لُوقا 25:10, 26, 27, 28, 29, 30, 31, 32, 33, 34, 35, 36, 37, 38, 39, 40, 41, 42
لُوقا 25:10 UCV
تَب ایک شَریعت کا عالِم اُٹھا اَور یِسوعؔ کو آزمانے کی غرض سے کہنے لگا۔ اَے اُستاد، ”مُجھے اَبدی زندگی کا وارِث بننے کے لیٔے کیا کرنا ہوگا؟“
لُوقا 26:10 UCV
یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”شَریعت میں کیا لِکھّا ہے؟ تُم اُسے کس طرح پڑھتے ہو؟“
لُوقا 27:10 UCV
اُس نے جَواب دیا، ” ’خُداوؔند اَپنے خُدا سے اَپنے سارے دِل اَور اَپنی ساری جان اَور اَپنی ساری طاقت اَور اَپنی ساری عقل سے مَحَبّت رکھو‘ اَور ’اَپنے پڑوسی سے اَپنی مانِند مَحَبّت رکھنا۔‘“
لُوقا 28:10 UCV
یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”تُونے ٹھیک جَواب دیا ہے۔ یہی کر تو تُو زندہ رہے گا۔“
لُوقا 29:10 UCV
مگر اُس نے اَپنی راستبازی جتانے کی غرض سے، یِسوعؔ سے پُوچھا، ”میرا پڑوسی کون ہے؟“
لُوقا 30:10 UCV
یِسوعؔ نے جَواب میں کہا: ”ایک آدمی یروشلیمؔ سے یریحوؔ جا رہاتھا کہ ڈاکوؤں کے ہاتھوں میں جا پڑا۔ اُنہُوں نے اُس کے کپڑے اُتار لیٔے، اُسے مارا پِیٹا اَور زخمی کر دیا اَور ادھ مُوأ چھوڑکر چلے گیٔے۔
لُوقا 31:10 UCV
اِتّفاقاً ایک کاہِنؔ اُس راہ سے جا رہاتھا، اُس نے زخمی کو دیکھا، مگر کَترا کرچلاگیا۔
لُوقا 32:10 UCV
اِسی طرح، ایک لیوی، بھی اِدھر آ نِکلا اَور اُسے دیکھ کر، کَترا کرچلاگیا۔
لُوقا 33:10 UCV
پھر ایک سامری، جو سفر کر رہاتھا، وہاں نِکلا؛ زخمی کو دیکھ کر اُسے بڑا ترس آیا۔
لُوقا 34:10 UCV
وہ اُس کے پاس گیا اَور اُس کے زخموں پر تیل اَور انگوری شِیرہ لگا کر اُنہیں باندھا اَور زخمی کو اَپنے گدھا پر بِٹھا کر سرائے میں لے گیا اَور اُس کی تیمار داری کی۔
لُوقا 35:10 UCV
اگلے دِن اُس نے دو دینار نکال کر سرائے کے رکھوالے کو دئیے اَور کہا، ’اِس کی دیکھ بھال کرنا، اَور اگر خرچہ زِیادہ ہُوا تو، میں واپسی پر اَدا کر دُوں گا۔‘
لُوقا 36:10 UCV
”تمہاری نظر میں اِن تینوں میں سے کون اُس شخص کا جو ڈاکوؤں کے ہاتھوں میں جا پڑا تھا، پڑوسی ثابت ہُوا؟“
لُوقا 37:10 UCV
شَریعت کے عالِم نے جَواب دیا، ”وہ جِس نے اُس کے ساتھ ہمدردی کی۔“ یِسوعؔ نے اُس سے کہا، ”جا تُو بھی اَیسا ہی کر۔“
لُوقا 38:10 UCV
یِسوعؔ اَور اُن کے شاگرد چلتے چلتے ایک گاؤں میں پہُنچے، وہاں مرتھاؔ نام کی ایک عورت نے آپ کے لیٔے اَپنے گھر کو کھولا۔
لُوقا 39:10 UCV
اُس کی ایک بہن بھی تھی جِس کا نام مریمؔ تھا، وہ خُداوؔند کے قدموں کے پاس بیٹھ کر اُن کی باتیں سُن رہی تھی۔
لُوقا 40:10 UCV
لیکن مرتھاؔ کام کی زیادتی کی وجہ سے گھبرا گئی اَور یِسوعؔ کے پاس آکر کہنے لگی، ”خُداوؔند! کیا یہ سہی ہے کہ میری بہن خدمت کرنے میں ہاتھ بٹانے کے بجائے یہاں پر بیٹھی ہے اَور مُجھے اکیلا چھوڑ دیا ہے؟ اُس سے کہئے کہ میری مدد کرے!“
لُوقا 41:10 UCV
خُداوؔند نے جَواب میں اُس سے کہا، ”مرتھاؔ! مرتھاؔ! تُو بہت سِی چیزوں کے بارے میں فِکرمند اَور پریشان ہو رہی ہے۔
لُوقا 42:10 UCV
حالانکہ صِرف ایک ہی چیز ہے جِس کے بارے میں فکر کرنے کی ضروُرت ہے۔ اَور مریمؔ نے وہ عُمدہ حِصّہ چُن لیا ہے جو اُس سے کبھی چھینا نہ جائے گا۔“





