا 33:5 UCV
فرِیسی اَور شَریعت کے عالِموں نے یِسوعؔ سے کہا، ”حضرت یُوحنّا کے شاگرد تو اکثر روزہ رکھتے اَور دعائیں کرتے ہیں اَور اِسی طرح فریسیوں کے بھی لیکن آپ کے شاگرد تو کھاتے پیتے رہتے ہیں؟“
لُوقا 34:5 UCV
یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”کیا تُم دُلہا کی مَوجُودگی میں؛ براتیِوں سے روزہ رکھوا سکتے ہو ہرگز نہیں۔
لُوقا 35:5 UCV
لیکن وہ دِن آئیں گے جَب دُلہا اُن سے جُدا کیا جائے گا؛ تَب اُن دِنوں میں وہ روزہ رکھیں گے۔“
لُوقا 36:5 UCV
اَور یِسوعؔ نے اُن سے یہ تمثیل بھی کہی: ”نئی پوشاک کو پھاڑ کر اُس کا پیوند پُرانی پوشاک پر کویٔی نہیں لگاتا ورنہ، نئی بھی پھٹے گی اَور اُس کا پیوند پُرانی پوشاک سے میل بھی نہ کھائے گا۔
لُوقا 37:5 UCV
تازہ انگوری شِیرے کو بھی پُرانی مَشکوں میں کویٔی نہیں بھرتا ورنہ، مَشکیں اُس نئے انگوری شِیرے سے پھٹ جایٔیں گی، شِیرہ بھی بہہ جائے گا اَور مَشکیں بھی برباد ہو جایٔیں گی۔
لُوقا 39:5 UCV
پُرانا شِیرہ پی کر نئے کی خواہش کویٔی نہیں کرتا، کیونکہ وہ کہتاہے کہ ’پُرانی ہی خُوب ہے۔‘ “


![[Who's Your One? Series] Through the Roof لُوقا 17:5, 18, 19, 20, 21, 22, 23, 24, 25, 26, 27, 28, 29, 30, 31, 32, 33, 34, 35, 36, 37, 38, 39 اُردو ہم عصر ترجُمہ](/_next/image?url=https%3A%2F%2Fimageproxy.youversionapi.com%2Fhttps%3A%2F%2Fs3.amazonaws.com%2Fyvplans%2F19303%2F1440x810.jpg&w=3840&q=75)


