YouVersion Logo
Search Icon

لُوقا 25:2, 26, 27, 28, 29, 30, 31, 32, 33, 34, 35, 36, 37, 38, 39, 40, 41, 42, 43, 44, 45, 46, 47, 48, 49, 50, 51, 52

لُوقا 25:2 UCV

اُس وقت یروشلیمؔ میں ایک آدمی تھا جِس کا نام شمعُونؔ تھا۔ وہ راستباز اَور خُداپرست تھا۔ وہ اِسرائیل کے تسلّی پانے کی راہ دیکھ رہاتھا اَور پاک رُوح اُس پر تھا۔

لُوقا 26:2 UCV

پاک رُوح نے اُس پر نازل کر دیا تھا کہ جَب تک وہ خُداوؔند کے المسیح کو دیکھ نہ لے گا، مَرے گا نہیں۔

لُوقا 27:2 UCV

وہ رُوح کی ہدایت سے بیت المُقدّس میں آیا اَور جَب یِسوعؔ کے والدین اُسے اَندر لایٔے تاکہ شَریعت کے فرائض اَنجام دیں

لُوقا 28:2 UCV

تو شمعُونؔ نے اُسے گود میں لے لیا اَور خُدا کی حَمد کرکے کہنے لگا

لُوقا 29:2 UCV

”اَے خُداوؔند! تُو اَپنے وعدہ کے مُطابق، اَب اَپنے خادِم کو سلامتی سے رخصت کر۔

لُوقا 30:2 UCV

کیونکہ میری آنکھوں نے تیری نَجات کو دیکھ لیا ہے،

لُوقا 31:2 UCV

جسے آپ نے ساری اُمّتوں کے سامنے تیّار کیا ہے

لُوقا 32:2 UCV

وہ غَیریہُودیوں کے لیٔے مُکاشفہ کا نُور اَور تمہاری اُمّت اِسرائیل کا جلال ہے۔“

لُوقا 33:2 UCV

اَور بچّے کے ماں باپ اِن باتوں کو جو اُس کے بارے میں کہی جا رہی تھیں، تعجُّب سے سُن رہے تھے۔

لُوقا 34:2 UCV

تَب شمعُونؔ نے اُنہیں برکت دی اَور اُس کی ماں مریمؔ سے کہا: ”دیکھ! یہ طے ہو چُکاہے کہ یہ بچّہ اِسرائیل میں بہت سے لوگوں کے زوال اَور عروج کا باعث ہوگا اَور اَیسا نِشان بنے گا جِس کی مُخالفت کی جائے گی۔

لُوقا 35:2 UCV

تاکہ بہت سے دِلوں کے اَندیشے ظاہر ہو جایٔیں اَور غم کی تلوار تیری جان کو بھی چھید ڈالے گی۔“

لُوقا 36:2 UCV

وہاں ایک عورت بھی تھی جو نبیّہ تھی۔ اُس کا نام حنّاؔ تھا۔ وہ آشؔر کے قبیلہ کے ایک شخص فنوایلؔ کی بیٹی تھی۔ وہ بڑی عمر رسیدہ تھی اَور اَپنی شادی کے بعد سات سال تک اَپنے شوہر کے ساتھ رہی تھی۔

لُوقا 37:2 UCV

اَب وہ بِیوہ تھی اَور چَوراسی بَرس کی ہو چُکی تھی۔ وہ بیت المُقدّس سے جُدا نہ ہوتی تھی بَلکہ رات دِن روزوں اَور دعاؤں کے ساتھ عبادت میں لگی رہتی تھی۔

لُوقا 38:2 UCV

اُس وقت وہ بھی وہاں آکر خُدا کا شُکر اَدا کرنے لگی اَور اُن سَب سے جو یروشلیمؔ کی مخلصی کے مُنتظر تھے، اُس بچّے کے بارے میں گُفتگو کرنے لگی۔

لُوقا 39:2 UCV

جَب یُوسیفؔ اَور مریمؔ خُداوؔند کی شَریعت کے مُطابق سارے کام اَنجام دے چُکے تو گلِیل میں اَپنے شہر ناصرتؔ کو لَوٹ گیٔے۔

لُوقا 40:2 UCV

اَور وہ بچّہ بڑھتا اَور قُوّت پاتا گیا اَور حِکمت سے معموُر؛ ہوتا گیا اَور خُدا کا فضل اُس پر تھا۔

لُوقا 41:2 UCV

اُس کے والدین ہر سال عیدِفسح کے لیٔے یروشلیمؔ جایا کرتے تھے۔

لُوقا 42:2 UCV

جَب وہ بَارہ بَرس کا ہو گیا تو وہ عید کے دستور کے مُطابق یروشلیمؔ گیٔے۔

لُوقا 43:2 UCV

جَب عید کے دِن گزر گئے تو اُس کے والدین واپس آئے لیکن لڑکا یِسوعؔ یروشلیمؔ میں ہی ٹھہرگیا لیکن اُس کے والدین کو اِس بات کی خبر نہ تھی۔

لُوقا 44:2 UCV

اُن کا خیال تھا کہ وہ قافلہ کے ساتھ ہے۔ لہٰذا وہ ایک مَنزل آگے نکل گیٔے اَور اُسے اَپنے رشتہ داروں اَور دوستوں میں ڈھونڈنے لگے۔

لُوقا 45:2 UCV

جَب وہ اُنہیں نہیں مِلا تو اُس کی جُستُجو میں یروشلیمؔ واپس آئے۔

لُوقا 46:2 UCV

تین دِن کے بعد اُنہُوں نے اُسے بیت المُقدّس کے اَندر اُستادوں کے درمیان بیٹھے ہُوئے اُن کی سُنتے اَور اُن سے سوال کرتے پایا۔

لُوقا 47:2 UCV

اَورجو لوگ اُن کی باتیں سُن رہے تھے وہ اُن کی ذہانت اَور اُس کے جَوابوں پر حیرت زدہ تھے۔

لُوقا 48:2 UCV

جَب اُن کے والدین نے اُنہیں دیکھا تو اُنہیں حیرت ہویٔی۔ اُن کی ماں نے اُن سے پُوچھا، ”بیٹا، تُونے ہم سے اَیسا سلُوک کیوں کیا؟ تیرے اَبّا اَور مَیں تُجھے ڈھونڈتے ہویٔے پریشان ہو گئے تھے۔“

لُوقا 49:2 UCV

یِسوعؔ نے پُوچھا، ”آپ لوگ مُجھے کیوں ڈھونڈتے پھرتے تھے؟ کیا آپ لوگوں کو مَعلُوم نہ تھا کہ مُجھے اَپنے باپ کے گھر میں ہونا ضروُری ہے؟“

لُوقا 50:2 UCV

لیکن وہ سمجھ نہ پایٔے کہ وہ اُن سے کیا کہہ رہاہے۔

لُوقا 51:2 UCV

تَب وہ اُن کے ساتھ روانہ ہوکر ناصرتؔ میں آیا اَور اُن کے تابع رہا اَور اُس کی ماں نے یہ ساری باتیں اَپنے دِل میں رکھیں۔

لُوقا 52:2 UCV

اَور یِسوعؔ حِکمت اَور قد وقامت میں بڑھتے اَور خُدا اَور اِنسان کی نظر میں مقبُول ہوتے چلے گیٔے۔

Free Reading Plans and Devotionals related to لُوقا 25:2, 26, 27, 28, 29, 30, 31, 32, 33, 34, 35, 36, 37, 38, 39, 40, 41, 42, 43, 44, 45, 46, 47, 48, 49, 50, 51, 52