لُوقا 1:24, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8, 9, 10, 11, 12, 13, 14, 15, 16, 17, 18, 19, 20, 21, 22, 23, 25, 26, 27, 28, 29, 30, 31, 32, 33, 34, 35
لُوقا 1:24 UCV
ہفتہ کے پہلے دِن یعنی اتوار، کے صُبح سویرے، بعض عورتیں خُوشبودار مَسالے جو اُنہُوں نے تیّار کیٔے تھے، اَپنے ساتھ لے کر قبر پر آئیں۔
لُوقا 2:24 UCV
لیکن اُنہُوں نے پتّھر کو قبر کے مُنہ سے لُڑھکا ہُوا پایا،
لُوقا 3:24 UCV
لیکن جَب وہ اَندر گئیں تو اُنہیں خُداوؔند یِسوعؔ کی لاش نہ مِلی۔
لُوقا 4:24 UCV
جَب وہ اِس بارے میں حیرت میں مُبتلا تھیں تو اَچانک دو شخص بجلی کی طرح چمکدار لباس میں اُن کے پاس آ کھڑے ہُوئے۔
لُوقا 5:24 UCV
وہ خوفزدہ ہو گئیں اَور اَپنے سَر زمین کی طرف جھُکا دئیے، لیکن اُنہُوں نے اُن سے کہا، ”تُم زندہ کو مُردوں میں کیوں ڈھونڈتی ہو؟
لُوقا 6:24 UCV
یِسوعؔ یہاں نہیں ہیں؛ بَلکہ وہ جی اُٹھے ہیں! تُمہیں یاد نہیں، کہ جَب وہ گلِیل میں تمہارے ساتھ تھے تو اُنہُوں نے تُم سے کہاتھا
لُوقا 7:24 UCV
’اِبن آدمؔ کو گُنہگاروں کے حوالہ کیاجانا، صلیب پر مصلُوب ہونا اَور تیسرے دِن پھر سے جی اُٹھنا ضروُری ہے۔‘ “
لُوقا 9:24 UCV
جَب وہ خواتین قبر سے واپس آئیں، تو گیارہ رسولوں اَور باقی سَب شاگردوں کو ساری باتیں بَیان کر دیں۔
لُوقا 10:24 UCV
مریمؔ مَگدلِینیؔ، یوأنّہؔ، اَور یعقوب کی ماں مریمؔ، اَور اُن کے ساتھ کیٔی دُوسری عورتیں تھیں، جنہوں نے رسولوں کو اِن باتوں کی خبر دی تھی۔
لُوقا 11:24 UCV
لیکن اُنہُوں نے عورتوں کا یقین نہ کیا، کیونکہ اُن کی باتیں اُنہیں فُضول سِی لگیں۔
لُوقا 12:24 UCV
مگر پطرس اُٹھے، اَور قبر کی طرف دَوڑے۔ وہاں پطرس نے جُھک کر اَندر دیکھا، تو اُنہیں صِرف خالی کفن کے کپڑے پڑے ہُوئے نظر آئے، اَور وہ تعجُّب کرتے ہُوئے کہ کیا ہو گیا ہے، وہاں سے چلےگئے۔
لُوقا 13:24 UCV
پھر اَیسا ہُوا کہ اُن میں سے دو شاگرد اُسی دِن اِماؤسؔ نام کے ایک گاؤں کی طرف جا رہے تھے جو یروشلیمؔ سے گیارہ کِلو مِیٹر کی دُوری پر تھا
لُوقا 14:24 UCV
وہ آپَس میں اُن واقعات کے بارے میں باتیں کرتے جا رہے تھے جو ہویٔیں تھیں۔
لُوقا 15:24 UCV
جَب وہ باتوں میں مشغُول تھے اَور آپَس میں بحث کر رہے تھے، تو یِسوعؔ خُود ہی نزدیک آکر اُن کے ساتھ ساتھ چلنے لگے؛
لُوقا 16:24 UCV
لیکن وہ حُضُور کو پہچان نہ پایٔے کیونکہ اُن کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہُوا تھا۔
لُوقا 17:24 UCV
یِسوعؔ نے اُن سے پُوچھا، ”تُم لوگ آپَس میں کیا بحث کرتے ہویٔے جا رہے ہو؟“ وہ یہ سُن کر خاموش مایوس سا چہرا لٹکایٔے کھڑے ہو گیٔے۔
لُوقا 18:24 UCV
تَب اُن میں سے ایک جِس کا نام کِلیُپاسؔ تھا، آپ سے پُوچھا، ”کیا یروشلیمؔ میں اکیلا تُو ہی اجنبی ہے جو یہ بھی نہیں جانتا کہ اِن دِنوں شہر میں کیا کیا ہُواہے؟“
لُوقا 19:24 UCV
آپ نے اُن سے پُوچھا، ”کیا ہُواہے؟“ اُنہُوں نے جَواب دیا، ”یِسوعؔ ناصری کا واقعہ، وہ ایک نبی تھے۔ جنہیں کام اَور کلام کے باعث خُدا کی نظر میں اَور سارے لوگوں کے نزدیک بڑی قُدرت حاصل تھی۔
لُوقا 20:24 UCV
اَور ہمارے اہم کاہِنوں اَور حاکموں نے حُضُور کو قتل کرنے کا فرمان جاری کرایا، اَور حُضُور کو صلیب پر مصلُوب کر دیا؛
لُوقا 21:24 UCV
لیکن ہمیں تُو یہ اُمّید تھی کہ یہی وہ شخص ہے جو اِسرائیل کو مخلصی عطا کرنے والا ہے اَور اِس کے علاوہ اِن واقعات کو ہُوئے آج تیسرا دِن ہے۔
لُوقا 22:24 UCV
اِس کے علاوہ، ہمارے گِروہ کی چند عورتوں نے ہمیں حیرت میں ڈال دیا ہے جو آج صُبح سویرے اُن کی قبر پر گئی تھیں،
لُوقا 23:24 UCV
لیکن اُنہیں یِسوعؔ کی لاش نہ مِلی۔ اُنہُوں نے لَوٹ کر ہمیں بتایا کہ اُنہُوں نے فرشتوں کو دیکھا اَور فرشتوں نے اُنہیں بتایا کہ یِسوعؔ زندہ ہو گئے ہیں۔
لُوقا 25:24 UCV
یِسوعؔ نے اُن سے کہا، ”تُم کتنے نادان، اَور نبیوں کی بتایٔی ہویٔی باتوں کو یقین کرنے میں کتنے سُست ہو!
لُوقا 26:24 UCV
کیا المسیح کے لیٔے ضروُری نہ تھا کہ وہ اَذیتّوں کو برداشت کرتا اَور پھر اَپنے جلال میں داخل ہوتا؟“
لُوقا 27:24 UCV
اَور آپ نے حضرت مَوشہ سے لے کر سارے نبیوں کی باتیں جو آپ کے بارے میں کِتاب مُقدّس میں درج تھیں، اُنہیں سمجھا دیں۔
لُوقا 28:24 UCV
اِتنے میں وہ اُس گاؤں کے نزدیک پہُنچے جہاں اُنہیں جانا تھا، لیکن یِسوعؔ کے چلنے کے ڈھنگ سے اَیسا مَعلُوم ہُوا گویا وہ اَور آگے جانا چاہتے ہیں۔
لُوقا 29:24 UCV
لیکن اُنہُوں نے حُضُور کو یہ کہہ کر مجبُور کیا، ”کہ ہمارے پاس رُک جایٔیں، کیونکہ دِن تقریباً ڈھل چُکاہے؛ اَور شام ہونے والی ہے؛ پس وہ اُن کے ساتھ ٹھہرنے کے لیٔے اَندر چلے گیٔے۔“
لُوقا 30:24 UCV
جَب وہ اُن کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھے، تو آپ نے روٹی لی، اَور شُکر کرکے توڑا، اَور اُنہیں دینے لگے۔
لُوقا 31:24 UCV
تَب اُن کی آنکھیں کھُل گئیں اَور اُنہُوں نے حُضُور کو پہچان لیا، اَور یِسوعؔ اُن کی نظروں سے غائب ہو گیٔے۔
لُوقا 32:24 UCV
اُنہُوں نے آپَس میں کہا، ”کیا ہمارے دِل جوش سے نہیں بھر گیٔے تھے جَب وہ راستے میں ہم سے باتیں کر رہے تھے اَور ہمیں کِتاب مُقدّس سے باتیں سمجھا رہے تھے۔“
لُوقا 33:24 UCV
تَب وہ اُسی گھڑی اُٹھے اَور یروشلیمؔ واپس آئے۔ جہاں اُنہُوں نے گیارہ رسولوں اَور اُن کے ساتھیوں کو ایک جگہ اِکٹھّے پایا،
لُوقا 34:24 UCV
وہ کہہ رہے تھے، ”خُداوؔند سچ مُچ مُردوں میں سے جی اُٹھے ہیں! اَور شمعُونؔ کو دِکھائی دئیے ہیں۔“
لُوقا 35:24 UCV
تَب اُن دونوں نے راستے کی ساری باتیں بَیان کیں، اَور یہ بھی کہ اُنہُوں نے کس طرح یِسوعؔ کو روٹی توڑتے وقت پہچانا تھا۔





